خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامایک نئے استعمار کا خاموش سفر
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمدثر عباس

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

از سائیٹ ایڈمن اگست 28, 2026
از سائیٹ ایڈمن اگست 28, 2026 0 تبصرے 15 مناظر
16

​انسانی تاریخ مختلف فکری، سماجی اور معاشی منازل کے ارتقاء کا نام ہے۔ ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں یہ ایک طرف فکری آزادیوں کا دعوے دار ہے تو دوسری طرف نادیدہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ اسی پیچیدہ اور تہہ در تہہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج چارسدہ کے شعبۂ اردو کی جانب سے منعقدہ علمی نشست بعنوان "مابعد جدید بیانیہ اور مشرقیت” میں نہایت فکر انگیز مباحثے سامنے آئے۔ اس مکالمے کے دوران ایک نہایت اچھوتا اور فکر انگیز زاویہ سامنے آیا۔ وہ یہ کہ مابعد جدیدیت کا فکری رویہ بنیادی طور پر ہر اس شے کی مخالفت کرتا ہے جو کسی حتمی بیانیے یا بڑی تحریک کا دعویٰ کرے چاہے وہ عالمی سرمایہ داری کا روایتی نظام ہی کیوں نہ ہو۔

​منطقی اور فکری اعتبار سے اس موقف کو رد کرنے کی گنجائش بہت کم ہے لیکن اس پر کئی نکتے اٹھائے جاسکتے ہیں۔ مابعد جدیدیت نے ہمیں سکھایا ہے کہ کوئی ایک سچائی نہیں ہوتی اور ہر وہ نظام جو انسان پر اپنی حتمیت مسلط کرتا ہے، وہ دراصل استحصال ہی کی ایک شکل ہے۔ اسی فکری بغاوت نے روایتی سرمایہ داری کی بنیادوں پر سوال اٹھائے لیکن آج کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں ایک نیا اور زیادہ گمبھیر پہلو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ یہ کہ اکیسویں صدی کا سب سے بڑا اور خاموش انقلاب ٹیکنو فیوڈل ازم کی صورت میں رونما ہو چکا ہے جس نے انسان کے آزاد شعور کو الگورتھم کی غیر مرئی بیڑیوں میں جکڑ لیا ہے۔

​یہاں یہ سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ آخر یہ ٹیکنو فیوڈل ازم ہے کیا۔ دراصل، یہ وہ نیا معاشی اور سماجی ڈھانچہ ہے جہاں روایتی سرمایہ داری کی طرح اشیاء کی پیداوار اور منڈی کے آزاد مقابلے کی اہمیت ختم ہو چکی ہے۔ جس طرح ماضی کے جاگیردارانہ دور میں زمین کے مالک کسانوں سے لگان وصول کرتے تھے، بالکل اسی طرز پر آج کی چند عظیم الجثہ ٹیکنالوجی کمپنیاں ڈیجیٹل دنیا کی بلا شرکتِ غیرے مالک بن چکی ہیں۔ یہ ڈیجیٹل جاگیردار اب کوئی چیز تیار کر کے نہیں بیچتے، بلکہ انہوں نے وہ تمام آن لائن پلیٹ فارمز اور راستے اپنے قبضے میں کر لیے ہیں جہاں سے انسانی روابط، تجارت اور معلومات کا گزر ہوتا ہے۔ عام صارف اور چھوٹے کاروباری افراد اس ڈیجیٹل زمین پر محض بے زمین کسانوں کی مانند ہیں، جنہیں اس آن لائن دنیا میں اپنا وجود برقرار رکھنے کے عوض اپنا ذاتی ڈیٹا، نجی معلومات اور کمیشن کی مد میں بھاری لگان ان کمپنیوں کو ادا کرنا پڑتا ہے۔

​یہ نیا تکنیکی نظام ہماری زندگیوں پر اس حد تک حاوی ہو چکا ہے کہ اب انسانوں پر براہِ راست طاقت کا استعمال نہیں ہوتا بلکہ ٹیک کمپنیوں کے بنائے گئے پوشیدہ الگورتھمز نہایت خاموشی سے ہمارے ذہنوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ہم کیا دیکھتے ہیں، کیا سوچتے ہیں اور ہماری خواہشات کیا ہیں۔ اس کا فیصلہ اب آزاد منڈی نہیں بلکہ چند طاقتور ڈیجیٹل جاگیردار کر رہے ہیں۔

​اس ٹیکنو فیوڈل نظام کا سب سے حیران کن اور تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اس نے انسانی مشقت، تھکاوٹ اور آرام کے صدیوں پرانے تصورات کو ہی الٹ کر رکھ دیا ہے۔ پرانے وقتوں کی مادی دنیا کا اصول انتہائی سادہ تھا۔ انسان جب کھیتوں، کارخانوں یا کسی بھی سخت جسمانی مشقت کے بعد نڈھال ہو جاتا تھا تو محض کچھ دیر بیٹھنے یا لیٹنے سے اس کا بدن دوبارہ تازہ دم ہو جایا کرتا تھا۔ اُس دور میں تھکاوٹ کا تعلق حرکت سے تھا اور آرام کا تعلق سکون سے تھا لیکن اس کے برعکس موجودہ ٹیکنو فیوڈل کا سب سے بڑا کرب یہ ہے کہ آج کا انسان سکرینوں کے سامنے محض بیٹھے بیٹھے ہی تھک جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی شدید اعصابی اور نفسیاتی تھکاوٹ ہے جو اس کے جسم کی نہیں بلکہ اس کی روح، توجہ اور ذہن کی توانائیاں نچوڑ لیتی ہے۔ انسان گھنٹوں اپنی جگہ پر بیٹھا سکرین پر انگلیاں پھیرتا رہتا ہے اور بظاہر کوئی جسمانی مشقت نہ کرنے کے باوجود خود کو اندر سے کھوکھلا اور مضمحل محسوس کرتا ہے۔ یہ بیٹھے بٹھائے کی تھکاوٹ دراصل اس ڈیجیٹل لگان کی قیمت ہے جو ہم اپنی توجہ اور ذہنی توانائی کی صورت میں ان ٹیک کمپنیوں کو ادا کر رہے ہیں۔

​فرخ ندیم اور منصور ساحل نے اس بیانیے پر جو نکتے اٹھائے ہیں اس علمی مباحث نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ ہم ایک طرف تو مابعد جدیدیت کے زیرِ اثر پرانے بیانیوں سے آزاد ہو رہے ہیں لیکن دوسری جانب ٹیکنو فیوڈل ازم کے ایک نئے اور زیادہ خطرناک جال میں پھنستے جا رہے ہیں۔ اس نئے دور میں غلامی جسموں کی نہیں بلکہ ذہنوں کی ہے۔ جب تک ہم اس الگورتھم کے جبر اور اپنی اس ذہنی تھکاوٹ کے اصل اسباب کو نہیں سمجھیں گے ہم اس نئی ڈیجیٹل جاگیرداری کے بے بس کسان ہی بنے رہیں گے۔

مدثر عباس 

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے
  • وقفہ
  • ایران – امریکہ تعلقات کا تاریخی پس منظر
  • ژالہ باری کی رات اور پِرجا کا حلالہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ
پچھلی پوسٹ
آزاد نعتیہ نظم – حل

متعلقہ پوسٹس

تیر کس کی کماں سے نکلا ہے

دسمبر 7, 2025

سنگترہ ، بہترین پھل بہترین فوائد

نومبر 19, 2021

بغیر آلات مفت آپریشن

اپریل 23, 2021

بلاؤز

اپریل 15, 2016

اب پرندوں میں ڈر ہے خون نہیں

مارچ 22, 2026

خوابوں کی سیاست اور زمینی حقیقت

اکتوبر 25, 2025

سفر نامہ بھارت – تیسری قسط

نومبر 2, 2019

شمالی علاقہ جات کی سیاحت

جون 2, 2023

بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے

جنوری 26, 2025

کوئی فرق نہیں پڑتا

فروری 16, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ڈیجیٹل غلامی : جدید دور کا...

مارچ 31, 2026

سکرین سے باہر کی دُنیا

مئی 5, 2026

زمین اور انسان

اگست 8, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں