خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکرونا کی وبا اور نفسیاتی مسائل
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزڈاکٹر خالد سہیل

کرونا کی وبا اور نفسیاتی مسائل

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 16, 2020
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 16, 2020 0 تبصرے 84 مناظر
85

کرونا کی وبا اور نفسیاتی مسائل

میرا ایک شعر ہے
؎ کیا تم نے کبھی اپنا مقدر نہیں دیکھا
ہر گھر میں جو بستا ہے یہاں ڈر نہیں دیکھا
میرا ایک شعر ہے
؎ کیا تم نے کبھی اپنا مقدر نہیں دیکھا
ہر گھر میں جو بستا ہے یہاں ڈر نہیں دیکھا

کرونا کی وبا نے ساری دنیا میں نجانے کتنے مردوں اور عورتوں ’جوانوں اور بوڑھوں‘ غریبوں اور امیروں اور کالوں اور گوروں کو زندگی میں پہلی دفعہ نفسیاتی مسائل کا شکار کر دیا ہے اور جو لوگ پہلے سے نفسیاتی مسائل کا شکار تھے ان کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔

پچھلے چند ماہ میں اپنے مریضوں ’دوستوں اور اجنبیوں کو جن پریشانیوں‘ مجبوریوں ’دشواریوں اور آزمائشوں کا سامنا کرتے دیکھا ہے ان کے بارے میں سوچتا ہوں تو مندرجہ ذیل مسائل میرے ذہن میں آتے ہیں

1۔ موت کا خوف

نجانے کتنے لوگ موت کے خوف سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ انہیں یہ دھڑکا لگا ہوا ہے کہ جلد یا بدیر انہیں کرونا کی وبا آ دبوچے گی اور پھر ان کی ملاقات تکلیف دہ موت سے ہوگی۔ وہ لوگ جو عمر رسیدہ ہیں یا کسی جسمانی بیماری کا شکار ہیں ان کا یہ خوف باقی لوگوں سے فزوں تر ہے۔

2۔ بیماری کا خوف
جن لوگوں کو موت کا خوف نہیں ان میں سے بہت سوں کو بیماری کا خوف ہے۔ انہیں یہ ڈر ہے کہ وہ کرونا کی وجہ سے کسی سنجیدہ بیماری کا شکار ہو جائیں گے ’پھر پاؤں رگڑ رگڑ کر مریں گے اور انہیں کوئی بچا بھی نہ سکے گا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب تک کوئی ویکسین نہیں آجاتی یہ مرض لاعلاج ہے۔

جو لوگ کرونا سے فوت ہو رہے ہیں ان کے دوست اور رشتہ دار بیماری کے ڈر سے نہ تو جنازے میں شریک اور نہ ہی گلے مل کر ایک دوسرے کو تسلی دے پا رہے ہیں۔ ایسے حالات سے بھی نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔

3۔ بے روزگاری کا خوف

میرے وہ مریض جو کلبوں اور رستورانوں میں کام کرتے تھے ان میں سے چند بے روزگار ہو گئے ہیں اور چند اس دن کے منتظر ہیں جب انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا جائے گا۔ اگرچہ کینیڈا کی حکومت کئی ماہ سے بہت سے کینیڈینز کو ہر ہفتے پانچ سو ڈالر دے رہی ہے لیکن بے روزگاری ایک تلوار کی طرح لوگوں کے سروں پر لٹک رہی ہے۔ وہ ماں باپ جن کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں وہ تو زیادہ ہی پریشان ہیں۔

نجانے کتنے چھوٹے چھوٹے کاروبار بینک کرپٹ ہو گئے ہیں یا ہونے کا سوچ رہے ہیں۔

4۔ مزاج کا چڑچڑاپن

وہ مرد اور عورتیں جنہیں ہر صبح کام پر جانے کی اور ہر شام دوستوں سے ملنے کی عادت تھی وہ گھر بیٹھ بیٹھ کر بدمزاج اور چڑچڑے ہو گئے ہیں۔ بعض گھرانوں میں حالات کچھ زیادہ ہی ناگفتہ بہہ ہیں اور تعلقات میں تضادات کی حدت اتنی بڑھ گئی کہ معاملہ گالی گلوچ سے بڑھ کر ہاتھا پائی اور پھر طلاق اور جدائی تک پہنچ گیا ہے۔ بعض کرونا کی وبا کے اختتام کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں تاکہ جونہی وبا ختم ہو ان کی زندگی کا نیا باب شروع ہو اور وہ کسی اور گھر میں جا بسیں۔ بعض گھروں میں جارحیت اور تشدد اتنا بڑھ گیا ہے کہ بار بار پولیس کو بلایا جاتا ہے۔

5۔ جدائیاں

نجانے کتنے بوڑھے ماں باپ کو جوان بچے گھر سے باہر نہیں جانے دیتے جس کی وجہ سے دوستیوں میں جدائیاں اور قربتوں میں فاصلے بڑھ گئے ہیں۔

اب تو لوگ ملتے ہیں تو نہ ہاتھ ملاتے ہیں نہ گلے ملتے ہیں۔ اب لوگوں کو اندازہ ہو رہا ہے کہ انسانوں کی ذہنی صحت کے لیے لمس کتنا اہم ہے۔

کرونا کی وبا کی وجہ سے سفر پر حد سے زیادہ پابندیاں عائد ہو گئی ہیں۔ جو لوگ مختلف شہروں اور ملکوں میں سفر کرتے تھے اب وہ اپنے اپنے گھروں میں قید ہو گئے ہیں۔

بعض لوگوں کے لیے احساس تنہائی ایک عذاب بنتا جا رہا ہے۔

پچھلے چند ماہ میں بہت سے مریضوں اور ڈاکٹروں میں بھی جسمانی اور جذباتی فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ نجانے کتنے ڈاکٹروں نے اپنے گلیوں ’بازاروں اور ہسپتالوں کے کلینک کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ اب وہ اپنے مریضوں کی تشخیص اور علاج انٹرنیٹ پر کرتے ہیں۔

میں اپنے مریضوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اون لائن اپنے عزیزوں ’رشتہ داروں اور دوستوں سے رابطہ رکھیں۔ اور باقاعدگی سے زوم میٹنگوں میں شرکت کریں۔

میں نے خود بھی پچھلے چند ماہ میں کئی زوم کی میٹنگوں ’سیمیناروں اور کانفرنسوں مین شرکت کی ہے۔ ان محفلوں کی شرکت کے لیے مجھے گھر سے باہر جانے کی بھی ضرورت نہ تھی۔

میں نے مریضوں کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ ایک ایسا مشغلہ شروع کریں جو وہ گھر بیٹھ کر کر سکتے ہوں۔ اگر کسی کو ادب یا موسیقی کا شوق ہے تو وہ انٹرنیٹ اور یو ٹیوب کی مدد سے اپنے ذوق میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

میرے وہ مریض جو اب بھی میرے کلینک آتے ہیں اور ہمارے گروپ روم میں چھ فٹ کے فاصلے پر بیٹھ کر انٹرویو دیتے ہیں میں ان سے پوچھتا ہوں کہ وہ فون یا وڈیو پر انٹرویو کرنے کی بجائے کلینک کیوں آئے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں گھر میں وہ تخلیہ میسر نہیں جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے گھر والے ہماری گفتگو سنیں کیونکہ ہم ان ہی کے بارے میں شکایت کرنے آتے ہیں۔

اپنے کلینک میں پہلے ہم نے انفرادی تھراپی کو اون لائن کیا تھا اب فیمیلی تھراپی اور گروپ تھراپی کو بھی اون لائن کر دیا ہے۔ کینیڈین حکومت جو پہلے فون کی تھراپی کو نہیں مانتی تھی اب خود مشورہ دیتی ہے کہ فون پر انٹرویو کریں تا کہ کرونا وبا نہ پھیلے۔ میری ایک مریضہ اپنے شوہر کی شکایت کرنے کے لیے اپنی کار میں جا بیٹھتی ہے اور اپنے مسائل پر تفصیل سے تبادلہ خیال کرتی ہے۔

میں اپنے مریضوں سے کہتا ہوں کہ انہیں پوری کوشش کرنی چاہیے کہ وہ کنول کا پھول بنیں کیونکہ کنول کا پھول دلدل میں رہ کر بھی اس سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔

میں انہیں یہ بھی مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنے قریبی دوستوں سے ہر ہفتے پروگرام بنا کر فون کال یا وڈیو کال سے تبادلہ خیال کریں کیونکہ ایسے دوست ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ہماری ذہنی صحت کا خیال رکھتے ہیں میں ایسے دوستوں کو فیمیلی آف دی ہارٹ کا نام دیتا ہوں۔ کرونا کی وبا کے دنوں میں مخلص اور ہم خیال دوستوں کی بہت سے لوگوں کے دلوں میں قدر بڑھ گئی ہے۔

جہاں کرونا کی وجہ سے دنیا میں بہت سے کاموں پر نئی پابندیاں عائد ہو گئی ہیں وہیں جدید ٹیکنالوجی نے ہمارا نئی آزادیوں سے بھی تعارف کروایا ہے۔ ٹیکنالوجی ایسے رشتے بنانے میں مدد کر رہی ہے جو پہلے موجود نہ تھے۔

ان دنوں ہر رنگ نسل زبان اور مذہب کے نجانے کتنے لوگ ساری دنیا کے سائنسدانوں سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ جلد از جلد کروناوائرس کی ویکسین تیار کریں تا کہ اسے لگوا کر لوگ پھر سے زندگی کے کاروبار میں بھرپور طریقے سے شریک ہوں۔ بچے سکول جائیں ’جوان کسی نئی محبت میں گرفتار ہوں اور بزرگ کسی نئے دیس کی سیر کو نکلیں۔

کرونا وائرس نے ساری دنیا کے انسانوں کو زندگی کے بارے میں ایک نئے زاویے سے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جب دنیا کرونا کی وبا سے صحتمند ہوگی تو انسانیت میں نہ صرف اجتماعی مدافعت اور HERD IMMUNITYپیدا ہو چکی ہوگی بلکہ وہ اجتماعی شعور کی اگلی منزل تک بھی پہنچ چکی ہوگی۔ دھیرے دھیرے بہت سے انسانوں کو احساس ہو جائے گا کہ ہمارے دکھ سکھ سانجھے ہیں کیونکہ ہم سب اپنی اکلوتی دھرتی ماں کے بچے ہیں۔

ڈاکٹر خالد سہیل

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جدید اردو ڈرامے کے خالق امتیاز علی تاجؔ
  • مرے وجود کی جاگیر اس نے مانگی ہے
  • ڈاکٹر علیم ؔعثمانی۔ توصیفِ بتاں سے دربارِ نبی تک
  • 14 آگست اور ایک عام آدمی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
نفسیاتی جنگ اور بنی گالا کے کتے
پچھلی پوسٹ
امریکی موسیقار روڈ رگس

متعلقہ پوسٹس

ہجرت

جون 24, 2025

قصیدہ شریف

اکتوبر 12, 2025

شہر در شہر لیے پھرتے ہیں

جون 12, 2020

احساس محبت

نومبر 11, 2025

مصرع مصرع انتخاب ہے!

مارچ 4, 2025

عشق کیا ہے، ہوس ہے کیا، اے دوست!

مارچ 8, 2020

بھرے ہیں دم جو

فروری 25, 2025

چہل پہل ہے نہ تابندگی ہے گلیوں میں

اپریل 5, 2020

دنیا میں جینا میرا ابھی سے

مارچ 29, 2025

جذبوں کے تن پہ آئے ہوئے زخم چھیل کے

مئی 9, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مینارِمحبت کا شہزادہ

فروری 17, 2020

اب جو آئی ہے تو ویسے

جولائی 3, 2025

شہر سے جب بھی کوئی شہر...

مئی 4, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں