خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباہم مشکلوں کے میزبان بنے ہوئے ہیں !
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

ہم مشکلوں کے میزبان بنے ہوئے ہیں !

از سائیٹ ایڈمن فروری 21, 2023
از سائیٹ ایڈمن فروری 21, 2023 0 تبصرے 46 مناظر
47

لوگوں اللہ تعالی کا وعدہ سچا ہے ،تو تم کو دنیا کی زندگی دھوکے میں نا ڈال دے (سورۃ الفاطر ۔ ۵)اللہ رب العزت نے کائنات بنائی، اسے خوب مزین کیا اور اس میں بسنے کیلئے موجودہ علم کے مطابق تقریباً تیرالاکھ کے قریب مخلوق کو پیدا کیا جو کرہ عرض پروجود میں آئیں ۔ اتنی بڑی تخلیق کی فہرست میں ایک کو عالی مرتبت منصب بھی دیا اور اسے اشرف المخلوقات کہایعنی حضرت آدم کو اس منصب پر فائز کیاگیا، آسمان والوں سے سجدہ بھی کروا دیا ۔ یہاں ایک غور طلب بات یہ ہے کہ کائنات میں سوائے انسان کے یہ بات تو کسی کو سمجھ آنی نہیں تھی پھر ایسا کیوں کیا گیا تو پتہ یہ چلا کہ انسان کو اسکی حیثیت سے آگاہ کیا جانا بہت ضروری تھا ، اب انسانوں نے اس جانکاری کا کیا خوب فائدہ اٹھایا کہ اس نے خود ہی اپنے خدا ہونے کا دعوی کردیا کیونکہ جس نے یہ دعوی کیا اسے اس بات کی خوب سمجھ آگئی کے زمین پر میری برابری کا تو کوئی نہیں ہے اور قدرت کے دئے گئے اختیار کو میں ہی بخوبی سرانجام دے سکتا ہوں ، ہم سب خوب واقف ہیں کہ انسان کی تخلیق کا قطعی یہ مقصد نہیں تھا ،لیکن ہم اس امر سے بھی خوب واقف ہیں کہ انسان خسارے میں ہے اس خسارے کا آغاز بنی نوع انسان کی تخلیق سے ہی شروع ہوگیا تھا(جب آدم علیہ السلام نے بتائے جانے کے باوجود شجرِ ممنوعہ تک رسائی حاصل کی) یہاں یہ بھی واضح ہوگیا تھا کہ نافرمانی ہی دراصل خسارے کا راستہ ہے، جس کام سے منع کیا گیا انسان نے وہی کام کردیکھایایعنی خسارہ ہی خسارہ ۔ تقریباً انسان سانس کے تسلسل کے رک جانے تک اپنے خدا ہونے کے قریب قریب بھٹکتا رہتا ہے ،بس کوئی ایک طے شدہ حد ہوتی ہے جہاں پہنچ کر اکثریت ٹہر جاتی ہے لیکن کچھ اسے بھی عبور کرجاتے ہیں اور زمین پر خدائی کا دعوی کربیٹھتے ہیں (اوقات سے بڑھ کر مل جانا جو آزمائش کے ذمرے میں آتا ہے ) ۔ اللہ رب العزت اپنی تخلیقات میں ایک ایسی تخلیق چاہتا ہوگا جو اس کی بنائی ہوئی کائنات سے خوب لطف اندو ز ہواور تخلیق کار کی حمدوثناء میں کوئی کثر نا اٹھا رکھیں تاکہ رحمتوں اور نعمتوں کا سلسلہ دراز ہوتا رہے ۔ وہ خالق کائنات ہے جب تک ہوا کو اجازت نا ہو تو پیڑ کا پتہ نہیں ہل سکتا ، ایک ذرہ نہیں ہل سکتا ، ہماری پلک نہیں جھپک سکتی ۔

اللہ کے احسانات کا توکوئی شمار نہیں لیکن ان بے شمار احسانات میں ایک احسانِ عظیم کردیا گیا وہ یہ کے کائناتوں کی وسعتوں تک پہنچانے کیلئے ایک معلم حضرت محمد ﷺکے ساتھ علم بھی فراہم کردیاگیا ۔ ایک طرف خالق کائنات تو دوسری طرف وجہ کائنات اور ان کے درمیان ساری کائنات ۔ ہر ایک تخلیق کا علم بھی فراہم کیا ، ہم نے بارہا تذکرہ کیا ہے کے علم کا منبہ قران مجید فرقان حمید ہے جو کسی مشین کیساتھ ملنے والے اسکو چلانے کے طریقہ کار کا کتابچہ ہوتا ہے ۔ دنیا میں رہنے کیلئے دنیا میں ہونے والے تغیرات سے ہم آہنگ ہونا بہت ضروری ہے ، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ آپ پورے کے پورے دنیا کے ہو رہیں ہمیشہ یہ یاد رہنا چاہئے کہ اگلا قدم اور سانس کا تسلسل کسی بھی لمحے میں روک دیا جائے گا اور آپ سوائے مٹی کے ڈھیر سے زیادہ کسی حیثیت میں نہیں گنے جاءو گے اور آپ کے جسدِ خاکی کو زمین میں بسنے والے چھوٹے بڑے کیڑے مکوڑ وں کے رحم وکرم پر دبا دیا جائے گا ۔ حالات و واقعات ہماری توجہ حاصل کرلیتے ہیں ہم یکسوئی سے سوا ہوچکے ہیں ہمارے ہاتھوں میں موجود ہماری ہتھیلیوں پر رکھے موبائل ہ میں یکسوئی سے محروم کرچکے ہیں ان میں موجود سماجی ابلاغ ہ میں بڑی مشکل سے ایک لمحے کی مہلت دیتا ہے اور فوری تقاضا کرتا ہے کہ آگے بڑھ جاءو ۔ اور دنیا کی زندگی سوائے دھوکے کے اور کچھ نہیں ۔ سورۃ العمران( ۵۸۱)

پاکستان کی آزادی سے پاکستان کوغیر مستحکم کرنے کی سازشوں نے اپنا کام شروع کردیا تھا جس سرپرستی تو باہر سے ہوتی تھی لیکن عمل درآمد کیلئے داخلی عمل انگیز کام کرتے رہے ۔ جیساکہ پاکستان کو باقاعدہ گھسیٹ کر دہشت گردی کی جنگ میں دھکیلا گیا اور ہم نے اس اعزاز کو بخوشی قبول کیا اور کیا خوب خاطر مدارت کی کے آج بھی دنیا اس کی گواہی دے رہی ہے یہ خاطر مدارت ہم نے اپنے جواں سال خون سے کی ہے ۔ اس جنگ سے ہمارا تعلق اس طرح قائم ہوا کہ ہم نے زمینی آسائشوں کے بدلے زمینی خداءوں کی خدائی کو قبول کرلیا ۔ اب یہ تو طے تھا کہ ہ میں اس عظیم غلطی کا خمیازہ بھگتناپڑے گا ۔ ایک طرف تو زمینی حقائق ہمارے لئے مشکل ہوتے چلے جائینگے اور دوسری طرف ہم نے خالق کائنات کو بھی ناراض کر دیا ۔ حقیقت تو یہ کہ اپنے خسارے کا سامان کرلیا ۔

ہمارے اذہان کیساتھ باقاعدہ منظم طریقوں سے کھیل کھیلے گئے اور ہم پر ایسے حکمران مسلط کئے جاتے رہے جو ہماری سوچ کے دھارے کی سمتوں کو وقتاً فوقتاً بدلتے رہے ۔ کبھی لبرلز ہمارے ملک کے نظم و نسق کے ذمہ دار رہے اور معاشرہ کھلے ڈھلے ماحول کا عادی ہونے لگا پھر مذہب کی پاسداری کو لازمی قرار دیا جانے لگاچادر اور چار دیواری کے تقدس کا خیال کیا جانے لگا اور پھر معتدل حکمران حکومت میں براجمان ہوگئے جنہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی کے جو جیسا کر رہا ہے ریاست خود دیکھ لے گی کسی کو کسی کے معاملے میں دخل اندازی کی اجازت نہیں ہوگی ۔ کبھی ہ میں کسی کو ہیرو ماننے کیلئے اکسایا گیا اور کبھی کسی ہیروئن کی تعریف و توصیف لازمی قرار پائی ۔ اس بات کی گواہی آپ کی اپنی آنکھیں دیں گی، انہوں نے مذہبی اجتماعات میں لوگوں کا ہجم غفیر دیکھا تو شکر بجالائیں کہ معاشرہ تبدیل ہوگیا ہے اورجب انہیں آنکھوں نے بے ہنگم محفلوں میں بے ہنگم لوگوں کا ویسا ہی ہجم غفیر دیکھاتو شرم سے جھک گئیں کے اب کیا ہوگا ۔ ہ میں ہمیشہ دوکشتیوں میں سوار رکھا گیا اور ہم پر یہ واضح کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے کہ آپ مت سوچیں کے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا بس جیسا ہم کہتے ہیں ویسے ہی کرتے جائیں اسطرح ہم غلامی سے نجات کے باوجود غلام ہی بنے ہوئے ہیں ۔ ہ میں بڑی کالے شیشوں والی گاڑیوں سے ڈرایا جاتا ہے تو کبھی ہ میں رزق سے محروم کردینے کی دھمکی ہ میں خوف میں مبتلاء کردیتی ہے ۔

وقت اور حالات کی ناءو میں بہتے ہوئے ہم بہت دور نکل آئے ہ میں تربیت سے بھی دور کردیا اور ہم وقت کے ساتھ قدم ملانے کی خواہش میں تقریباً سب کچھ برباد کرتے ہوئے انتہائی بری حالت کو پہنچ چکے ہیں اور وہ جو ایسا چاہتے تھے ہماری اس حالت پر اظہارِ ہمدردی سے بھی گریزاں ہیں ، بلکہ وہ اپنی فتح پر جشن منانے کی تیاری میں مصروف ہیں ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہ میں آج بھی اس بات کا یقین نہیں ہے کہ ہم جس سمت میں سفر کر رہے ہیں وہی ہ میں منزل مقصود پر پہنچائے گی ۔

ہم بطور قوم اور بطور امت اللہ کی قدرت کے خلاف چلے جارہے ہیں ، ہم قران کے لفظوں تک تو پہنچتے ہیں لیکن اسکی روشنی کو اپنے اندر داخل نہیں ہونے دیتے جسکی وجہ سے اندھیرا گھیرا ہوتا جارہا ہے ۔ اس روشنی کو داخل ہونے دیں پھر دیکھیں دشمن کی سازشیں کیسے عیاں ہونی شروع ہوجائینگی اور جب یہ سازشیں عیاں ہوجائینگی تو سد باب بھی بنا لئے جائینگے اور پھر ہمارے دروازے ہمیشہ کیلئے مشکلوں کی میزبانی کیلئے بند ہوجائینگے پھر خسارہ صرف انکا ہوگا کہ جن کے لئے خسارہ لکھا جاچکا ہے ۔

 

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ڈیجیٹل معیشت اور ہمارا بدلتا ہوا زمانہ
  • راہ چلتے کو یہ اعزاز نہیں دے سکتے
  • ہوشیار بگلا
  • کاش ہم استاد بن جائیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
رئیس اعظم
پچھلی پوسٹ
شہرِ نبی ﷺکے سامنے آہستہ بولیے

متعلقہ پوسٹس

مری نگاہ میں قربت کی

جون 25, 2025

اُس کے نام ۔ جسے تاریکی نگل چکی

جنوری 10, 2020

صبر کرنے والوں کے ساتھ

دسمبر 22, 2024

کیا مصنوعی ذہانت انسان کی آخری ایجاد ہو سکتی ہے؟

مارچ 10, 2026

دیباچہ بانگِ درا

فروری 2, 2020

یہ نہیں دیکھتا کوئی بھی

مارچ 8, 2025

موچنا

نومبر 16, 2016

گوارہ نہیں آج کل کی جدائی

نومبر 8, 2025

خمار ایک وہم ہے , خمار کی طلب نہیں

جنوری 5, 2020

یوں بھی کچھ وقت گزارا

جون 15, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دس روپے

اکتوبر 25, 2019

بساط اور فرہاد

فروری 1, 2023

اخلاص کے ساتھ انفاق

جنوری 4, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں