خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےشانتی
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

شانتی

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 12, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 12, 2020 0 تبصرے 402 مناظر
403

شانتی

دونوں پیرے ژین ڈیری کے باہر بڑے دھاریوں والے چھاتے کے نیچے کرسیوں پر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ ادھر سمندر تھا جس کی لہروں کی گنگناہٹ سنائی دے رہی تھی۔ چائے بہت گرم تھی۔ اس لیے دونوں آہستہ آہستہ گھونٹ بھر رہے تھے موٹی بھوروں والی یہودن کی جانی پہچانی صورت تھی۔ یہ بڑا گول مٹول چہرہ، تیکھی ناک۔ موٹے موٹے بہت ہی زیادہ سرخی لگے ہونٹ۔ شام کو ہمیشہ درمیان والے دروازے کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی دکھائی دیتی تھی۔ مقبول نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور بلراج سے کہا۔ ’’بیٹھی ہے جال پھینکنے۔‘‘

بلراج موٹی بھوؤں کی طرف دیکھے بغیر بولا۔ ’’پھنس جائے گی کوئی نہ کوئی مچھلی۔‘‘

مقبول نے ایک پیسٹری منہ میں ڈالی۔ ’’یہ کاروبار بھی عجیب کاروبار ہے۔ کوئی دکان کھول کر بیٹھتی ہے۔ کوئی چل پھر کے سودا بیچتی ہے۔ کوئی اس طرح ریستورانوں میں گاہک کے انتظار میں بیٹھی رہتی ہے۔۔۔ جسم بیچنا بھی ایک آرٹ ہے، اور میرا خیال ہے بہت مشکل آرٹ ہے۔۔۔ یہ موٹی بھوؤں والی کیسے گاہک کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ کیسے کسی مرد کو یہ بتاتی ہو گی کہ وہ بکاؤ ہے۔‘‘

بلراج مسکرایا۔ ’’کسی روز وقت نکالو کہ کچھ دیر یہاں بیٹھو۔ تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ نگاہوں ہی نگاہوں میں کیوں کر سودے ہوتے ہیں اس جنس کا بھاؤ کیسے چُکتا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ایک مقبول کا ہاتھ پکڑا۔ ’’اُدھر دیکھو، اُدھر۔‘‘

مقبول نے موٹی یہودن کی طرف دیکھا۔ بلراج نے اس کا ہاتھ دبایا۔ ’’نہیں یار۔۔۔ اُدھر کونے کے چھاتے کے نیچے دیکھو۔‘‘

مقبول نے ادھر دیکھا۔ ایک دبلی پتلی، گوری چٹی لڑکی کرسی پر بیٹھ رہی تھی۔ بال کٹے ہوئے تھے۔ ناک نقشہ ٹھیک تھا۔ ہلکے زرد رنگ کی جارجٹ کی ساڑھی میں ملبوس تھی۔ مقبول نے بلراج سے پوچھا۔ ’’کون ہے یہ لڑکی؟‘‘

بلراج نے اس لڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا۔ ’’اماں وہی ہے جس کے بارے میں تم سے کہا تھا کہ بڑی عجیب و غریب ہے۔‘‘

مقبول نے کچھ دیر سوچا پھر کہا۔ ’’کون سی یار تم، تم تو جس لڑکی سے بھی ملتے ہو عجیب وغریب ہی ہوتی ہے۔‘‘

بلراج مسکرایا۔ ’’یہ بڑی خاص الخاص ہے۔۔۔ ذرا غور سے دیکھو۔‘‘

مقبول نے غور سے دیکھا۔ بریدہ بالوں کا رنگ بھوسلا تھا۔ ہلکے بسنتی رنگ کی ساڑھی کے نیچے چھوٹی آستینوں والا بلاؤز۔ پتلی پتلی بہت ہی گوری بانہیں۔ لڑکی نے اپنی گردن موڑی تو مقبول نے دیکھا کہ اس کے باریک ہونٹوں پر سرخی پھیلی ہوئی سی تھی۔ ’’میں اور تو کچھ نہیں کہہ سکتا مگر تمہاری اس عجیب و غریب لڑکی کو سرخی استعمال کرنے کا سلیقہ نہیں ہے۔۔۔ اب اور غور سے دیکھا ہے تو ساڑھی کی پہناوٹ میں بھی خامیاں نظر آئی ہیں۔ بال سنوارنے کا انداز بھی ستھرا نہیں۔‘‘

بلراج ہنسا۔ ’’تم صرف خامیاں ہی دیکھتے ہو۔ اچھائیوں پر تمہاری نگاہ کبھی نہیں پڑتی۔‘‘

مقبول نے کہا۔ ’’جو اچھائیاں ہیں وہ اب بیان فرما دیجیے، لیکن پہلے یہ بتا دیجیے کہ آپ اس لڑکی کو ذاتی طور پر جانتے ہیں یا۔۔۔‘‘

لڑکی نے جب بلراج کو دیکھا تو مسکرائی۔ مقبول رک گیا۔ ’’مجھے جواب مل گیا۔ اب آپ محترمہ کی خوبیاں بتا دیجیے۔‘‘

سب سے پہلی خوبی اس لڑکی میں یہ ہے کہ بہت صاف گو ہے۔ کبھی جھوٹ نہیں بولتی۔ جو اس اس نے اپنے لیے بنا رکھے ہیں ان پر بڑی پابندی سے عمل کرتی ہے۔ پرسنل ہائی جین کا بہت خیال رکھتی ہے۔ محبت و حبت کی بالکل قائل نہیں۔ اس معاملے میں دل اس کا برف ہے۔‘‘

بلراج نے چائے کا آخری گھونٹ پیا ’’کہیے کیا خیال ہے؟‘‘

مقبول نے لڑکی کو ایک نظر دیکھا۔ ’’جو خوبیاں تم نے بتائی ہیں ایک ایسی عورت میں نہیں ہونی چاہئیں۔ جس کے پاس مرد صرف اس خیال سے جاتے ہیں کہ وہ ان سے اصلی نہیں تو مصنوعی محبت ضرور کرے گی۔۔۔ خود فریبی ہیں اگر یہ لڑکی کسی مرد کی مدد نہیں کرتی تو میں سمجھتا ہوں بڑی بے وقوف ہے۔‘‘

’’یہی میں نے سوچا تھا۔۔۔ میں تم سے کیا بیان کروں، روکھے پن کی حد تک صاف گو ہے۔ اس سے باتیں کرو تو کئی بار دھکے سے لگتے ہیں۔۔۔ ایک گھنٹہ ہو گیا۔ تم نے کھلی کوئی کام کی بات نہیں کی۔۔۔ میں چلی، اور یہ جا وہ جا۔۔۔ تمہارے منہ سے شراب کی بو آتی ہے۔ جاؤ چلے جاؤ۔۔۔ ساڑھی کو ہاتھ مت لگاؤ میلی ہو جائے گی‘‘ یہ کہہ کر بلراج نے سگریٹ سلگایا۔ ’’عجیب و غریب لڑکی ہے۔ پہلی دفعہ جب اس سے ملاقات ہوئی تو میں بائی گوڈ چکرا گیا۔ چھوٹتے ہی مجھ سے کہا۔ ففٹی سے ایک پیسہ کم نہیں ہو گا۔ جیب میں ہیں تو چلو ورنہ مجھے اور کام ہیں۔‘‘

مقبول نے پوچھا۔ ’’نام کیا ہے اس کا۔‘‘

’’شانتی بتایا اس نے۔۔۔ کشمیرن ہے‘‘

مقبول کشمیری تھا۔ چونک پڑا ’’کشمیرن!‘‘

’’تمہاری ہم وطن۔‘‘

مقبول نے لڑکی کی طرف دیکھا۔ ناک نقشہ صاف کشمیریوں کا تھا۔ ’’یہاں کیسے آئی؟‘‘

’’معلوم نہیں!‘‘

’’کوئی رشتے دار ہے اس کا؟‘‘ مقبول لڑکی میں دلچسپی لینے لگا۔

’’وہاں کشمیر میں کوئی ہو تو میں کہہ نہیں سکتا۔ یہاں بمبئی میں اکیلی رہتی ہے۔‘‘ بلراج نے سگریٹ ایش ٹرے میں دبایا ’’ہاربنی روڈ یر ایک ہوٹل ہے، وہاں اس نے ایک کمرہ کرائے پر لے رکھا ہے۔۔۔ یہ مجھے ایک روز اتفاقاً معلوم ہو گیا ورنہ یہ اپنے ٹھکانے کا پتا کسی کو نہیں دیتی۔ جس کو ملنا ہوتا ہے یہاں پیرے ژین ڈیری میں چلا آتا ہے۔ شام کو پورے پانچ بجے آتی ہے یہاں!‘‘

مقبول کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر بیرے کو اشارے سے بلایا اور اس سے بل لانے کے لیے کہا۔ اس دوران میں ایک خوش پوش نوجوان آیا اور اس لڑکی کے پاس والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ دونوں باتیں کرنے لگے۔ مقبول بلراج سے مخاطب ہوا۔ ’’اس سے کبھی ملاقات کرنی چاہیے۔‘‘

بلراج مسکرایا۔ ’’ضرور ضرور۔۔۔ لیکن اس وقت نہیں۔ مصروف ہے۔ کبھی آ جانا یہاں شام کو۔۔۔ اور ساتھ بیٹھ جانا۔‘‘

مقبول نے بل ادا کیا۔ دونوں دوست اٹھ کر چلے گئے۔

دوسرے روز مقبول اکیلا آیا اور چائے کا آرڈر دے کر بیٹھ گیا۔ ٹھیک پانچ بجے وہ لڑکی بس سے اتری اور پرس ہاتھ میں لٹکائے مقبول کے پاس سے گزری۔ چال بھدی تھی۔ جب وہ کچھ دور، کرسی پر بیٹھ گئی تو مقبول نے سوچا۔ ’’اس میں جنسی کشش تو نام کو بھی نہیں۔ حیرت ہے کہ اس کا کاروبار کیونکر چلتا ہے۔۔۔ لپ اسٹک کیسے بے ہودہ طریقے سے استعمال کی ہے اس نے۔۔۔ ساڑھی کی پہناوٹ آج بھی خامیوں سے بھری ہے۔

پھر اس نے سوچا کہ اس سے کیسے ملے۔ اس کی چائے میز پر آ چکی تھی ورنہ اٹھ کر وہ اس لڑکی کے پاس جا بیٹھتا۔ اس نے چائے پینا شروع کر دی۔ اس دوران میں اس نے ایک ہلکا سا اشارہ کیا۔ لڑکی نے دیکھا کچھ توقف کے بعد اٹھی اور مقبول کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔ مقبول پہلے تو کچھ گھبرایا لیکن فوراً ہی سنبھل کر لڑکی سے مخاطب ہوا۔ ’’چائے شوق فرمائیں گی آپ۔‘‘

’’نہیں۔‘‘

اس کے جوابوں کے اس اختصار میں روکھا پن تھا۔ مقبول نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا۔ ’’کشمیریوں کو تو چائے کا بڑا شوق ہوتا ہے۔‘‘

لڑکی نے بڑے بے ہنگم انداز میں پوچھا۔ ’’تم چلنا چاہتے ہو میرے ساتھ۔‘‘

مقبول کو جیسے کسی نے اوندھے منہ گرا دیا۔ گھبراہٹ میں وہ صرف اس قدر کہہ سکا۔ ’’ہا۔۔۔ ‘‘

لڑکی نے کہا۔ ’’ففٹی روپیز۔۔۔ یس اور نو؟‘‘

یہ دوسرا ریلا تھا مگر مقبول نے اپنے قدم جما لیے ’’چلیے!‘‘

مقبول نے چائے کا بل ادا کیا۔ دونوں اٹھ کر ٹیکسی اسٹینڈ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں اس نے کوئی بات نہ کی۔ لڑکی بھی خاموش رہی۔ ٹیکسی میں بیٹھے تو اس نے مقبول سے پوچھا۔ ’’کہاں جائے گا تم؟‘‘

مقبول نے جواب دیا۔ ’’جہاں تم لے جاؤ گی۔‘‘

’’ہم کچھ نہیں جانتا۔۔۔ تم بولو کدھر جائے گا؟‘‘

مقبول کو کوئی اور جواب نہ سوجھا تو کہا۔ ’’ہم کچھ نہیں جانتا!‘‘

لڑکی نے ٹیکسی کا دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ ’’تم کیسا آدمی ہے۔۔۔ خالی پیلی جوک کرتا ہے۔‘‘

مقبول نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ’’میں مذاق نہیں کرتا۔۔۔ مجھے تم سے صرف باتیں کرنی ہیں۔‘‘

وہ بگڑ کر بولی ’’کیا۔۔۔ تم تو بولا تھا ففٹی روپیز یس!‘‘

مقبول نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور دس دس کے پانچ نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھا دیے۔ ’’یہ لو گھبراتی کیوں ہو۔‘‘

اس نے نوٹ لے لیے۔ ’’تم جائے گا کہاں۔‘‘

مقبول نے کہا۔ ’’تمہارے گھر۔‘‘

’’نہیں۔‘‘

’’کیوں نہیں۔‘‘

’’تم کو بولا ہے نہیں۔۔۔ ادھر ایسی بات نہیں ہو گی۔‘‘

مقبول مسکرایا۔ ’’ٹھیک ہے۔ ایسی بات ادھر نہیں ہو گی۔‘‘

وہ کچھ متحیر سی ہوئی۔ ’’تم کیسا آدمی ہے۔‘‘

’’جیسا میں ہوں۔ تم نے بولا ففٹی روپیز یس کہ نو۔۔۔ میں نے کہا یس اور نوٹ تمہارے حوالے کر دیے۔ تم نے بولا اُدھر ایسی بات نہیں ہو گی۔ میں نے کہا بالکل نہیں ہو گی۔۔۔ اب اور کیا کہتی ہو۔‘‘

لڑکی سوچنے لگی۔ مقبول مسکرایا۔ ’’دیکھو شانتی، بات یہ ہے۔ کل تم کو دیکھا۔ ایک دوست نے تمہاری کچھ باتیں سنائیں جو مجھے دلچسپ معلوم ہوئیں۔ آج میں نے تمہیں پکڑ لیا۔ اب تمہارے گھر چلتے ہیں۔ وہاں کچھ دیر تم سے باتیں کروں گا اور چلا جاؤں گا۔۔۔ کیا تمہیں یہ منظور نہیں۔‘‘

’’نہیں۔۔۔ یہ لو اپنے ففٹی روپیز۔‘‘ لڑکی کے چہرے پر جھنجلاہٹ تھی۔

’’تمہیں بس ففٹی روپیز کی پڑی ہے۔۔۔ روپے کے علاوہ بھی دنیا میں اور بہت سی چیزیں ہیں۔۔۔ چلو، ڈرائیور کو اپنا اڈریس بتاؤ۔۔۔ میں شریف آدمی ہوں۔ تمہارے ساتھ کوئی دھوکا نہیں کروں گا۔‘‘ مقبول کے انداز گفتگو میں صداقت تھی۔ لڑکی متاثر ہوئی۔ اس نے کچھ دیر سوچا پھر کہا۔ ’’چلو۔۔۔ ڈرائیور، ہاربنی روڈ!‘‘

ٹیکسی چلی تو اس نے نوٹ مقبول کی جیب میں ڈال دیے۔ ’’یہ میں نہیں لوں گی۔‘‘

مقبول نے اصرار نہ کیا۔ ’’تمہاری مرضی!‘‘

ٹیکسی ایک پانچ منزلہ بلڈنگ کے پاس رکی۔ پہلی اور دوسری منزل پر مساج خانے تھے۔ تیسری، چوتھی اور پانچویں منزل ہوٹل کے لیے مخصوص تھی۔ بڑی تنگ و تار جگہ تھی۔ چوتھی منزل پر سیڑھیوں کے سامنے والا کمرہ شانتی کا تھا۔ اس نے پرس سے چابی نکال کر دروازہ کھولا۔ بہت مختصر سامان تھا۔ لوہے کا ایک پلنگ جس پر اجلی چادر بچھی تھی۔ کونے میں ڈرسنگ ٹیبل۔ ایک اسٹول، اس پر ٹیبل فین۔ چار ٹرنک تھے وہ پلنگ کے نیچے دھرے تھے۔

مقبول کمرے کی صفائی سے بہت متاثر ہوا۔ ہر چیز صاف ستھری تھی۔ تکیے کے غلاف عام طور پر میلے ہوتے ہیں مگر اس کے دونوں تکیے بے داغ غلافوں میں ملفوف تھے۔ مقبول پلنگ پر بیٹھنے لگا تو شانتی نے اسے روکا۔ ’’نہیں۔۔۔ ادھر بیٹھنے کا اجازت نہیں۔۔۔ ہم کسی کو اپنے بستر پر نہیں بیٹھنے دیتا۔ کرسی پر بیٹھو یہ کہہ کروہ خود پلنگ پر بیٹھ گئی۔ مقبول مسکرا کر کرسی پر ٹک گیا۔

شانتی نے اپنا پرس تکیے کے نیچے رکھا اور مقبول سے پوچھا۔ ’’بولو۔۔۔ کیا باتیں کرنا چاہتے ہو؟‘‘

مقبول نے شانتی کی طرف غور سے دیکھا۔ ’’پہلی بات تو یہ ہے کہ تمہیں ہونٹوں پر لپ اسٹک لگانی بالکل نہیں آتی۔‘‘

شانتی نے برا نہ مانا۔ صرف اتنا کہا۔ ’’مجھے مالوم ہے۔‘‘

’’اٹھو۔ مجھے لپ اسٹک دو میں تمہیں سکھاتا ہوں‘‘ یہ کہہ کر مقبول نے اپنا رو مال نکالا۔

شانتی نے اس سے کہا۔ ’’ڈرسنگ ٹیبل پر پڑا ہے، اٹھا لو۔‘‘

مقبول نے لپ اسٹک اٹھائی۔ اسے کھول کر دیکھا۔ ’’ادھر آؤ، میں تمہارے ہونٹ پونچھوں۔‘‘

’’تمہارے رو مال سے نہیں۔۔۔ میرا لو۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ٹرنک کھولا اور ایک دھلا ہوا رو مال مقبول کو دیا۔ مقبول نے اس کے ہونٹ پونچھے۔ بڑی نفاست سے نئی سرخی ان پر لگائی۔ پھر کنگھی سے اس کے بال ٹھیک کیے اور کہا۔ ’’لو اب آئینہ دیکھو۔‘‘

شانتی اٹھ کر ڈرسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ بڑے غور سے اس نے اپنے ہونٹوں اور بالوں کا معائنہ کیا۔ پسندیدہ نظروں سے تبدیلی محسوس کی اور پلٹ کر مقبول سے صرف اتنا کہا۔ ’’اب ٹھیک ہے‘‘ پھر پلنگ پر بیٹھ کر پوچھا۔ ’’تمہارا کوئی بیوی ہے؟‘‘

مقبول نے جواب دیا۔ ’’نہیں۔‘‘

کچھ دیر خاموشی رہی۔ مقبول چاہتا تھا باتیں ہوں چنانچہ اس نے سلسلہ کلام شروع کیا۔

’’اتنا تو مجھے معلوم ہے کہ تم کشمیر کی رہنے والی ہو۔ تمہارا نام شانتی ہے۔ یہاں رہتی ہو۔۔۔ یہ بتاؤ تم نے ففٹی روپیز کا معاملہ کیوں شروع کیا؟‘‘

شانتی نے یہ بے تکلف جواب دیا۔ ’’میرا فادر سری نگر میں ڈاکٹر ہے۔۔۔ میں وہاں ہوسپیٹل میں نرس تھا۔ ایک لڑکے نے مجھ کو خراب کر دیا۔۔۔ میں بھاگ کر ادھر کو آ گئی۔ یہاں ہم کو ایک آدمی ملا۔ وہ ہم کو ففٹی روپیز دیا۔۔۔ بولا ہمارے ساتھ چلو۔ ہم گیا۔ بس کام چالو ہو گیا۔۔۔ ہم یہاں ہوٹل میں آ گیا۔۔۔ پر ہم ادھر کسی سے بات نہیں کرتی۔۔۔ سب رنڈی لوگ ہے۔۔۔ کسی کو یہاں نہیں آنے دیتی۔‘‘

مقبول نے کرید کرید کر تمام واقعات معلوم کرنا مناسب خیال نہ کیا۔ کچھ اور باتیں ہوئیں جن سے اسے پتا چلا کہ شانتی کو جنسی معاملے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ جب اس کا ذکر آیا تو اس نے برا سا منہ بنا کر کہا۔ ’’آئی ڈونٹ لائک۔ یِٹ از بیڈ۔‘‘

اس کے نزدیک ففٹی روپیز کا معاملہ ایک کاروباری معاملہ تھا۔ سرینگر کے ہسپتال میں جب کسی لڑکے نے اس کو خراب کیا تو جاتے وقت دس روپے دینا چاہے۔ شانتی کو بہت غصہ آیا۔ نوٹ پھاڑ دیا۔ اس واقعے کا اس کے دماغ پر یہ اثر ہوا کہ اس نے باقاعدہ کاروبار شروع کر دیا۔ پچاس روپے فیس خود بخود مقرر ہو گئی۔ اب لذت کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا تھا۔۔۔ چونکہ نرس رہ چکی تھی اس لیے بڑی محتاط رہتی تھی۔

ایک برس ہو گیا تھا اسے بمبئی میں آئے ہوئے۔ اس دوران میں اس نے دس ہزار روپے بچائے ہوتے مگر اس کو ریس کھیلنے کی لت پڑ گئی۔ پچھلی ریسوں پر اس کے پانچ ہزار اڑ گئے لیکن اس کو یقین تھا کہ وہ نئی ریسوں پر ضرور جیتے گی۔ ’’ہم اپنا لوس پورا کر لے گا۔‘‘

اس کے پاس کوڑی کڑوی کا حساب موجود تھا۔ سو روپے روزانہ کما لیتی تھی جو فوراً بنک میں جمع کرا دیے جاتے تھے۔ سو سے زیادہ وہ نہیں کمانا چاہتی تھی۔ اس کو اپنی صحت کا بہت خیال تھا۔

دو گھنٹے گزر گئے تو اس نے پانی گھڑی دیکھی اور مقبول سے کہا۔ ’’تم اب جاؤ۔۔۔ ہم کھانا کھائے گا اور سو جائے گا۔‘‘ مقبول اٹھ کر جانے لگا تو اس نے کہا۔ ’’باتیں کرنے آؤ تو صبح کے ٹائم آؤ۔ شام کے ٹائم ہمارا نقصان ہوتی ہے۔‘‘

مقبول نے ’’اچھا‘‘ کہا اور چل دیا۔

دوسرے روز صبح دس بجے کے قریب مقبول شانتی کے پاس پہنچا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس کی آمد پسند نہیں کرے گی مگر اس نے کوئی ناگواری ظاہر نہ کی۔ مقبول دیر تک اس کے پاس بیٹھا رہا۔ اس دوران میں شانتی کو صحیح طریقے پر ساڑھی پہننی سکھائی۔ لڑکی ذہین تھی۔ جلدی سیکھ گئی۔

کپڑے اس کے پاس کافی تعداد میں اور اچھے تھے۔ یہ سب کے سب اس نے مقبول کو دکھائے۔ اس میں بچپنا تھا نہ بڑھاپا۔ شباب بھی نہیں تھا۔ وہ جیسے کچھ بنتے بنتے ایک دم رک گئی تھی، ایک ایسے مقام پر ٹھہر گئی تھی جس کے موسم کا تعین نہیں ہو سکتا۔ وہ خوبصورت تھی نہ بدصورت، عورت تھی نہ لڑکی۔ وہ پھول تھی نہ کلی۔ شاخ تھی نہ تنا۔ اس کو دیکھ کر بعض اوقات مقبول کو بہت الجھن ہوتی تھی۔ وہ اس میں وہ نقطہ دیکھنا چاہتا تھا۔ جہاں اس نے غلط ملط ہونا شروع کیا تھا۔

شانتی کے متعلق اور زیادہ جاننے کے لیے مقبول نے اس سے ہر دوسرے تیسرے روز ملنا شروع کر دیا۔ وہ اس کی کوئی خاطر مدارت نہیں کرتی تھی۔ لیکن اب اس نے اس کو اپنے صاف ستھرے بستر پر بیٹھنے کی اجازت دے دی تھی۔ ایک دن مقبول کو بہت تعجب ہوا جب شانتی نے اس سے کہا۔ ’’تم کوئی لڑکی مانگتا؟‘‘

مقبول لیٹا ہوا تھا چونک کر اٹھا۔ ’’کیا کہا؟‘‘

شانتی نے کہا۔ ’’ہم پوچھتی، تم کوئی لڑکی مانگتا تو ہم لا کر دیتا۔‘‘

مقبول نے اس سے دریافت کیا کہ یہ بیٹھے بیٹھے اسے کیا خیال آیا۔ کیوں اس نے یہ سوال کیا تو وہ خاموش ہو گئی۔ مقبول نے اصرار کیا تو شانتی نے بتایا کہ مقبول اسے ایک بیکار عورت سمجھتا ہے۔ اس کو حیرت ہے کہ مرد اس کے پاس کیوں آتے ہیں جبکہ وہ اتنی ٹھنڈی ہے۔ مقبول اس سے صرف باتیں کرتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ وہ اسے کھلونا سمجھتا ہے۔ آج اس نے سوچا، مجھ جیسی ساری عورتیں تو نہیں مقبول کو عورت کی ضرورت ہے، کیوں نہ وہ اسے ایک منگا دے۔

مقبول نے پہلی بار شانتی کی آنکھوں میں آنسو دیکھے۔ ایک دم وہ اٹھی اور چلانے لگی ’’ہم کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔ جاؤ چلے جاؤ۔۔۔ ہمارے پاس کیوں آتا ہے تم۔۔۔ جاؤ۔‘‘

مقبول نے کچھ نہ کہا۔ ’’خاموشی سے اٹھا اور چلا گیا۔‘‘

متواتر ایک ہفتہ دوپیرے ژین ڈیری جاتا رہا۔ مگر شانتی دکھائی نہ دی۔ آخر ایک صبح اس نے اس کے ہوٹل کا رخ کیا۔ شانتی نے دروازہ کھول دیا مگر کوئی بات نہ کی۔ مقبول کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔ شانتی کے ہونٹوں پر سرخی پرانے بھدے طریقے پر لگی تھی۔ بالوں کا حال بھی پرانا تھا۔ ساڑھی کی پہناوٹ تو اور زیادہ بد زیب تھی۔ مقبول اس سے مخاطب ہوا۔ ’’مجھ سے ناراض ہو تم؟‘‘

شانتی نے جواب نہ دیا اور پلنگ پر بیٹھ گئی۔ مقبول نے تند لہجے میں پوچھا۔ ’’بھول گئیں جو میں نے سکھایا تھا؟‘‘

شانتی خاموش رہی۔ مقبول نے غصے میں کہا۔ ’’جواب دو ورنہ یاد رکھو ماروں گا۔‘‘

شانتی نے صرف اتنا کہا۔ ’’مارو۔‘‘

مقبول نے اٹھ کر ایک زور کا چانٹا اس کے منہ پر جڑ دیا۔۔۔ شانتی بلبلا اٹھی۔ اس کی حیرت زدہ آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ مقبول نے جیب سے اپنا رو مال نکالا۔ غصے میں اس کے ہونٹوں کی بھدی سرخی پونچھی۔ اس نے مزاحمت کی لیکن مقبول اپنا کام کرتا رہا۔ لپ اسٹک اٹھا کر نئی سرخی لگائی۔ کنگھے سے اس کے بال سنوارے، پھر اس نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔ ’’ساڑھی ٹھیک کرو اپنی۔‘‘

شانتی اٹھی اور ساڑھی ٹھیک کرنے لگی مگر ایک دم اس نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا اور روتی روتی خود کو بستر پر گرا دیا۔ مقبول تھوڑی دیر خاموش رہا۔ جب شانتی کے رونے کی شدت کچھ کم ہوئی تو اس کے پاس جا کر کہا۔ ’’شانتی اٹھو۔۔۔ میں جا رہا ہوں۔‘‘

شانتی نے تڑپ کر کروٹ بدلی اور چلائی۔ ’’نہیں نہیں۔۔۔ تم نہیں جا سکتے۔‘‘ اور دونوں بازو پھیلا کر دروازے کے درمیان میں کھڑی ہو گئی۔ ’’تم گیا تو مار ڈالوں گی۔‘‘

وہ ہانپ رہی تھی۔ اس کا سینہ جس کے متعلق مقبول نے کبھی غور ہی نہیں کیا تھا جیسے گہری نیند سے اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مقبول کی حیرت زدہ آنکھوں کے سامنے شانتی نے تلے اوپر بڑی سرعت سے کئی رنگ بدلے۔ اس کی نمناک آنکھیں چمک رہی تھیں۔ سرخی لگے باریک ہونٹ ہولے ہولے لرز رہے تھے۔ ایک دم آگے بڑھ کر مقبول نے اس کو اپنے سینے کے ساتھ بھینچ لیا۔

دونوں پلنگ پر بیٹھے تو شانتی نے اپنا سر نیوڑھا کر مقبول کی گود میں ڈال دیا۔ اس کے آنسو بند ہونے ہی میں نہ آتے تھے۔ مقبول نے اس کو پیار کیا۔ رونا بند کرنے کے لیے کہا تو وہ آنسوؤں میں اٹک اٹک کر بولی ’’ادھر سرینگر میں۔۔۔ ایک آدمی نے۔۔۔ ہم کو مار دیا تھا۔۔۔ ادھر ایک آدمی نے۔۔۔ ہم کو زندہ کر دیا۔‘‘

دو گھنٹے کے بعد جب مقبول جانے لگا تو اس نے جیب سے پچاس روپے نکال کر شانتی کے پلنگ پر رکھے اور مسکرا کہا۔ ’’یہ لو اپنے ففٹی روپیز!‘‘

شانتی نے بڑے غصے اور بڑی نفرت سے نوٹ اٹھائے اور پھینک دیے۔

پھر اس نے تیزی سے اپنی ڈرسنگ ٹیبل کا ایک دروازہ کھولا اور مقبول سے کہا۔ ’’ادھر آؤ۔۔۔ دیکھو یہ کیا ہے؟‘‘

مقبول نے دیکھا۔ دراز میں سو سو کے کئی نوٹوں کے ٹکڑے پڑے تھے۔ مٹی بھر کے شانتی نے اٹھائے اور ہوا میں اچھالے۔ ’’ہم اب یہ نہیں مانگتا!‘‘

مقبول مسکرایا۔ ہولے سے اس نے شانتی کے گال پر چھوٹی سی چپت لگائی اور پوچھا: ’’اب تم کیا مانگتا ہے!‘‘

شانتی نے جواب دیا۔ ’’تم کو‘‘ یہ کہہ کر وہ مقبول کے ساتھ چمٹ گئی اور رونا شروع کر دیا۔

مقبول نے اس کے بال سنوارتے ہوئے بڑے پیار سے کہا۔ ’’روؤ نہیں۔۔۔ تم نے جو مانگا ہے وہ تمہیں مل گیا ہے۔‘‘

٭٭٭

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • موسم کی شرارت
  • بھارتی بے بسی کے نام – اقبالؒ کا پیغام!
  • قہقہوں کے سائے میں
  • حضرت بہلول دانا رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
رام کھلاون
پچھلی پوسٹ
برف کا پانی

متعلقہ پوسٹس

انار کلی

اپریل 2, 2018

سی پیک کی سیاست

جنوری 10, 2021

ہم مشکلوں کے میزبان بنے ہوئے ہیں !

فروری 21, 2023

الف لیلہ کی ایک رات

مئی 20, 2020

وی آئی پی کارڈ

مئی 21, 2020

تیاری کیا ھے؟

دسمبر 15, 2024

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

کج روی کا حسن

اگست 9, 2022

زاہد محمود زاہد کا شعری لحن

جنوری 15, 2021

مریم نواز کا جاپان دورہ

اگست 21, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

خوبصورت انعام

اگست 14, 2025

گلزارِ دل

مئی 27, 2025

جسم اور رُوح

جنوری 31, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں