خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابانیا قانون
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرقاضی عبد الستار

نیا قانون

از قاضی عبد الستار فروری 5, 2022
از قاضی عبد الستار فروری 5, 2022 0 تبصرے 116 مناظر
117

لکھنو کے سر پر اختر نگر کا تاج رکھا تھا جس کے ہیرے کمہلانے اور موتی سنولانے لگے تھے۔ آہستہ خرام گومتی امام باڑہ آصفی کے چرن چھوکر آگے بڑھی تو ریزیڈنسی کے سامنے جیسے ٹھٹک کر کھڑی ہوگئی۔ موجوں نے بے قراری سےسر اٹھااٹھاکر دیکھا لیکن پہچاننے سے عاجز رہیں کہ ریزیڈنسی نواب ریزیڈنٹ بہادر کی کوٹھی کے بجائے انگریزوں کی چھاونی معلوم ہو رہی تھی۔ تمام برجوں اور فرازوں پر توپیں چڑھیں ہوئی تھیں۔ راؤٹیوں اور گمزیوں کا پورا جنگل لہلہا رہا تھا۔ حصا رپر انگریز سواروں اور پیدلوں کا ہجوم تھا۔ دونوں پھاٹکوں کے دونوں دروں پربندوقیں تنی ہوئی تھیں۔

پھر راہ چلتوں نے دیکھا کہ قیصر باغ کی طرف سے آنے والی سڑک حیدری پلٹن کے سواروں سے جگمگانے لگی جن کی وردیاں دولہا کے لباسوں کی طرح بھڑکدار اور ہتھیار دولہن کے زیوروں کی طرح چمکدار تھے۔ ریزیڈنسی کے جنوبی پھاٹک پر چھلبل کرتے سواروں کے پردے سے وزیر اعظم نواب علی نقی خاں اور وکیل السلطنت موتمن الدولہ کے بوچے برآمدہوئے جن کے درمیان دس پندرہ سواروں کے اردل کا حجاب تھا اور سامنے انگریز سپاہیوں کے ہتھیاروں کی دیواریں کھڑی تھیں۔ دیر کے انتظار کے بعد افسرالتشریفات نے آکر ان سواریوں سے اتارا اور اپنے اردل کے حلقے میں پیادہ پیش دامان تک لے گیا جس کی سیڑھیوں پر سر سے پاؤں تک اپچی بنےہوئے گارڈز کا دستہ کھڑا تھاجیسے زینت کے لیے مجسمے نصب کردیے گیے ہوں۔

کشتی دار تکیوں کی آبنوسی کرسی پر وہ دونوں پڑے سوکھتے رہے۔ اپنے ذاتی محافظ رسالے کے متعلق سوچتے رہے جو پھاٹک پر روک لیا گیا تھا اور مغربی دروازے سے داخل ہونے والی توپوں کی گڑگڑاہٹ سنتے رہے۔ پھر فوجی افسروں کے جھرمٹ میں وہ ریزیڈنٹ کی اسٹڈی میں باریاب ہوئے۔ ریزیڈنٹ بہادر اسی طرح کرسی پر پڑے رہے۔ ابرو کے اشارے پر وزیر اعظم اور وکیل السلطنت اس طرح بیٹھ گیے جیسے وہ ریزیڈنٹ کی اسٹڈی میں نہیں واجد علی شاہ کے دربار میں کرسی نشینی سے سرفراز کیے گیے ہوں۔ تامل کے بعد صاحب بہادر نے اپنے پہلو میں کھڑے ہوئے میر منشی صلابت علی کو سرکی جنبش سے اشارہ کیا اورمیر منشی ایک خریطہ کھول کر پڑھنے لگا اور جب اس کے منھ سے یہ فقرہ ادا ہوا، ’’کمپنی بہادر نے پچاس لاکھ سالانہ کے وظیفے کے عوض میں سلطنت کا الحاق کرلیا۔‘‘ تو وکیل السلطنت کہ سپاہی بچہ تھا ہرچند کہ سپہ گری کے سبق بھول چکا تھا تاہم نیزے کی طرح تن کر کھڑا ہوگیا۔

’’یہ ناممکن ہے۔‘‘

ریزیڈنٹ نے کھڑے ہوکر اسے گھورا۔ ایک ایک لفظ کو توڑ کراداکیا، ’’یہ گورنر جنرل بہادر کاحکم ہے اور ٹم کو اس دستاویز پر دتخط کرنا ہیں۔‘‘ ریزیڈنٹ کا لہجہ جلادکی تلوارکی طرح بے امان تھا اور اس کے لفظوں میں بارود کے بگولوں کا اشتعال تھا۔

’’یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔‘‘ دونوں کے منھ سے ایک ساتھ نکلا۔جواب میں صاحب بہادر نے کمر سے کرچ کھول کر میز پر ڈال دی۔وکیل السلطنت نےاس بھانڈ وزیر اعظم کو دیکھا جس کی انگلیاں طبلے کی سنگت کی عادت کی جگالی کر رہی تھیں اور اس نےخود اپنی آواز سنی۔اس کا فیصلہ تو آج سے بہت پہلے بکسر کے میدان میں ہوچکا ہے تاہم اتنے بڑے حکم کی تعمیل کے لیے کم از کم دس دن کی مہلت۔

’’نائیں ممکن نائیں۔‘‘

’’تین ہی دن بخش دیے جائیں۔‘‘

’’نائیں۔۔۔ چوبیس گھنٹے کے بعد عمل درآمدشروع ہوجائے گا۔‘‘

اور وکیل السلطنت کا تھر تھراتا ہوا ہاتھ قلمدان کی طرف بڑھنے لگا۔

وزیر اعظم نے قیصر باغ کے شمالی پھاٹک کی طرف مڑتےہوئے سواری کے آئینے میں دیکھ لیا کہ موتمن الدولہ کا بوچہ روشن الدولہ کی کوٹھی کی طرف مڑ رہا ہے۔ نوبت خانے پر دوسری نوبت بج رہی تھی اور لال بارہ دری کے باب عالی پر چتر طوغ کھڑا جہاں پناہ کی موجودگی کا اعلان کر رہا تھا۔ وزیر اعظم نے دوسری ڈیوڑھی پر خان ساماں داروغہ معتبر علی خاں کی کمر سے تلوار کھول کر ہاتھ میں لے لی او رتیسری ڈیوڑھی کے گھونگھٹ پر گلے میں پہن لی اور حاضر دربار ہوکر ہاتھ باندھ لیے۔ بادشاہ پنچ گوشیہ تاج پہنےجواہرات میں ڈھکا ہوا سونےکے تخت پر بیٹھا تھا اور مشہور زمانہ سازندوں کے فن کار ہاتھوں سے غنا کے بادل برس رہے تھے اور سدھے ہوئے، سجےہوئے، کڑھے ہوئے گوشت پوست کی زندہ بجلیاں تڑپ رہی تھیں۔ ایک بار نگاہ اٹھی تو وزیراعظم تسلیمات پیش کر رہا تھا۔ چلتےہوئے ہاتھ کے برابر تلوار جھول رہی تھی۔ بادشاہ کا ہاتھ اٹھا اور سازوں اور مضرابوں اور گھنگھرووں تک کی سانس رک گئی اور دوسری جنبش پر سارا ہال خالی ہوگیا جیسے صبح کا آسمان۔

’’کیا ہے؟‘‘

غلام نواب ریزیڈنٹ بہادر کی کوٹھی سے آرہا ہے۔

شاہ منزل کی پہلی سیڑھی پر قیصری پلٹن کے رسالدار کے ہاتھ سے بندوق لے لی۔ معائنہ کرتےرہے پھر نواب علی نقی خاں وزیر اعظم کو اس طرح دیکھا کہ نگاہیں اس کے پار ہوگئیں۔یہ بندوق جلد بھرنے اور فیر کرنے میں انگریز کی بندوق سے بدرجہا بہتر ہے لیکن اس کے چلانے والے کندھے غدار اور انگلیاں نمک حرام ہیں اورایک ایک سیڑھی اس طرح چڑھی جیسے ایک ایک دنیا پیچھے چھوڑ آئے ہوں۔

چاندی کے ستونوں پر لاجوردی زربفت کا شامیانہ کھڑا تھا۔ اس کے وسط میں مرصع نمگیرے کے سائے میں چھتر شاہی کے نیچے تخت سلطانی کے بائیں جانب موتمن الدولہ سلطنت کے دوسرے دولاؤں کے ساتھ مغرور بے نیازی سے کھڑا تھا۔ تحت کے قریب پہنچنے پر ریزیڈنٹ نے اس طرح سلامی دی جیسے بازاری آدمی اترے کوتوال کو سلام کرتے ہیں۔ اس کے سرخ کوٹ کے شانوں پر زری کے جھبے جھول رہے تھے۔ پتلے جھبے کے سفید اونچےگول ہیٹ میں جڑاؤ کلفی لگی تھی اور کمر میں لگی لانبی سیدھی تلوار سرخ چرمی ساق پوش کے تھپکیاں دے رہی تھی، بادشاہ نےتخت پر بیٹھے ہی ریزیڈنٹ کو مخاطب کیا۔

’’اب ریزیڈنٹ بہادر کو ایسی لڑائی دکھلائیں گے جس کی نظیر دنیا کا کوئی دربار پیش نہیں کرسکتا۔‘‘

اشارہ ملتے ہی سیمیں کٹہرے کے بازوؤں پر کھڑے ہوئے چوبداروں نے جھنڈے ہلادیے اور نیچے دریا کے اس پار منوں باغوں اور جنگلوں کے پورے علاقے میں ہلچل سی مچ گئی۔ تھوڑی ہی دیر میں شمالی اور جنوبی گوشوں سے ڈھولوں کے پٹنے، ہانکنے والوں کے للکار نے، سیکڑوں برچھیوں کے کڑکنے کا طوفان مچ گیا۔ لوہے کی جالیوں اور تول کے پردوں کے عظیم الجثہ مستطیل کٹھرے کے شمالی دروازے پر ایک دیو پیکر چھکڑا ڈھکیلتا ہوا لایا گیا۔ دروازہ کھلتے ہی ایک غیر معمولی طور پر سفید اونچا اور بھاری گھوڑا نتہائی غضبناکی سے ہنہناتا ہواداخل ہوا۔ کبھی ہاتھوں سے زمین کھرچتا کبھی پیروں پر کھڑا ہوکر پورے جسم سے تڑپتا۔ اس کی کنوتیوں سے چنگاریاں اور نتھنوں سے شعلے نکل رہے تھے اور اس کی جولانیوں کی مار سے پورا کٹہرہ ہل رہا تھا مگر جنوبی دروازہ بھی کھل گیا اور دوسرے چھکڑے سے ایک شیر اندر داخل ہوا۔ گرجتا دہاڑتا کٹہرے کے وسط تک جاکر تھما۔ ساتھ ہی یکساں آوازوں کا یکمشت گولہ اس پر گرپڑا اور وہ بھڑک کر اٹھااور ستے ہوئے بدن سے اڑکر گھوڑے پر گرا۔

گھوڑے نے پوری مشاقی سے اپنے اگلے بدن کو سمیٹ کر اتنا کاری وارکیا کہ شیر کا چہرہ بگڑ گیا۔ پورا کٹہرہ اس عجیب وغریب اور بھیاونی لڑائی سےاتھل پتھل تھا اور گردوباد کے بادلوں میں ڈوبتے اور ابھرتے جانور ایک دوسرے کی قضا کی طرح ایک دوسرے پر مسلط تھے کہ ہزاروں آنکھوں کے سامنے شیر نے پیٹھ دکھائی اور اپنے چھکڑے سے پناہ مانگی اور فاتح گھوڑا کاوے کاٹ رہا تھا۔ چیخ چیخ کر اپنی فتح کااعلان کر رہاتھا اور دونوں ہاتھوں سے مٹی اڑا رہا تھاکہ بہت سے برچھیت اپنے برچھوں میں دھڑدھڑاتی مشعلیں جلائے اور کمنداندازوں کا دستہ اپنی کمندیں کھولے لپکا اور گھوڑے کو گرفتارکرنے کے جتن کرنے لگا۔

بادشاہ ابھی ریزیڈنٹ کا چہرہ پڑھ رہا تھا کہ عقب کا پردہ اٹھا۔ زہرہ بدن اور ثریا لباس کنیزیں نقل کی کشتیاں اور شراب کی صراحیاں اٹھائے نرت کرتی حاضر ہوئیں۔ ریزیڈنٹ کا سر ابھی داد میں ہل رہاتھا۔ اس کی (ایک؟)آنکھ سے حیرت اور دوسری سے بے اعتباری ٹپک رہی تھی کہ بادشاہ نے مخاطب کیا۔

’’جانوروں میں شیر بادشاہ ہوتا ہےاور گھوڑا تاجر۔۔۔ مشاہدہ ہے کہ شیروں کے مصاحب لکڑبگھے اور بھیڑیے تک گھوڑوں کاشکار کرلیتے ہیں لیکن جب دنیا پرانی ہوجاتی ہے تو نئی دنیا کے لیے نئے قانون وضع ہوتے ہیں اور اب زمانہ آگیا ہے کہ تاجر گھوڑا بادشاہ شیروں پر غالب ہوتا جائے گا کہ آج یہی قانون قدرت ہے۔‘‘

اور ریزیڈنٹ نے اپنا گلاس اٹھالیا۔

قاضی عبد الستار

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مری زندگی میں نہیں مگر
  • وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے!
  • قرآن کا بیانیہ
  • تمہارے ہجر کے ماتم
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
قاضی عبد الستار

اگلی پوسٹ
رضو باجی
پچھلی پوسٹ
نومی

متعلقہ پوسٹس

وسوسہ دل میں پل رہا تھا نا

دسمبر 17, 2021

اس ملک کے رہبر ڈاکو ہیں

جون 4, 2020

دل میں ہماری یاد کو ٹھہراؤ دیکھ کر

نومبر 9, 2025

انڈا، سیاہی اور جوتا

ستمبر 6, 2025

حیرت کا ایک جھٹکا

جنوری 5, 2022

اسلام میں متعدد نکاح

اگست 17, 2025

قومی حکمت عملی کی کمی

ستمبر 8, 2025

تو جہاں رہے وہاں ہر قدم

فروری 25, 2025

مقصد حیات

جون 20, 2024

قرآن مجید میں تقویٰ

فروری 25, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

صاحب کرامت

جنوری 21, 2020

وہ تو میرے پاس ہے مرے...

اپریل 15, 2020

چلو یہ مان لو چراغ تم...

نومبر 14, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں