خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامسکرین سے باہر کی دُنیا
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

سکرین سے باہر کی دُنیا

از سائیٹ ایڈمن مئی 5, 2026
از سائیٹ ایڈمن مئی 5, 2026 0 تبصرے 2 مناظر
3

اذان شہر کا ایک ذہین مگر سُست لڑکا تھا۔ سُست اس لیے نہیں کہ وہ پڑھ نہیں سکتا تھا بلکہ اس لیے کہ اس کی دُنیا ایک چھوٹی سی سکرین میں سمٹ گئی تھی۔ موبائل اس کے ہاتھ میں ایسے چِپکا رہتا جیسے "چمگادڑ دیوار سے چِپک جائے”۔ صبح آنکھ کھلتے ہی وہ موبائل دیکھتا اور رات کو اسی کے ساتھ سو جاتا۔ اس کی ماں اکثر کہتی، "بیٹا! یہ موبائل تمہاری آنکھوں کا نور کھا جائے گا،کچھ دیر باہر بھی نکلو اور باہر کی دُنیا دیکھو۔” مگر اذان کے کان پر جُوں تک نہ رینگتی۔
ایک دن اس کے ابو نے سختی سے کہا:”بس بہت ہو گیا! اب ہم چند دن کے لیے گاؤں جا رہے ہیں۔” اذان کا منہ ایسے لٹک گیا جیسے "بارش میں بھیگا ہوا کوا”۔ وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ گاؤں جا کر وہ کیا کرے گا,وہاں نہ وائی فائی ہوگا نہ دوست۔
اگلے دن وہ لوگ گاؤں پہنچے۔ گاؤں کا منظر اذان کے لیے بالکل نیا تھا۔ دور دور تک سبز کھیت ایسے پھیلے تھے جیسے زمین نے سبز چادر اوڑھ رکھی ہو, درختوں پر پرندے چہچہا رہے تھے، ہوا میں مٹی کی خوشبو تھی اور آسمان صاف تھا جیسے دُھو کر رکھا گیا ہو۔
لیکن اذان کو یہ سب اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ اس نے موبائل نکالا مگر سگنل نہ ہونے کے برابر تھے۔ اس نے غصے سے کہا: "یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے!” اس کے ابو مسکرائے اور بولے: "بیٹا! یہاں سب کچھ ہے، بس دیکھنے والی آنکھ چاہیے۔”
اسی دوران اذان کا دیہاتی کزن عثمان ان کے پاس آیا۔ وہ سادہ کپڑوں میں ملبوس تھا لیکن اس کے چہرے پر ایسی چمک تھی جیسے صبح کی پہلی کرن۔ اس نے اذان کو کھیلنے کی دعوت دی۔ اذان نے پہلے تو ناک بھوں چڑھائی، پھر دل بہلانے کے لیے اس کے ساتھ چل پڑا۔
عثمان اسے کھیتوں کی طرف لے گیا۔ وہ ننگے پاؤں مٹی پر چل رہا تھا جیسے مچھلی پانی میں تیرتی ہے۔ اذان کو شروع میں مٹی پر چلنا عجیب لگا کچھ دیر بعد اسے مزہ آنے لگا۔ ہوا کے جھونکے اس کے چہرے کو ایسے چھو رہے تھے جیسے ماں پیار سے تھپکی دے رہی ہو۔
عثمان نے اسے ایک درخت پر چڑھنا سکھایا۔ اذان پہلے تو ڈر گیا لیکن عثمان نے کہا:”ڈر کے آگے جیت ہے!” اذان نے ہمت کی اور آہستہ آہستہ اوپر چڑھ گیا۔ اوپر پہنچ کر اس نے نیچے دیکھا تو اسے لگا جیسے وہ پرندہ بن کر آسمان میں اڑ رہا ہو۔ اس کے دل میں ایک عجیب سی خوشی پیدا ہوئی۔
پھر وہ دونوں ندی کے کنارے گئے۔ پانی شفاف تھا اور اس میں مچھلیاں تیر رہی تھیں۔ اذان نے ہاتھ ڈال کر پانی کو چھوا تو اسے ایسا لگا جیسے ٹھنڈی ہوا نے اس کے دل کو چھو لیا ہو۔ وہ ہنسنے لگا، کھیلنے لگا اور وقت کے بیتنے کا پتہ ہی نہ چلا۔
اگلے دن عثمان اسے پہاڑوں کی طرف لے گیا۔ راستہ مشکل تھا، جگہ جگہ پتھر تھے اور چڑھائی تھکا دینے والی تھی۔ اذان کے پاؤں دُکھنے لگے، سانس پھول گئی اور وہ بیٹھ گیا۔ اس نے کہا: "میں نہیں چل سکتا!” عثمان نے مُسکرا کر کہا: "محنت کا پھل میٹھا ہوتا ہے، ہمت نہ ہارو۔”
اذان نے دوبارہ کوشش کی۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا رہا۔ جب وہ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا تو اس کے سامنے ایسا منظر تھا کہ اس کی آنکھیں کُھلی کی کُھلی رہ گئیں۔ نیچے سبز وادیاں، دور تک بہتا دریا اور اوپر نیلا آسمان، سب کچھ ایسا لگ رہا تھا جیسے قدرت نے ایک خوبصورت تصویر بنا دی ہو۔
اذان نے گہرا سانس لیا اور کہا: "واہ! یہ تو بہت خوبصورت ہے!” عثمان نے ہنستے ہوئے کہا: "یہی تو اصل زندگی ہے!”
اسی دوران انھوں نے ایک بوڑھے چرواہے کو دیکھا جو اپنی بکریوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔ اس کے کپڑے سادہ تھے لیکن چہرے پر سُکون تھا۔ اذان نے اس سے پوچھا:”آپ کو یہاں اکیلے رہ کر بوریت نہیں ہوتی؟” چرواہے نے مُسکرا کر کہا: "بیٹا! جس کے پاس دل کا سکون ہو، اسے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہوتی۔”
یہ بات اذان کے دل میں اُتر گئی جیسے پانی زمین میں جذب ہو جاتا ہے۔
چند دنوں میں اذان بدل گیا۔ اب وہ صبح جلدی اُٹھتا، سورج نکلتا دیکھتا، پرندوں کی آوازیں سُنتا اور عثمان کے ساتھ کھیلتا۔ اسے احساس ہوا کہ وہ جس دُنیا میں قید تھا، وہ تو ایک "سنہری پنجرہ” تھی جبکہ اصل آزادی اس کے باہر تھی۔
چھٹیاں ختم ہوگئیں،شہر واپسی کا دن آیا تو اذان کا دل بھاری ہو گیا۔ اس نے عثمان کو گلے لگایا اور کہا: "میں دوبارہ آؤں گا!” اس کی آنکھوں میں آنسو تھے جیسے بادل برسنے کو تیار ہوں۔
شہر واپس آ کر اذان نے موبائل کا استعمال کم کر دیا۔ اب وہ پارک میں جاتا، درختوں کے نیچے بیٹھتا اور فطرت کا لطف اُٹھاتا۔ اس نے اپنے دوستوں کو بھی بتایا: "زندگی صرف سکرین میں نہیں، بلکہ اس کے باہر ہے۔”
اذان نے سیکھ لیا تھا کہ دُور کے ڈھول سہانے لگتے ہیں لیکن اصل خوشی قریب ہی ہوتی ہے، بس اسے دیکھنے کی خواہش ہونی چاہیے ۔
اذان نے یہ بات سمجھ لی تھی کہ زندگی وہی خوبصورت ہے جو سکرین سے باہر ہے۔

محسن خالد محسنؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • من بگھیا ما ساجن ناہیں
  • کرونا کی وبا اور نفسیاتی مسائل
  • شجاع شاذ – تغیر و تبدل کا شاعر
  • خونی لہریں،محبت اور طالبان
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
جس نے مجھے بیکار میں
پچھلی پوسٹ
خوشامد کے جھولے

متعلقہ پوسٹس

آئینۂ جمال

دسمبر 31, 2024

امرود کے حیرت انگیز طبّی فوائد

مئی 26, 2023

کیا میں سورج پہ روشنی ڈالوں!

جولائی 14, 2020

ایمیزون کی بازگشت

دسمبر 19, 2024

اُلّو ہمارے بھائی ہیں

دسمبر 16, 2019

قومی یکجہتی اور اردو زبان

اگست 22, 2025

زیادتیوں سے نکلیں جنسی زیادتیاں!

اکتوبر 2, 2020

سرِ شام دلربا سرگوشی

دسمبر 12, 2024

آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 28, 2025

جو سایوں کی وادی میں چلے

نومبر 3, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جستجوِ صبحِ نو

دسمبر 15, 2024

"چار چاند "اور نیلم احمد بشیر

جولائی 5, 2024

تاریخ کے وارث – دوسری قسط

جنوری 17, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں