خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابانیا قانون
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرقاضی عبد الستار

نیا قانون

از قاضی عبد الستار فروری 5, 2022
از قاضی عبد الستار فروری 5, 2022 0 تبصرے 84 مناظر
85

لکھنو کے سر پر اختر نگر کا تاج رکھا تھا جس کے ہیرے کمہلانے اور موتی سنولانے لگے تھے۔ آہستہ خرام گومتی امام باڑہ آصفی کے چرن چھوکر آگے بڑھی تو ریزیڈنسی کے سامنے جیسے ٹھٹک کر کھڑی ہوگئی۔ موجوں نے بے قراری سےسر اٹھااٹھاکر دیکھا لیکن پہچاننے سے عاجز رہیں کہ ریزیڈنسی نواب ریزیڈنٹ بہادر کی کوٹھی کے بجائے انگریزوں کی چھاونی معلوم ہو رہی تھی۔ تمام برجوں اور فرازوں پر توپیں چڑھیں ہوئی تھیں۔ راؤٹیوں اور گمزیوں کا پورا جنگل لہلہا رہا تھا۔ حصا رپر انگریز سواروں اور پیدلوں کا ہجوم تھا۔ دونوں پھاٹکوں کے دونوں دروں پربندوقیں تنی ہوئی تھیں۔

پھر راہ چلتوں نے دیکھا کہ قیصر باغ کی طرف سے آنے والی سڑک حیدری پلٹن کے سواروں سے جگمگانے لگی جن کی وردیاں دولہا کے لباسوں کی طرح بھڑکدار اور ہتھیار دولہن کے زیوروں کی طرح چمکدار تھے۔ ریزیڈنسی کے جنوبی پھاٹک پر چھلبل کرتے سواروں کے پردے سے وزیر اعظم نواب علی نقی خاں اور وکیل السلطنت موتمن الدولہ کے بوچے برآمدہوئے جن کے درمیان دس پندرہ سواروں کے اردل کا حجاب تھا اور سامنے انگریز سپاہیوں کے ہتھیاروں کی دیواریں کھڑی تھیں۔ دیر کے انتظار کے بعد افسرالتشریفات نے آکر ان سواریوں سے اتارا اور اپنے اردل کے حلقے میں پیادہ پیش دامان تک لے گیا جس کی سیڑھیوں پر سر سے پاؤں تک اپچی بنےہوئے گارڈز کا دستہ کھڑا تھاجیسے زینت کے لیے مجسمے نصب کردیے گیے ہوں۔

کشتی دار تکیوں کی آبنوسی کرسی پر وہ دونوں پڑے سوکھتے رہے۔ اپنے ذاتی محافظ رسالے کے متعلق سوچتے رہے جو پھاٹک پر روک لیا گیا تھا اور مغربی دروازے سے داخل ہونے والی توپوں کی گڑگڑاہٹ سنتے رہے۔ پھر فوجی افسروں کے جھرمٹ میں وہ ریزیڈنٹ کی اسٹڈی میں باریاب ہوئے۔ ریزیڈنٹ بہادر اسی طرح کرسی پر پڑے رہے۔ ابرو کے اشارے پر وزیر اعظم اور وکیل السلطنت اس طرح بیٹھ گیے جیسے وہ ریزیڈنٹ کی اسٹڈی میں نہیں واجد علی شاہ کے دربار میں کرسی نشینی سے سرفراز کیے گیے ہوں۔ تامل کے بعد صاحب بہادر نے اپنے پہلو میں کھڑے ہوئے میر منشی صلابت علی کو سرکی جنبش سے اشارہ کیا اورمیر منشی ایک خریطہ کھول کر پڑھنے لگا اور جب اس کے منھ سے یہ فقرہ ادا ہوا، ’’کمپنی بہادر نے پچاس لاکھ سالانہ کے وظیفے کے عوض میں سلطنت کا الحاق کرلیا۔‘‘ تو وکیل السلطنت کہ سپاہی بچہ تھا ہرچند کہ سپہ گری کے سبق بھول چکا تھا تاہم نیزے کی طرح تن کر کھڑا ہوگیا۔

’’یہ ناممکن ہے۔‘‘

ریزیڈنٹ نے کھڑے ہوکر اسے گھورا۔ ایک ایک لفظ کو توڑ کراداکیا، ’’یہ گورنر جنرل بہادر کاحکم ہے اور ٹم کو اس دستاویز پر دتخط کرنا ہیں۔‘‘ ریزیڈنٹ کا لہجہ جلادکی تلوارکی طرح بے امان تھا اور اس کے لفظوں میں بارود کے بگولوں کا اشتعال تھا۔

’’یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔‘‘ دونوں کے منھ سے ایک ساتھ نکلا۔جواب میں صاحب بہادر نے کمر سے کرچ کھول کر میز پر ڈال دی۔وکیل السلطنت نےاس بھانڈ وزیر اعظم کو دیکھا جس کی انگلیاں طبلے کی سنگت کی عادت کی جگالی کر رہی تھیں اور اس نےخود اپنی آواز سنی۔اس کا فیصلہ تو آج سے بہت پہلے بکسر کے میدان میں ہوچکا ہے تاہم اتنے بڑے حکم کی تعمیل کے لیے کم از کم دس دن کی مہلت۔

’’نائیں ممکن نائیں۔‘‘

’’تین ہی دن بخش دیے جائیں۔‘‘

’’نائیں۔۔۔ چوبیس گھنٹے کے بعد عمل درآمدشروع ہوجائے گا۔‘‘

اور وکیل السلطنت کا تھر تھراتا ہوا ہاتھ قلمدان کی طرف بڑھنے لگا۔

وزیر اعظم نے قیصر باغ کے شمالی پھاٹک کی طرف مڑتےہوئے سواری کے آئینے میں دیکھ لیا کہ موتمن الدولہ کا بوچہ روشن الدولہ کی کوٹھی کی طرف مڑ رہا ہے۔ نوبت خانے پر دوسری نوبت بج رہی تھی اور لال بارہ دری کے باب عالی پر چتر طوغ کھڑا جہاں پناہ کی موجودگی کا اعلان کر رہا تھا۔ وزیر اعظم نے دوسری ڈیوڑھی پر خان ساماں داروغہ معتبر علی خاں کی کمر سے تلوار کھول کر ہاتھ میں لے لی او رتیسری ڈیوڑھی کے گھونگھٹ پر گلے میں پہن لی اور حاضر دربار ہوکر ہاتھ باندھ لیے۔ بادشاہ پنچ گوشیہ تاج پہنےجواہرات میں ڈھکا ہوا سونےکے تخت پر بیٹھا تھا اور مشہور زمانہ سازندوں کے فن کار ہاتھوں سے غنا کے بادل برس رہے تھے اور سدھے ہوئے، سجےہوئے، کڑھے ہوئے گوشت پوست کی زندہ بجلیاں تڑپ رہی تھیں۔ ایک بار نگاہ اٹھی تو وزیراعظم تسلیمات پیش کر رہا تھا۔ چلتےہوئے ہاتھ کے برابر تلوار جھول رہی تھی۔ بادشاہ کا ہاتھ اٹھا اور سازوں اور مضرابوں اور گھنگھرووں تک کی سانس رک گئی اور دوسری جنبش پر سارا ہال خالی ہوگیا جیسے صبح کا آسمان۔

’’کیا ہے؟‘‘

غلام نواب ریزیڈنٹ بہادر کی کوٹھی سے آرہا ہے۔

شاہ منزل کی پہلی سیڑھی پر قیصری پلٹن کے رسالدار کے ہاتھ سے بندوق لے لی۔ معائنہ کرتےرہے پھر نواب علی نقی خاں وزیر اعظم کو اس طرح دیکھا کہ نگاہیں اس کے پار ہوگئیں۔یہ بندوق جلد بھرنے اور فیر کرنے میں انگریز کی بندوق سے بدرجہا بہتر ہے لیکن اس کے چلانے والے کندھے غدار اور انگلیاں نمک حرام ہیں اورایک ایک سیڑھی اس طرح چڑھی جیسے ایک ایک دنیا پیچھے چھوڑ آئے ہوں۔

چاندی کے ستونوں پر لاجوردی زربفت کا شامیانہ کھڑا تھا۔ اس کے وسط میں مرصع نمگیرے کے سائے میں چھتر شاہی کے نیچے تخت سلطانی کے بائیں جانب موتمن الدولہ سلطنت کے دوسرے دولاؤں کے ساتھ مغرور بے نیازی سے کھڑا تھا۔ تحت کے قریب پہنچنے پر ریزیڈنٹ نے اس طرح سلامی دی جیسے بازاری آدمی اترے کوتوال کو سلام کرتے ہیں۔ اس کے سرخ کوٹ کے شانوں پر زری کے جھبے جھول رہے تھے۔ پتلے جھبے کے سفید اونچےگول ہیٹ میں جڑاؤ کلفی لگی تھی اور کمر میں لگی لانبی سیدھی تلوار سرخ چرمی ساق پوش کے تھپکیاں دے رہی تھی، بادشاہ نےتخت پر بیٹھے ہی ریزیڈنٹ کو مخاطب کیا۔

’’اب ریزیڈنٹ بہادر کو ایسی لڑائی دکھلائیں گے جس کی نظیر دنیا کا کوئی دربار پیش نہیں کرسکتا۔‘‘

اشارہ ملتے ہی سیمیں کٹہرے کے بازوؤں پر کھڑے ہوئے چوبداروں نے جھنڈے ہلادیے اور نیچے دریا کے اس پار منوں باغوں اور جنگلوں کے پورے علاقے میں ہلچل سی مچ گئی۔ تھوڑی ہی دیر میں شمالی اور جنوبی گوشوں سے ڈھولوں کے پٹنے، ہانکنے والوں کے للکار نے، سیکڑوں برچھیوں کے کڑکنے کا طوفان مچ گیا۔ لوہے کی جالیوں اور تول کے پردوں کے عظیم الجثہ مستطیل کٹھرے کے شمالی دروازے پر ایک دیو پیکر چھکڑا ڈھکیلتا ہوا لایا گیا۔ دروازہ کھلتے ہی ایک غیر معمولی طور پر سفید اونچا اور بھاری گھوڑا نتہائی غضبناکی سے ہنہناتا ہواداخل ہوا۔ کبھی ہاتھوں سے زمین کھرچتا کبھی پیروں پر کھڑا ہوکر پورے جسم سے تڑپتا۔ اس کی کنوتیوں سے چنگاریاں اور نتھنوں سے شعلے نکل رہے تھے اور اس کی جولانیوں کی مار سے پورا کٹہرہ ہل رہا تھا مگر جنوبی دروازہ بھی کھل گیا اور دوسرے چھکڑے سے ایک شیر اندر داخل ہوا۔ گرجتا دہاڑتا کٹہرے کے وسط تک جاکر تھما۔ ساتھ ہی یکساں آوازوں کا یکمشت گولہ اس پر گرپڑا اور وہ بھڑک کر اٹھااور ستے ہوئے بدن سے اڑکر گھوڑے پر گرا۔

گھوڑے نے پوری مشاقی سے اپنے اگلے بدن کو سمیٹ کر اتنا کاری وارکیا کہ شیر کا چہرہ بگڑ گیا۔ پورا کٹہرہ اس عجیب وغریب اور بھیاونی لڑائی سےاتھل پتھل تھا اور گردوباد کے بادلوں میں ڈوبتے اور ابھرتے جانور ایک دوسرے کی قضا کی طرح ایک دوسرے پر مسلط تھے کہ ہزاروں آنکھوں کے سامنے شیر نے پیٹھ دکھائی اور اپنے چھکڑے سے پناہ مانگی اور فاتح گھوڑا کاوے کاٹ رہا تھا۔ چیخ چیخ کر اپنی فتح کااعلان کر رہاتھا اور دونوں ہاتھوں سے مٹی اڑا رہا تھاکہ بہت سے برچھیت اپنے برچھوں میں دھڑدھڑاتی مشعلیں جلائے اور کمنداندازوں کا دستہ اپنی کمندیں کھولے لپکا اور گھوڑے کو گرفتارکرنے کے جتن کرنے لگا۔

بادشاہ ابھی ریزیڈنٹ کا چہرہ پڑھ رہا تھا کہ عقب کا پردہ اٹھا۔ زہرہ بدن اور ثریا لباس کنیزیں نقل کی کشتیاں اور شراب کی صراحیاں اٹھائے نرت کرتی حاضر ہوئیں۔ ریزیڈنٹ کا سر ابھی داد میں ہل رہاتھا۔ اس کی (ایک؟)آنکھ سے حیرت اور دوسری سے بے اعتباری ٹپک رہی تھی کہ بادشاہ نے مخاطب کیا۔

’’جانوروں میں شیر بادشاہ ہوتا ہےاور گھوڑا تاجر۔۔۔ مشاہدہ ہے کہ شیروں کے مصاحب لکڑبگھے اور بھیڑیے تک گھوڑوں کاشکار کرلیتے ہیں لیکن جب دنیا پرانی ہوجاتی ہے تو نئی دنیا کے لیے نئے قانون وضع ہوتے ہیں اور اب زمانہ آگیا ہے کہ تاجر گھوڑا بادشاہ شیروں پر غالب ہوتا جائے گا کہ آج یہی قانون قدرت ہے۔‘‘

اور ریزیڈنٹ نے اپنا گلاس اٹھالیا۔

قاضی عبد الستار

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اکیسویں صدی کا عشق
  • آرزوئے یار ہے , آ کر ملو
  • سوال کیسا ، جواب کیسا
  • محو حیرت ہوں کہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
قاضی عبد الستار

اگلی پوسٹ
رضو باجی
پچھلی پوسٹ
نومی

متعلقہ پوسٹس

جنس اور شادی کی نفسیات

اپریل 16, 2020

ہارتا چلا گیا

مئی 16, 2015

ملبے کا ڈھیر

جنوری 16, 2020

بہت کی ہے میں نے بھی بخت آزمائی

جنوری 1, 2023

بنے ہیں کام سب اُلجھن سے میرے

جون 12, 2020

تجھ کو فرصت سے سوچتا ہے کوٸی

دسمبر 20, 2022

فلم “ہجرت” کا تھیم ہیں ہم لوگ

مئی 28, 2020

اب اور کہنے کی ضرورت نہیں

نومبر 15, 2019

رمضان ٹرانسمیشن یا ریٹنگ کا کھیل؟

فروری 26, 2026

محبت، روح اور بنکاک – پانچ سال بعد

جنوری 1, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

آگہی کرب ہے

نومبر 9, 2025

ذرا سی روشنی

مارچ 4, 2025

خاموش عورت

فروری 2, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں