خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکرونا کی وبا اور نفسیاتی مسائل
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزڈاکٹر خالد سہیل

کرونا کی وبا اور نفسیاتی مسائل

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 16, 2020
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 16, 2020 0 تبصرے 68 مناظر
69

کرونا کی وبا اور نفسیاتی مسائل

میرا ایک شعر ہے
؎ کیا تم نے کبھی اپنا مقدر نہیں دیکھا
ہر گھر میں جو بستا ہے یہاں ڈر نہیں دیکھا
میرا ایک شعر ہے
؎ کیا تم نے کبھی اپنا مقدر نہیں دیکھا
ہر گھر میں جو بستا ہے یہاں ڈر نہیں دیکھا

کرونا کی وبا نے ساری دنیا میں نجانے کتنے مردوں اور عورتوں ’جوانوں اور بوڑھوں‘ غریبوں اور امیروں اور کالوں اور گوروں کو زندگی میں پہلی دفعہ نفسیاتی مسائل کا شکار کر دیا ہے اور جو لوگ پہلے سے نفسیاتی مسائل کا شکار تھے ان کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔

پچھلے چند ماہ میں اپنے مریضوں ’دوستوں اور اجنبیوں کو جن پریشانیوں‘ مجبوریوں ’دشواریوں اور آزمائشوں کا سامنا کرتے دیکھا ہے ان کے بارے میں سوچتا ہوں تو مندرجہ ذیل مسائل میرے ذہن میں آتے ہیں

1۔ موت کا خوف

نجانے کتنے لوگ موت کے خوف سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ انہیں یہ دھڑکا لگا ہوا ہے کہ جلد یا بدیر انہیں کرونا کی وبا آ دبوچے گی اور پھر ان کی ملاقات تکلیف دہ موت سے ہوگی۔ وہ لوگ جو عمر رسیدہ ہیں یا کسی جسمانی بیماری کا شکار ہیں ان کا یہ خوف باقی لوگوں سے فزوں تر ہے۔

2۔ بیماری کا خوف
جن لوگوں کو موت کا خوف نہیں ان میں سے بہت سوں کو بیماری کا خوف ہے۔ انہیں یہ ڈر ہے کہ وہ کرونا کی وجہ سے کسی سنجیدہ بیماری کا شکار ہو جائیں گے ’پھر پاؤں رگڑ رگڑ کر مریں گے اور انہیں کوئی بچا بھی نہ سکے گا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب تک کوئی ویکسین نہیں آجاتی یہ مرض لاعلاج ہے۔

جو لوگ کرونا سے فوت ہو رہے ہیں ان کے دوست اور رشتہ دار بیماری کے ڈر سے نہ تو جنازے میں شریک اور نہ ہی گلے مل کر ایک دوسرے کو تسلی دے پا رہے ہیں۔ ایسے حالات سے بھی نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔

3۔ بے روزگاری کا خوف

میرے وہ مریض جو کلبوں اور رستورانوں میں کام کرتے تھے ان میں سے چند بے روزگار ہو گئے ہیں اور چند اس دن کے منتظر ہیں جب انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا جائے گا۔ اگرچہ کینیڈا کی حکومت کئی ماہ سے بہت سے کینیڈینز کو ہر ہفتے پانچ سو ڈالر دے رہی ہے لیکن بے روزگاری ایک تلوار کی طرح لوگوں کے سروں پر لٹک رہی ہے۔ وہ ماں باپ جن کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں وہ تو زیادہ ہی پریشان ہیں۔

نجانے کتنے چھوٹے چھوٹے کاروبار بینک کرپٹ ہو گئے ہیں یا ہونے کا سوچ رہے ہیں۔

4۔ مزاج کا چڑچڑاپن

وہ مرد اور عورتیں جنہیں ہر صبح کام پر جانے کی اور ہر شام دوستوں سے ملنے کی عادت تھی وہ گھر بیٹھ بیٹھ کر بدمزاج اور چڑچڑے ہو گئے ہیں۔ بعض گھرانوں میں حالات کچھ زیادہ ہی ناگفتہ بہہ ہیں اور تعلقات میں تضادات کی حدت اتنی بڑھ گئی کہ معاملہ گالی گلوچ سے بڑھ کر ہاتھا پائی اور پھر طلاق اور جدائی تک پہنچ گیا ہے۔ بعض کرونا کی وبا کے اختتام کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں تاکہ جونہی وبا ختم ہو ان کی زندگی کا نیا باب شروع ہو اور وہ کسی اور گھر میں جا بسیں۔ بعض گھروں میں جارحیت اور تشدد اتنا بڑھ گیا ہے کہ بار بار پولیس کو بلایا جاتا ہے۔

5۔ جدائیاں

نجانے کتنے بوڑھے ماں باپ کو جوان بچے گھر سے باہر نہیں جانے دیتے جس کی وجہ سے دوستیوں میں جدائیاں اور قربتوں میں فاصلے بڑھ گئے ہیں۔

اب تو لوگ ملتے ہیں تو نہ ہاتھ ملاتے ہیں نہ گلے ملتے ہیں۔ اب لوگوں کو اندازہ ہو رہا ہے کہ انسانوں کی ذہنی صحت کے لیے لمس کتنا اہم ہے۔

کرونا کی وبا کی وجہ سے سفر پر حد سے زیادہ پابندیاں عائد ہو گئی ہیں۔ جو لوگ مختلف شہروں اور ملکوں میں سفر کرتے تھے اب وہ اپنے اپنے گھروں میں قید ہو گئے ہیں۔

بعض لوگوں کے لیے احساس تنہائی ایک عذاب بنتا جا رہا ہے۔

پچھلے چند ماہ میں بہت سے مریضوں اور ڈاکٹروں میں بھی جسمانی اور جذباتی فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ نجانے کتنے ڈاکٹروں نے اپنے گلیوں ’بازاروں اور ہسپتالوں کے کلینک کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ اب وہ اپنے مریضوں کی تشخیص اور علاج انٹرنیٹ پر کرتے ہیں۔

میں اپنے مریضوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اون لائن اپنے عزیزوں ’رشتہ داروں اور دوستوں سے رابطہ رکھیں۔ اور باقاعدگی سے زوم میٹنگوں میں شرکت کریں۔

میں نے خود بھی پچھلے چند ماہ میں کئی زوم کی میٹنگوں ’سیمیناروں اور کانفرنسوں مین شرکت کی ہے۔ ان محفلوں کی شرکت کے لیے مجھے گھر سے باہر جانے کی بھی ضرورت نہ تھی۔

میں نے مریضوں کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ ایک ایسا مشغلہ شروع کریں جو وہ گھر بیٹھ کر کر سکتے ہوں۔ اگر کسی کو ادب یا موسیقی کا شوق ہے تو وہ انٹرنیٹ اور یو ٹیوب کی مدد سے اپنے ذوق میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

میرے وہ مریض جو اب بھی میرے کلینک آتے ہیں اور ہمارے گروپ روم میں چھ فٹ کے فاصلے پر بیٹھ کر انٹرویو دیتے ہیں میں ان سے پوچھتا ہوں کہ وہ فون یا وڈیو پر انٹرویو کرنے کی بجائے کلینک کیوں آئے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں گھر میں وہ تخلیہ میسر نہیں جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے گھر والے ہماری گفتگو سنیں کیونکہ ہم ان ہی کے بارے میں شکایت کرنے آتے ہیں۔

اپنے کلینک میں پہلے ہم نے انفرادی تھراپی کو اون لائن کیا تھا اب فیمیلی تھراپی اور گروپ تھراپی کو بھی اون لائن کر دیا ہے۔ کینیڈین حکومت جو پہلے فون کی تھراپی کو نہیں مانتی تھی اب خود مشورہ دیتی ہے کہ فون پر انٹرویو کریں تا کہ کرونا وبا نہ پھیلے۔ میری ایک مریضہ اپنے شوہر کی شکایت کرنے کے لیے اپنی کار میں جا بیٹھتی ہے اور اپنے مسائل پر تفصیل سے تبادلہ خیال کرتی ہے۔

میں اپنے مریضوں سے کہتا ہوں کہ انہیں پوری کوشش کرنی چاہیے کہ وہ کنول کا پھول بنیں کیونکہ کنول کا پھول دلدل میں رہ کر بھی اس سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔

میں انہیں یہ بھی مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنے قریبی دوستوں سے ہر ہفتے پروگرام بنا کر فون کال یا وڈیو کال سے تبادلہ خیال کریں کیونکہ ایسے دوست ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ہماری ذہنی صحت کا خیال رکھتے ہیں میں ایسے دوستوں کو فیمیلی آف دی ہارٹ کا نام دیتا ہوں۔ کرونا کی وبا کے دنوں میں مخلص اور ہم خیال دوستوں کی بہت سے لوگوں کے دلوں میں قدر بڑھ گئی ہے۔

جہاں کرونا کی وجہ سے دنیا میں بہت سے کاموں پر نئی پابندیاں عائد ہو گئی ہیں وہیں جدید ٹیکنالوجی نے ہمارا نئی آزادیوں سے بھی تعارف کروایا ہے۔ ٹیکنالوجی ایسے رشتے بنانے میں مدد کر رہی ہے جو پہلے موجود نہ تھے۔

ان دنوں ہر رنگ نسل زبان اور مذہب کے نجانے کتنے لوگ ساری دنیا کے سائنسدانوں سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ جلد از جلد کروناوائرس کی ویکسین تیار کریں تا کہ اسے لگوا کر لوگ پھر سے زندگی کے کاروبار میں بھرپور طریقے سے شریک ہوں۔ بچے سکول جائیں ’جوان کسی نئی محبت میں گرفتار ہوں اور بزرگ کسی نئے دیس کی سیر کو نکلیں۔

کرونا وائرس نے ساری دنیا کے انسانوں کو زندگی کے بارے میں ایک نئے زاویے سے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جب دنیا کرونا کی وبا سے صحتمند ہوگی تو انسانیت میں نہ صرف اجتماعی مدافعت اور HERD IMMUNITYپیدا ہو چکی ہوگی بلکہ وہ اجتماعی شعور کی اگلی منزل تک بھی پہنچ چکی ہوگی۔ دھیرے دھیرے بہت سے انسانوں کو احساس ہو جائے گا کہ ہمارے دکھ سکھ سانجھے ہیں کیونکہ ہم سب اپنی اکلوتی دھرتی ماں کے بچے ہیں۔

ڈاکٹر خالد سہیل

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • موجد شاعری شاہ شمس ولی اللہ
  • لفظ کی حرمت کے انکاری
  • اردو میں ادبی تاریخ کی روایت
  • کورونا ڈوبتی انسانیت کے نام کھلاخط!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
نفسیاتی جنگ اور بنی گالا کے کتے
پچھلی پوسٹ
امریکی موسیقار روڈ رگس

متعلقہ پوسٹس

حج اکبر

دسمبر 10, 2019

اپنی وحشت پہ رو رہا ہوں میں

جنوری 20, 2024

حال دل کا تمہیں سنائیں کیا

مارچ 5, 2023

شام کے سائے جلتے رہیں گے

اپریل 5, 2020

ہوا جیسے کوئی بندِ قبائے نسترن کھولے

اکتوبر 27, 2020

عمر بھر درد کا جو

مئی 31, 2024

مٹا کے نقش سبھی دل سے

اکتوبر 16, 2025

اپنی خوشی سے تیری رضا

مارچ 7, 2022

کیا کرے شمع ِ نوخیز

مارچ 8, 2025

نئی بیوی

نومبر 2, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پیرن

جنوری 24, 2020

غزل کے سینے میں روز

مئی 14, 2024

دو چار دن ہے رونقِ بازار...

جنوری 8, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں