خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکرونا کی وبا اور نفسیاتی مسائل
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزڈاکٹر خالد سہیل

کرونا کی وبا اور نفسیاتی مسائل

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 16, 2020
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 16, 2020 0 تبصرے 13 مناظر
14

کرونا کی وبا اور نفسیاتی مسائل

میرا ایک شعر ہے
؎ کیا تم نے کبھی اپنا مقدر نہیں دیکھا
ہر گھر میں جو بستا ہے یہاں ڈر نہیں دیکھا
میرا ایک شعر ہے
؎ کیا تم نے کبھی اپنا مقدر نہیں دیکھا
ہر گھر میں جو بستا ہے یہاں ڈر نہیں دیکھا

کرونا کی وبا نے ساری دنیا میں نجانے کتنے مردوں اور عورتوں ’جوانوں اور بوڑھوں‘ غریبوں اور امیروں اور کالوں اور گوروں کو زندگی میں پہلی دفعہ نفسیاتی مسائل کا شکار کر دیا ہے اور جو لوگ پہلے سے نفسیاتی مسائل کا شکار تھے ان کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔

پچھلے چند ماہ میں اپنے مریضوں ’دوستوں اور اجنبیوں کو جن پریشانیوں‘ مجبوریوں ’دشواریوں اور آزمائشوں کا سامنا کرتے دیکھا ہے ان کے بارے میں سوچتا ہوں تو مندرجہ ذیل مسائل میرے ذہن میں آتے ہیں

1۔ موت کا خوف

نجانے کتنے لوگ موت کے خوف سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ انہیں یہ دھڑکا لگا ہوا ہے کہ جلد یا بدیر انہیں کرونا کی وبا آ دبوچے گی اور پھر ان کی ملاقات تکلیف دہ موت سے ہوگی۔ وہ لوگ جو عمر رسیدہ ہیں یا کسی جسمانی بیماری کا شکار ہیں ان کا یہ خوف باقی لوگوں سے فزوں تر ہے۔

2۔ بیماری کا خوف
جن لوگوں کو موت کا خوف نہیں ان میں سے بہت سوں کو بیماری کا خوف ہے۔ انہیں یہ ڈر ہے کہ وہ کرونا کی وجہ سے کسی سنجیدہ بیماری کا شکار ہو جائیں گے ’پھر پاؤں رگڑ رگڑ کر مریں گے اور انہیں کوئی بچا بھی نہ سکے گا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب تک کوئی ویکسین نہیں آجاتی یہ مرض لاعلاج ہے۔

جو لوگ کرونا سے فوت ہو رہے ہیں ان کے دوست اور رشتہ دار بیماری کے ڈر سے نہ تو جنازے میں شریک اور نہ ہی گلے مل کر ایک دوسرے کو تسلی دے پا رہے ہیں۔ ایسے حالات سے بھی نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔

3۔ بے روزگاری کا خوف

میرے وہ مریض جو کلبوں اور رستورانوں میں کام کرتے تھے ان میں سے چند بے روزگار ہو گئے ہیں اور چند اس دن کے منتظر ہیں جب انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا جائے گا۔ اگرچہ کینیڈا کی حکومت کئی ماہ سے بہت سے کینیڈینز کو ہر ہفتے پانچ سو ڈالر دے رہی ہے لیکن بے روزگاری ایک تلوار کی طرح لوگوں کے سروں پر لٹک رہی ہے۔ وہ ماں باپ جن کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں وہ تو زیادہ ہی پریشان ہیں۔

نجانے کتنے چھوٹے چھوٹے کاروبار بینک کرپٹ ہو گئے ہیں یا ہونے کا سوچ رہے ہیں۔

4۔ مزاج کا چڑچڑاپن

وہ مرد اور عورتیں جنہیں ہر صبح کام پر جانے کی اور ہر شام دوستوں سے ملنے کی عادت تھی وہ گھر بیٹھ بیٹھ کر بدمزاج اور چڑچڑے ہو گئے ہیں۔ بعض گھرانوں میں حالات کچھ زیادہ ہی ناگفتہ بہہ ہیں اور تعلقات میں تضادات کی حدت اتنی بڑھ گئی کہ معاملہ گالی گلوچ سے بڑھ کر ہاتھا پائی اور پھر طلاق اور جدائی تک پہنچ گیا ہے۔ بعض کرونا کی وبا کے اختتام کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں تاکہ جونہی وبا ختم ہو ان کی زندگی کا نیا باب شروع ہو اور وہ کسی اور گھر میں جا بسیں۔ بعض گھروں میں جارحیت اور تشدد اتنا بڑھ گیا ہے کہ بار بار پولیس کو بلایا جاتا ہے۔

5۔ جدائیاں

نجانے کتنے بوڑھے ماں باپ کو جوان بچے گھر سے باہر نہیں جانے دیتے جس کی وجہ سے دوستیوں میں جدائیاں اور قربتوں میں فاصلے بڑھ گئے ہیں۔

اب تو لوگ ملتے ہیں تو نہ ہاتھ ملاتے ہیں نہ گلے ملتے ہیں۔ اب لوگوں کو اندازہ ہو رہا ہے کہ انسانوں کی ذہنی صحت کے لیے لمس کتنا اہم ہے۔

کرونا کی وبا کی وجہ سے سفر پر حد سے زیادہ پابندیاں عائد ہو گئی ہیں۔ جو لوگ مختلف شہروں اور ملکوں میں سفر کرتے تھے اب وہ اپنے اپنے گھروں میں قید ہو گئے ہیں۔

بعض لوگوں کے لیے احساس تنہائی ایک عذاب بنتا جا رہا ہے۔

پچھلے چند ماہ میں بہت سے مریضوں اور ڈاکٹروں میں بھی جسمانی اور جذباتی فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ نجانے کتنے ڈاکٹروں نے اپنے گلیوں ’بازاروں اور ہسپتالوں کے کلینک کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ اب وہ اپنے مریضوں کی تشخیص اور علاج انٹرنیٹ پر کرتے ہیں۔

میں اپنے مریضوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اون لائن اپنے عزیزوں ’رشتہ داروں اور دوستوں سے رابطہ رکھیں۔ اور باقاعدگی سے زوم میٹنگوں میں شرکت کریں۔

میں نے خود بھی پچھلے چند ماہ میں کئی زوم کی میٹنگوں ’سیمیناروں اور کانفرنسوں مین شرکت کی ہے۔ ان محفلوں کی شرکت کے لیے مجھے گھر سے باہر جانے کی بھی ضرورت نہ تھی۔

میں نے مریضوں کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ ایک ایسا مشغلہ شروع کریں جو وہ گھر بیٹھ کر کر سکتے ہوں۔ اگر کسی کو ادب یا موسیقی کا شوق ہے تو وہ انٹرنیٹ اور یو ٹیوب کی مدد سے اپنے ذوق میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

میرے وہ مریض جو اب بھی میرے کلینک آتے ہیں اور ہمارے گروپ روم میں چھ فٹ کے فاصلے پر بیٹھ کر انٹرویو دیتے ہیں میں ان سے پوچھتا ہوں کہ وہ فون یا وڈیو پر انٹرویو کرنے کی بجائے کلینک کیوں آئے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں گھر میں وہ تخلیہ میسر نہیں جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے گھر والے ہماری گفتگو سنیں کیونکہ ہم ان ہی کے بارے میں شکایت کرنے آتے ہیں۔

اپنے کلینک میں پہلے ہم نے انفرادی تھراپی کو اون لائن کیا تھا اب فیمیلی تھراپی اور گروپ تھراپی کو بھی اون لائن کر دیا ہے۔ کینیڈین حکومت جو پہلے فون کی تھراپی کو نہیں مانتی تھی اب خود مشورہ دیتی ہے کہ فون پر انٹرویو کریں تا کہ کرونا وبا نہ پھیلے۔ میری ایک مریضہ اپنے شوہر کی شکایت کرنے کے لیے اپنی کار میں جا بیٹھتی ہے اور اپنے مسائل پر تفصیل سے تبادلہ خیال کرتی ہے۔

میں اپنے مریضوں سے کہتا ہوں کہ انہیں پوری کوشش کرنی چاہیے کہ وہ کنول کا پھول بنیں کیونکہ کنول کا پھول دلدل میں رہ کر بھی اس سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔

میں انہیں یہ بھی مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنے قریبی دوستوں سے ہر ہفتے پروگرام بنا کر فون کال یا وڈیو کال سے تبادلہ خیال کریں کیونکہ ایسے دوست ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ہماری ذہنی صحت کا خیال رکھتے ہیں میں ایسے دوستوں کو فیمیلی آف دی ہارٹ کا نام دیتا ہوں۔ کرونا کی وبا کے دنوں میں مخلص اور ہم خیال دوستوں کی بہت سے لوگوں کے دلوں میں قدر بڑھ گئی ہے۔

جہاں کرونا کی وجہ سے دنیا میں بہت سے کاموں پر نئی پابندیاں عائد ہو گئی ہیں وہیں جدید ٹیکنالوجی نے ہمارا نئی آزادیوں سے بھی تعارف کروایا ہے۔ ٹیکنالوجی ایسے رشتے بنانے میں مدد کر رہی ہے جو پہلے موجود نہ تھے۔

ان دنوں ہر رنگ نسل زبان اور مذہب کے نجانے کتنے لوگ ساری دنیا کے سائنسدانوں سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ جلد از جلد کروناوائرس کی ویکسین تیار کریں تا کہ اسے لگوا کر لوگ پھر سے زندگی کے کاروبار میں بھرپور طریقے سے شریک ہوں۔ بچے سکول جائیں ’جوان کسی نئی محبت میں گرفتار ہوں اور بزرگ کسی نئے دیس کی سیر کو نکلیں۔

کرونا وائرس نے ساری دنیا کے انسانوں کو زندگی کے بارے میں ایک نئے زاویے سے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جب دنیا کرونا کی وبا سے صحتمند ہوگی تو انسانیت میں نہ صرف اجتماعی مدافعت اور HERD IMMUNITYپیدا ہو چکی ہوگی بلکہ وہ اجتماعی شعور کی اگلی منزل تک بھی پہنچ چکی ہوگی۔ دھیرے دھیرے بہت سے انسانوں کو احساس ہو جائے گا کہ ہمارے دکھ سکھ سانجھے ہیں کیونکہ ہم سب اپنی اکلوتی دھرتی ماں کے بچے ہیں۔

ڈاکٹر خالد سہیل

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے
  • بے انتہا محبت
  • پہلے انڈا آیا ۔ یا مرغی
  • مس مالا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
نفسیاتی جنگ اور بنی گالا کے کتے
پچھلی پوسٹ
امریکی موسیقار روڈ رگس

متعلقہ پوسٹس

پوس کی رات

جنوری 10, 2019

کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے ؟

اپریل 23, 2020

طاقچے میں پڑی ہوئی آنکھیں

دسمبر 6, 2019

موت کچھ آسان ہوتی جا رہی

نومبر 30, 2020

ہونے کا احساس

جولائی 6, 2025

ٹیسٹ کرکٹ سے لیگ کرکٹ کا سفر!

جنوری 20, 2021

کہیں پہ گشت و گزر اور ہے وجُود کہیں

اکتوبر 26, 2025

زندگی تو کبھی ہی مسکراتی ہے یارو

اگست 15, 2020

ڈارون کا نظریہء ارتقاء اورجدید سائنس

دسمبر 20, 2022

یہ تو نہیں کہ ہم نے رستہ چھوڑ دیا ہے

مارچ 24, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • پاکستان اور خلیج

    جنوری 3, 2026
  • زندگی میں اک موڑ

    جنوری 3, 2026
  • کفر اور کافر کا مسئلہ

    جنوری 3, 2026
  • خاموش انسان اور پہلی دعا

    جنوری 3, 2026
  • اعداد و شمار کا پاکستان

    جنوری 2, 2026
  • 1

    ادب،ناول اور معاشرے کا باہم اتصال

    جولائی 12, 2023
  • 2

    نئے انداز سے تعمیر مجھے ہونا ہے

    اپریل 15, 2018
  • 3

    کھلا خط

    دسمبر 31, 2025
  • 4

    جدید الحاد

    دسمبر 25, 2025
  • 5

    نئے سال کے تقاضے اور کامیابی کی حکمت عملی

    دسمبر 30, 2025
  • احمد رضا on لہو اشکوں میں مِلنے دو
  • حسین فرید on ٹوٹ کر گرتے ستاروں کی
  • محمد جواد on دہلی کا ایک یادگار مشاعرہ
  • حافظ اکبر on منتظر کوئی نہیں، کون وہاں بیٹھا ہے
  • رشید حسرت on منتظر کوئی نہیں، کون وہاں بیٹھا ہے

اسلامی گوشہ

کفر اور کافر کا مسئلہ

جنوری 3, 2026

خاموش انسان اور پہلی دعا

جنوری 3, 2026

سماجی تجزیہ

جنوری 2, 2026

علی بزبانِ علی بن موسیٰ الرضاؑ

جنوری 1, 2026

نقظہ نواز

جنوری 1, 2026

اردو شاعری

اگلی گلی میں رہتا ہے

جنوری 1, 2026

ہم کون

جنوری 1, 2026

بزرگوں کے سرہانے بیٹھ جائیں

جنوری 1, 2026

نیا سال مبارک

دسمبر 30, 2025

یہ جو بڑھتی ہوئی جدائی ہے

دسمبر 29, 2025

اردو افسانے

تعارف کا دوسرا قدم

دسمبر 16, 2025

احساس محبت

نومبر 11, 2025

جہاں سے میں دیکھتا ہوں

اکتوبر 24, 2025

خسارے کی اجازت

اکتوبر 24, 2025

تمنا کا دوسرا قدم

اکتوبر 24, 2025

اردو کالمز

پاکستان اور خلیج

جنوری 3, 2026

کفر اور کافر کا مسئلہ

جنوری 3, 2026

خاموش انسان اور پہلی دعا

جنوری 3, 2026

اعداد و شمار کا پاکستان

جنوری 2, 2026

سماجی تجزیہ

جنوری 2, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • پاکستان اور خلیج

    جنوری 3, 2026
  • زندگی میں اک موڑ

    جنوری 3, 2026
  • کفر اور کافر کا مسئلہ

    جنوری 3, 2026
  • خاموش انسان اور پہلی دعا

    جنوری 3, 2026
  • اعداد و شمار کا پاکستان

    جنوری 2, 2026
  • سماجی تجزیہ

    جنوری 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    ادب،ناول اور معاشرے کا باہم اتصال

    جولائی 12, 2023
  • 2

    نئے انداز سے تعمیر مجھے ہونا ہے

    اپریل 15, 2018
  • 3

    کھلا خط

    دسمبر 31, 2025
  • 4

    جدید الحاد

    دسمبر 25, 2025
  • 5

    نئے سال کے تقاضے اور کامیابی کی حکمت عملی

    دسمبر 30, 2025
  • 6

    25 دسمبر

    دسمبر 25, 2025

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

آج یاد آرہی ھے

جنوری 10, 2025

جب اُس نے گفتگو ہی سے...

نومبر 18, 2020

ایکسپورٹ امپورٹ

جنوری 3, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں