خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابادیوالی
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرقاضی عبد الستار

دیوالی

از قاضی عبد الستار فروری 5, 2022
از قاضی عبد الستار فروری 5, 2022 0 تبصرے 66 مناظر
67

پورب کا تمام آسمان گلابی روشنی میں جگمگا رہا تھا جیسے دیوالی کے چراغوں کی سیکڑوں چادریں ایک ساتھ لہلہا رہی ہوں۔ اس نے السا کر چٹائی سےاپنے آپ کو اٹھایا۔ پتلے مٹیالے تکیے کے نیچے سے بجھی ہوئی بیڑی نکالی اور پاس ہی رکھی ہوئی مٹی کی نیائی میں دبی اپلے کی آگ سلگائی۔ جلدی جلدی دو دم لگائے۔ جیسے ہی وہ چڑچڑا کر بھڑ کی اس نے منہ سے تھوک دی اور دور سے آتی ہوئی آواز کو غور سے سننے کی کوشش کی جیسے رات میں چوکیدار قدموں کی چاپ سمجھنےکی کوشش کرتا ہے۔ اب وہ مالک کی آواز میں غصے سے بھنے ہوئے لفظوں کے پٹاخے سننے لگا۔

’’میکوا!‘‘

’’ابے میکوا کے بچے!‘‘

’’کیا سانپ سونگھ گیا؟‘‘

وہ مانگے کی جلدی میں ہڑبڑاکر اٹھا اور لال اینٹوں کے بنے ہوئے اس کٹھار کی طرف چلا جو ہرے بھرے فارم کی بیچوں بیچ اکڑوں بیٹھا تھا جیسے دھان کے کھیت میں حفاظت کے لیے لکڑی کے پتلے پر چنری لپیٹ دی گئی ہو۔ دھارے کی سیڑھیوں پر پاؤں رکھتے ہی بالکل اس کے کان کےپاس پٹاخوں کی ایک لڑاس طرح داغ گئی تو اس کے کانوں کی جلد بارود سے جھلس گئی۔

’’اتنی دیر سے گہرائے جارہے ہو۔۔۔ لیکن کانوں میں تیل ڈالے پڑے اینڈ رہے ہو۔۔۔ سنائی نہیں پڑتا بالکل۔ کہا تھا کہ آج دیوالی کے دن تو ذرا بھوراہر سے اٹھ پڑتے اپنے آپ۔ یہ ساری صفائی ستھری کرنےتمہارا باپ آوے گاگنگاجی سے۔‘‘

’’مالک‘‘

’’مالک کے بچے۔۔۔ یہ بانس اٹھا۔۔۔ اس میں جھاڑو باندھ کے جالے چھڑا۔ مالک۔۔۔ ہنھ۔‘‘

اس نے زمین پر لیٹے ہوئے ہرے ہرے بانس کی گانٹھوں کو نہارتے ہوئے اس کی پھننگ میں ایک پرانی سی جھاڑو پروئی اور سامنے کےکمرے میں گھس گیا۔ جالے جھاڑتے جھاڑتے سامنے کی دیوار کے بیچوں بیچ بڑے سے طاق میں سجی ہوئی لکشمی جی کی تصویر پر نگاہ پڑی تو اس نےجلدی سے بانس کاندھے سے لگاکر ہاتھ جوڑ لیے۔ جب آنکھ کھولی تو جیسے دیوار ایک طرف سے پھٹ گئی اور اس کی اپنی لکشمی لال لال دھوتی باندھے دونوں ہاتھوں میں تھالی سنبھالے گھونگھٹ میں چراغ جلائے کھڑی تھی۔ وہ بڑی دیر تک اسی طرح پتھر کا بناگھورتا رہا اور جب ریڑھ کی ہڈی میں چیونٹیاں رینگنے لگیں تو وہ جیسے جاگ پڑا۔ کاندھے سے بانس اٹھاکر وہ پھر مشین کی طرح شروع ہوگیا۔

ایک ایک کمرہ چندن ہوگیا۔ ایک ایک اینٹ اجلی ہوگئی۔ ایک ایک انگل زمین دیواستھان کی طرح جیسے پلکوں کی جھاڑو سے جھاڑ دی گئی۔ اور وہ جب ٹیوب ویل کے پاس سے گزرا تو اس کا جی چاہا کہ لمبے چوڑے سے حوض میں گرتی ہوئی پانی کی موٹی سی دھار کے نیچے اپنے آپ کو ڈال دے اور تھوڑی دیر چپی سادھے پڑا رہے۔

لیکن مالک؟

اور وہ اپنی ناک سے جالوں کے بال جھاڑتا ہوا ٹیوب ویل کے انجن کی طرف چلا اور اس کے پہیوں پر جمے ہوئے مٹی لوندے چھڑانےلگا اور جب آٹا پیسنے والے اور دھان کوٹنے والے انجن تک نہادھوکر نئے کپڑے پہن کر کھڑے ہوگیے اور تھکن اس کی ہڈیوں کے گودے میں سرسرانےلگی تو اس نے باہر نکل کر آسمان کو دیکھا جو دکھوں کے گٹھر باندھ باندھ کر دکھیوں کی کھوپڑیوں پر لادا کرتا ہے۔ نگاہ زمین پر اتری تو اپنی لمبی سی پرچھائیں پر ٹھٹک گئی۔ شام کا سنہرا رتھ آسمان کے پچھم کی رو سے گزر رہا تھا۔ وہ وہیں اسی جگہ دھپ سے زمین پر بیٹھ گیا اور مالک کے طاق میں رکھے کھلے بنڈل سے چرائی ہوئی دوسری بیڑی سلگانےکے لیے ادھر ادھر دیکھنے لگا تو چنی مہیتا نظر آئے۔

’’پائیں لاگن مہاراج۔‘‘

’’تم کا آشیرواد دئیی یا شراپ۔ رہو تم کشل منگل۔‘‘

چنی مہیتا کے ہونٹوں پر چھائی ہوئی مونچھوں کی چھپریا سے بول اس طرح ابل پڑے جیسے اولتی سے پانی برستاہے۔ مہیتا نے اپنے کرتے کی پتلی پتلی آستین کہنیوں پر الٹ لیں اور ہاتھوں کے بالوں کے کھچڑی کے چاول گلابی دھوپ میں دمک اٹھے۔

’’بیڑی سے چھٹکارا پاؤ تو ہماری بات بھی سن لیو۔‘‘

’’دھنیہ ہو مہاراج۔۔۔ سبیر سے سانجھ ہوئے رہی ہے، پھٹکی بھر گڑ کے علاوہ ایک کھیل تک اڑکے پیٹ میں نائیں گئی۔بیل بدھیا تک سویرے سے جوتے جاتے ہیں تو دوپہر ہوتے ہوتے کھول دیے جاتے ہیں۔ دانہ کھلی اگر نہیں ملتا ہے تو گھنٹہ دو گھنٹہ چارا بھونسہ کھاتے ہیں۔ جم کے سستاتے تب سانجھ کو گھٹری کے لیے جوتے جاتے ہیں اور ایک ہم ہیں، وہی ہم سے اچھے۔‘‘

’’کون سے نیتا کا بھاشن سنے رہے۔ جبان ہے کہ بالکل طوفان میل۔ ٹیسن پر ٹیسن چھوڑتی چلتی جائے رہی ہے۔ ایں۔‘‘

’’تیج تیوہار کیا کوئی روج روج آتے ہیں پھر پکی خوراک اور مٹھائی اور پرسادانی سب کا پیڑن مان لگت ہیں کہ توڑ توڑ تھارے منہ میں ڈال دیں جائیں۔‘‘

’’تو اب ساتھ ہی ساتھ مہاراج لہو بانچ دیو کاحکم ہے۔‘‘

’’حکم دے والے تو گیے ہیں سیر کو اپنے بیوی بچوں کے ساتھ۔ ہم سے بتائے کہہ گیے ہیں کہ ان کے لوٹنے تک سب کام کاج فٹ کرکے چھوڑیں۔ تو بھین جلدی سے سیڑھی لگاؤ۔ دیا بتی ہم سب تیار کرائے لیا ہے تم رکھنا شروع کرو۔‘‘

’’پارسال تو مہاراج یو کام سورج ڈوبتے ڈوبتے ہوارہے۔‘‘

’’اوہوں۔ پار سال آدمی تو رہین درجن بھر۔‘‘

’’تو آج اوئی سب آدمی کہاں کھوئے گیے۔‘‘

’’کھوئے کہاں جاتے۔ ہیں سب اپنی اپنی جگہ۔ مل ان کی مجدوری ہوئے گئی ہے دگنی۔‘‘

’’اور مالک کا آلوبکا ہے ادھیاپر۔‘‘

’’سوبوری دیوالی دکھیا میکو کے متھے بہت گئی۔‘‘

’’دکھیا میکو ہوویں چاہےمکھیا ،میکو اپنی کتھا اٹھائےرکھیں کونوں اور دن کے لیے اورپھرتی سے سیڑھی لگائے لیں۔‘‘

چنی مہیتا نے پیٹھ گھمالی اور اوسارے کی طرف چلے۔ جہاں بھاری بھاری نہائی دھوئی بھینسیں اجلی اجلی گھنٹیاں پہنے پتلی پتلی مونچھوں سےموٹی موٹی مکھیاں اڑا رہی تھیں۔ وہ تھوڑی دیر اکڑوں بیٹھا رہا پھر اپنے پورے بدن پر ایک نگاہ ڈالی جیسے پہلوان اکھاڑے میں اترنے سے پہلے اپنے اوپر نرم نرم تازی مٹی ڈالتے ہیں اور جب گڑھ جیت کر وہ سیڑھی سے اترا اور چنی مہاراج نے چمرودھے جوتے سے پاؤں نکال کر ڈنڈے پر رکھا۔ اس وقت تک سانجھ جیسے ایکاایکی جوان ہوچکی تھی۔ وہ اپنی پنڈلیوں پر اپنا آپ گھسیٹتا ہوا حوض پر آیا اور بلا کچھ سوچے سمجھے جھم سے پھاند پڑا۔

بیساکھ کی دھوپ میں تھکن سے بلبلاتے ہوئے بھینسے کی طرح گردن ڈالے دم سادھے دیر تک کھڑا رہا اور منڈیروں پر جلتے ہوئے دیو کی تھرتھراتی ہوئی لوؤں کاتماشہ دیکھتا رہا۔ جادو کی سی روشنی کایہ تماشا دیکھتے دیکھتے اسے اپنی چھاتی میں ہونکے ہوئے سنسان اندھیرے کا سرامل گیا جہاں دور دور تک وہاں تک جہاں نگاہ پہنچ سکتی ہے کوئی چراغ نہ تھا، کوئی جگنو نہ تھا کوئی چنگاری نہ تھی۔ اگر کچھ تھا تو ایک عورت کے چہرے کی مسکان تھی جس کی گرمی جیسے دل کی دھڑکن ابھی زندہ تھی۔ سلگتے ہوئے اپلے کی طرح بھربھری راکھ میں دبی ہوئی مدھم سی آگ تھی جو زیادہ سے زیادہ سینےکی دھونکنی کے سہارے ایک بیڑی سلگاسکتی تھی اور کچھ بھی نہیں۔

’’مکھیا میکو‘‘

’’چنی مہاراج کی آواز کا جوتا بھڑ سے اس کے کان پر پڑا۔‘‘

’’نہائے چکن مہاراج؟‘‘

وہ چھپر چھپر کرتا باہر نکلا اور اس کوٹھری کی طرف چلا جس کےایک دروازے اور ساڑھے تین دیواروں پر ٹین کی پتلی سی چھت بہت سی اینٹوں کے نیچے کچلی ہوئی رکھی تھی۔ کونے میں دھرے گھڑے سے اپنی اکلوتی قمیص اور دھوتی جو تیوہاروں پر دھیرویر کی طرح نکلتی نکالی اور بھیگے انگوچھے سے مہینوں کے بالوں سے ٹپکتے پانی کو پونچھنےلگا۔ پھر سج بن کر نکلا۔ پورا کٹھار پوجا کی تھالی کی طرح چراغوں سے جگمگا رہا تھا اور مالک کا بڑا لڑکا ایک نوکر کے ساتھ بھینسوں کے پاس کھڑا مہتاب چھڑا رہا تھا۔ اس نے سیڑھیاں چڑھنے کے لیے پاؤں اٹھایا تو معلوم ہوا کہ پاؤں اس کا پاؤں نہیں ہے، کسی نے جان چھڑانے کے لیے منگنی میں دے دیا ہے۔ وہ ذرا سا جھول گیا پھر سنبھل کر دالان میں آرام کرسی پر ڈھیر مالک کے سامنے آیا۔ اس نے جھک کر پاؤں چھولیے۔ پھر ایک کمہار اندر سےآیا اور ایک بڑا سا پتل اس کے پھیلے ہوئے ہاتھوں میں ڈال دیا۔ پوریوں اور کچوریوں کی ڈھیریوں کے بیچ میں تھوڑی سی مٹھائی نگینوں کی طرح رکھی تھی وہ اسے لے کراپنی کوٹھری کی طرف چلا کہ چنی مہاراج کی آواز نےبریک لگادیا۔

’’پرساد تو لیتے جاؤ میکو مکھیا۔‘‘

اس نے چمک کر ایک دھوتی میں لپٹے ہوئے سارے سموچے مہاراج کو دیکھا اور ڈھاک کے تازہ ملائم پتل کی چھوٹی سی پڑیا رکھ لی۔ کوٹھری کااندھیراسیکڑوں چراغوں کی لہر میں لپٹی روشنی میں ذرامدھم ہوگیا تھا۔ اس مدھم روشنی میں اس نے ایک پوری میں ترکاری لپیٹ کر منہ میں رکھی تو اس کے ذائقے سےکوٹھری میں دیوالی کے کئی چراغ چمک اٹھے۔ اس نے دوپوریوں کے ساتھ پوری مٹھائی اور پرساد کا دونا بنالیا اور ایک پتل ڈھک کر سینکوں سے سی لیا اور جو کچھ بچا اسے اپنے پیٹ میں انڈیل لیا اور لوٹا بھر پانی پی کر بیڑی ڈھونڈنےلگا کہ باہر سے ایک آواز اس کے پاس آئی اور گردن پکڑ کر لے گئی۔ مالک حکم دے رہے تھے۔

’’آج رات ذرا احتیاط سے سوناہاں۔‘‘

اور ساتھ ہی مالکن نے ایک بول کا پرساد دیا۔

’’اگر بھوکا رہ گیا ہے تو کہار سے دال بھات مانگ لے اچھا۔‘‘

اس نے نگاہ بھر کر مالکن کو دیکھا جو کپڑوں اور گہنوں میں بنی سنوری دیوی کی مدرا میں کھڑی تھیں اور پھر کبھی ایسا ہوا کہ جہاں دیوی کھڑی تھی اسی جگہ اس مدرا میں اس کی لچھمی آکھڑی ہوگئی اور اس کا جی چاہا کہ عبیر اور چندن اور گلابی کےاس ڈھیر کو اپنے آپ میں سمیٹ لے لیکن دوارے سے جیپ کاانجن بھینس کی طرح ڈکرا رہا تھا۔ اس نے آنکھیں گڑوگڑوکر ہر طرف دیکھا لیکن وہاں کوئی نہ تھا۔ وہ لکڑی کے پیروں پر گھسٹتا ہوا دالان میں پہنچا۔ مالک کی کرسی کے نیچے سگریٹ کا بڑا سا ٹرا پڑا تھا۔ ایک چراغ سے سلگا کر ایک دم لگایا تو جیسے جی ہلکا ہوگیا۔ دکھ کی تمام چڑیاں اڑگئیں۔ وہ وہیں کھمبے سے لگ کر بیٹھ گیا۔ جب آنکھ کھلی تو اس کابازو پکڑے چنی مہاراج کھڑے تھے۔

’’کاسوئے گوارے؟‘‘

’’نائیں تو۔آپ بیٹھ جاؤ۔ ایک بات ہے۔‘‘

’’آج ہم کا چار گھنٹے کی چھٹی دے دو آپ۔ گھنٹہ بھر جانے کا گھنٹہ بھر آنے۔ او دو گھنٹے درسن کا اور پھر گھڑی دیکھ لیو۔‘‘

’’کہاں جاوے گارے؟‘‘

’’سیتا پور‘‘

’’بھانگ کھائے گوا ہے۔ سیتا پور کوئی یہاں دھرا ہے۔ دس کوس ڈاٹ کے ہے۔‘‘

’’ہوا کرے۔ تمری سائیکل پر دس کوس جمین میکوا کےلیے گھنٹہ بھر کی ہے۔‘‘

’’تیل باتی کا انتظام؟‘‘

’’دیکھو مہاراج ای منگل کا چار مہینہ ہوئے درسن کا۔‘‘

چنی مہاراج نے اپنی گردن کندھوں سے آگےنکال دی۔

’’اور مالک؟‘‘

’’اب مالک تم ہو ہمرے اور ہم ہیں دکھیا۔‘‘ اور اس نےمہاراج کے دونوں پاؤں پکڑلیے۔

’’آج چھٹی دے دیو پھر جون حکم دینا پورا ہوئی۔‘‘

’’بولے تو سانچ ہے مل آج کی رات آدمی کون ملی۔ آج کی رات چور چگار اپنا گن جگاتے ہیں اور جیسے بنے ویسے کرلیو مل۔‘‘

’’تو اگر تم تیار ہو تو دس پانچ روپیہ کھرچ کرکے کوئی بندوبست کریں۔‘‘

’’دس پانچ روپیہ؟‘‘

’’ناہیں بھائی۔ تم جب گہیوں بوا جائے تو رات میں ہل چلانے دیو دوچار داؤ۔‘‘ اس نے سیدھی انگلی سے دوچار لکیریں بنائیں اور حکمی آوازمیں بولا،’’منجور مہاراج ہم چار راتیں چلاوے پر تیار پکی بات ہے۔‘‘

’’ایک بات اور‘‘

’’وہو بول دیو‘‘

’’مالک کا پتہ نہ چلے نہیں تو۔۔۔‘‘

’’کانوں کان پتہ نہ چلی کوئی کا۔‘‘

’’تو پھر منجور۔ اٹھو اور ایک داؤں دیا بتی کا دیکھ لیو۔ جانےکےلیے وہ اس طرح اٹھا جیسے ابھی ابھی جیل کاپھاٹک کھلا ہے۔‘‘

بارہ بجنےمیں دیر تھی لیکن وہ چنی مہاراج کی سائیکل بغل میں مار کراوکھ کے سائے سائے چراغوں کی اندھرائی آنکھوں سے راستہ ٹٹولتا نہر کی پٹری پر آگیا اور لچھمی کا دھیان کرکے سائیکل پر سوار ہوکر پیڈل اوٹنےلگا۔ جب تھکن چڑھنے لگتی تو وہ دیکھتا کہ لچھمی دوارےسے آرتی لیے چراغ جلائے، پھول مٹھائی اور پان لیے اس کی راہ دیکھ رہی ہے اور پھر جیسے اس کی بیٹری چارج ہوجاتی۔لیکن جب سائیکل کے اگلے پہیے نے لچھمی کے دوارےسے ٹکر ماری تو لچھمی کے بجائے ویرانی اندھیرے کی آرتی میں تنہائی کا چراغ جلائے اس کے سواگت میں کھڑی تھی۔ اس نے دوبارہ ہاتھ سے دستک دی۔ لچھمی کی ماں کی کھانستی آواز نے کون کون کی رٹ لگا دی۔ دروازہ کھلا تو اس نے اپنی چندھی آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا لیکن وہ اسےراستے سے ہٹاتا ہواسائیکل سمیت گھر میں داخل ہوگیا۔

’’لچھمی کہاں ہے دائی؟‘‘

اور لچھمی کی ماں نے پھونک مار کر اس کے بدن کےتمام جلتے چراغ بجھادیے،’’واتو بڑی دیر کی گئی ہے تمرے گاؤں۔‘‘

’’ہمرے گاؤں؟‘‘

’’ہاں آج سبیرے سے انتظام کر رہی تھی۔ دوپہر میں روٹی کھانے بھی نہیں آئی۔ سانجھ کو جب آئی تو رونےلگی کہ مالک چھٹی نائن دے رہے ہیں ہم سے رونانائن دیکھا گیا توہم نے بھیلی سے کہا رات کی خدمت پر تم چلی جاؤ۔‘‘

’’بھیلی؟‘‘

’’ہاں‘‘

’’بھیلی جانے پر تیار نائن رہے، کاہے سے کہ اوکا گونا آنےوالا ہے مل ہم بڑی کھوسامد کیا۔ تب رووت دھووت وا گئی اور لچھمی منہ جھٹال کی ساری پوری مٹھائی باندھ کے۔‘‘

وہ دھپ سے اسی جگہ بیٹھ گیا۔ گردن سے انگوچھا اتارکر دونا کھولنے لگا تو معلوم ہوا مانو اس کی انگلیاں جھڑ گئی ہیں۔ پاؤں گرگیے ہیں اور کندھوں پر کاٹھ کی ہنڈیا رکھی ہے۔ اس نے لکڑی کی زبان کو بڑی محنت سے ہلایا، ’’بھیلی کے سسرال والے اگر جان گیے تو؟‘‘

’’بندھوا مزدور کی لڑکی کے پاس بیٹاچھپانے کو ہوت کا ہے جو چرانے چھپانے کی فکر کی جائے۔‘‘

اورجیسے اس کی آنکھوں کے سامنے لچھمی دیو استھان سے گری اور لڑھکتی ہوئی گھوڑے میں ڈھیر ہوگئی۔

قاضی عبد الستار

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خواہش
  • جنوں کو رخت کیا خاک کو لبادہ کیا
  • آدھے چہرے
  • کِنّی کا راجکمار
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
قاضی عبد الستار

اگلی پوسٹ
نومی
پچھلی پوسٹ
اردو افسانہ ” دشا  "مصنف نظیر نظر جوہر

متعلقہ پوسٹس

خاموش عورت

فروری 2, 2020

شباہت فردوس

جون 20, 2024

پیار میں ڈر کہاں سے لےآئے

مارچ 21, 2020

‪فوتگی کا مینیو

دسمبر 18, 2025

شانتی

جنوری 12, 2020

سو کینڈل پاور کا بلب

جنوری 23, 2020

گزر ہی جائے گی شب ، رابطہ نہیں کرنا

مئی 28, 2020

قائدِ مُلک و ملت

جولائی 31, 2022

رومانوی خیالات کی دنیا

اپریل 1, 2023

سنو! اَب بھی یہاں مَیں ہوں

مئی 20, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

آدھا چاند فلک پر دیکھا

اپریل 10, 2025

شجاع شاذ – تغیر و تبدل...

اپریل 15, 2016

میر صاحب کا زندہ عجائب گھر

مئی 27, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں