کسی کو میسر نہ ہو سکی یہ سعادت
با کعبہ ولادت، بمسجد شہادت
مسلم اوّل شہِ مرداں علیؑ
عشق کا سرمایہ، ایمان علیؑ
از ولایتِ دودمانش زندہام
در جہاں مثلِ گوہر تابندہام
13 رجب المرجب مولائے کائنات، حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولادتِ باسعادت کا دن ہے۔ اسی مناسبت سے یہ تحریر رقم کی گئی ہے تاکہ اس عظیم ہستی کا کچھ ذکر معصوم بزبانِ معصوم پیش کیا جا سکے، جو ہماری فہم و توان کے مطابق ہو۔ اسے آپ عزیزان اور عشّاقِ محمدؐ و آلِ محمدؑ کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
امام علی کشتی نجات ہے
امام رضاؑ نے ایک حدیث میں امام علیؑ کو کشتیٔ نجات قرار دیا ہے۔ آپؑ اپنے آباء و اجداد کے واسطے سے امیرالمؤمنین علیؑ سے نقل کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص نجات کی کشتی پر سوار ہونا چاہے، مضبوط کڑی کو تھامنا چاہے اور اللہ کی محکم رسی کو پکڑنا چاہے، وہ میرے بعد علیؑ کی ولایت کو قبول کرے، اس کے دشمنوں سے دشمنی رکھے اور اس کی اولاد میں سے ہدایت دینے والے ائمہؑ کی پیروی کرے؛ کیونکہ وہ میرے جانشین، میرے اوصیاء اور میرے بعد مخلوق پر اللہ کی حجت ہیں۔ وہ میری امت کے سردار اور متقین کو جنت کی طرف لے جانے والے راہنما ہیں۔ ان کا گروہ میرا گروہ ہے اور میرا گروہ اللہ عزوجل کا گروہ ہے، جبکہ ان کے دشمنوں کا گروہ شیطان کا گروہ ہے۔”
علیؑ؛ ولایت کی پہچان کا معیار
امام رضاؑ نے مختلف مواقع پر قرآنِ کریم کی آیات کی تفسیر کے ذریعے نہ صرف قرآن کو مہجوریت سے نکالا بلکہ ولایت کے مسئلے کو تمام اسلامی فرقوں کے نزدیک قابلِ قبول دلائل کے ساتھ واضح فرمایا۔
اسماعیل بن علی بن زرین اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ امام رضاؑ نے فرمایا: میں نے اپنے والد موسیٰ بن جعفرؑ سے، انہوں نے امام جعفر صادقؑ سے، انہوں نے امام محمد باقرؑ سے، انہوں نے امام زین العابدینؑ سے، انہوں نے امام حسینؑ سے اور انہوں نے امیرالمؤمنین علیؑ سے سنا کہ رسولِ خدا ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
"اہلِ دوزخ اور اہلِ جنت برابر نہیں، اہلِ جنت ہی کامیاب ہیں۔”
پھر رسول ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ اہلِ جنت وہ ہیں جو میری اطاعت کریں، علیؑ کے سامنے تسلیم ہوں اور ان کی ولایت کو قبول کریں، جبکہ اہلِ دوزخ وہ ہیں جو علیؑ کی ولایت سے بیزاری اختیار کریں، ان سے عہد توڑیں اور ان کے خلاف جنگ کریں۔
امام علیؑ؛ قرآنِ ناطق
امام رضاؑ کی روایات کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ آپؑ احادیث کو مسلسل معصومینؑ کے سلسلۂ سند کے ساتھ رسولِ اکرم ﷺ تک پہنچاتے ہیں۔ اس طرح آپؑ امت کو فکری اور ثقافتی قیادت کا خالص سرچشمہ متعارف کرواتے ہیں۔
اسی سلسلے میں امام رضاؑ نے امیرالمؤمنین علیؑ سے یہ قول نقل فرمایا:
"دنیا سراسر جہالت ہے، سوائے ان مقامات کے جہاں علم ہو؛ اور علم بھی حجت ہے، مگر وہ علم جس پر عمل کیا جائے؛ اور عمل بھی سراسر ریا ہے، مگر وہ جو اخلاص سے ہو؛ اور اخلاص بھی خطرے میں ہے، یہاں تک کہ بندہ دیکھ لے کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔”
شیعہ و سنی روایات کے مطابق امام علیؑ اور آپؑ کی اولاد قرآنِ ناطق ہیں، یعنی قرآن کے حقیقی مفسر، علمِ الٰہی کے مظہر اور اس کے تمام اسرار کے عالم۔ امام رضاؑ نے بھی امام علیؑ کو "النّاطق بالقرآن” کے عنوان سے یاد فرمایا ہے۔
جنت اور جہنم کے تقسیم کرنے والے
شیعہ و سنی احادیث کے مطابق امام علیؑ کو قسیمُ الجنۃ و النار کہا گیا ہے۔ اس مفہوم کو امام رضاؑ نے نہایت حکیمانہ انداز میں بیان فرمایا۔
ابوالصلت ہروی روایت کرتے ہیں کہ مأمون نے امام رضاؑ سے پوچھا: امیرالمؤمنین علیؑ کس وجہ سے جنت اور جہنم کے تقسیم کرنے والے کہلاتے ہیں؟
امام رضاؑ نے فرمایا: کیا تم نے اپنے آباء کے واسطے سے ابنِ عباس سے رسولِ خدا ﷺ کا یہ قول نہیں سنا کہ:
"علیؑ کی محبت ایمان ہے اور ان سے بغض کفر ہے؟”
جب مأمون نے اس کا اقرار کیا تو امامؑ نے فرمایا: جب ایمان اور کفر کا معیار علیؑ کی محبت اور دشمنی ہے، تو جنت اور جہنم کی تقسیم بھی اسی بنیاد پر ہو گی؛ لہٰذا علیؑ قسیمُ الجنۃ و النار ہیں۔
امام علیؑ کی سب سے بڑی فضیلت
ایک دن مأمون نے امام رضاؑ سے پوچھا: امیرالمؤمنین علیؑ کی وہ سب سے بڑی فضیلت کون سی ہے جس پر قرآن بھی دلالت کرتا ہو؟
امام رضاؑ نے فرمایا: آیۂ مباہلہ۔
اس آیت میں "اَنْفُسَنا” کے لفظ کے ذریعے امام علیؑ کو رسولِ خدا ﷺ کا نفس قرار دیا گیا، جو آپؑ کے کمال، عصمت اور بلند ترین مقام کی روشن دلیل ہے۔ واقعۂ مباہلہ کے موقع پر رسول ﷺ نے علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ اور حسینؑ کو اپنے ساتھ لیا، جس سے واضح ہوا کہ یہ ہستیاں نبوت کی صداقت کی دلیل اور دینِ اسلام کا روشن برہان ہیں۔
یہ ایسی منفرد فضیلت ہے جس میں امت کا کوئی فرد امیرالمؤمنین علیؑ کا شریک نہیں، اور یہی آپؑ کے عظیم، بے مثال اور یکتا مقام کا واضح ثبوت ہے۔
محمد حسین بہشتی
