خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابسم اللہ کی تاریخی حیثیت
آپکا اردو باباابو خالد قاسمیاردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہمقالات و مضامین

بسم اللہ کی تاریخی حیثیت

از سائیٹ ایڈمن نومبر 20, 2025
از سائیٹ ایڈمن نومبر 20, 2025 0 تبصرے 116 مناظر
117

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنے کاموں کو بتوں کے نام سے شروع کرتے تھے، اس رسم جاہلیت کو مٹانے کے لئے قرآن کی سب سے پہلی آیت جو جبرئیل امین لے کر آئے اس میں قرآن کو اللہ کے نام سے شروع کرنے کا حکم دیا گیا ، اقرأ باسم ربك آپ پڑھئے اپنے پروردگار کے نام کے ساتھ) محققین علما نے لکھا ہے کہ قرآن کے علاوہ دوسری تمام آسمانی کتابیں بھی بسم اللہ سے شروع کی گئیں ہیں ، گویا قرآن اور دیگر آسمانی کتابوں کے آغاز میں بسم اللہ کی حیثیت قدر مشترک کی ہے۔ البتہ بسم الله الرحمن
الرحیم د شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑے مہربان نہایت رحم والے ہیں، اپنی مکمل شکل میں قرآن اور امت محمدیہ کی خصوصیات میں سے ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ابتدا میں ہر کام کو اللہ کے نام سے شروع کرنے کے لئے ” باسمك اللهم کہتے اور لکھاتے تھے جب آیت بسم الله الرحمن الرحیم نازل ہوئی تو انہیں الفاظ کو اختیار فرمالیا اور ہمیشہ کے لئے یہ سنت جاری ہو گئی۔

نزول بسم اللہ کا تاریخی پس منظر

سب سے پہلے حضرت سیدنا آدم علیہ السلام پر بسم اللہ شریف کا نزول ہوا جب سیدنا آدم علیہ السلام کی نسل نا مناسب اور اوچھی حرکتوں پر اتر آئی تو یہ آیت امان ان کے سینوں سے اٹھالی گئی اور زبانوں سے چھین لی گئی۔
پھر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو یہ آسمانی نعمت عطا فرمائی گئی ۔ وقت آنے پر نعمت دوبارہ واپس لے لی گئی ۔
پھر موقعہ آنے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کے دور میں عطا کی گئی جب حضرت موسی علیہ السلام کے بعد قوم میں بگاڑ پیدا ہوا تو بسم اللہ شریف پھر اٹھالی گئی۔
اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام کا زمانہ آیا ۔ اللہ تعالی کی طرف سے اور حکم نازل ہوا کہ محراب داؤ دی میں تمام لوگوں کو حاضر ہونے کا حکم دو اور انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ آیت امان نازل فرمانے والا ہے اس لیے سب جمع ہو جاؤ۔
حضرت عیسی علیہ السلام کے عہد ہمایوں میں پھر یہ آیت امان بڑی شان و شوکت اہتمام واحترام کے ساتھ اتاری گئی۔ حضرت عیسی علیہ السلام کو حکم ہوا: اُٹھتے بیٹھتے ، آتے جاتے ، اتر تے چڑھتے ، غرض ہر حالت میں اس کی تلاوت کرو اور اسے اپنا ور دو وظیفہ بنالو۔
سید نا عیسیٰ علیہ السلام کے بعد جب آپ کی قوم بگڑ گئی اور دین حق سے منحرف ہو گئی تو ان سے بھی یہ دولت سلب کر لی گئی ۔
جب حضور نبی کریم ﷺ کو نبوت ملی تو سعادت مند لوگ اٹھ کر آپ کے گرد جمع ہو گئے اور اس کلام سے اپنی روحوں کو منور کرنے لگے جو جبریل علیہ السلام کی وساطت سے نازل ہوا۔
ایک روز جبریل امین آخری دو سورتیں یعنی سورۃ الفلق اور سورۃ الناس لے کر نازل ہوئے تو حضور ﷺ نے فرمایا: دو سورتوں کے درمیان فصل اور فرق کرنے کے لیے کوئی خاص علامت ہونی چاہیے ۔ جبریل امین فورا در بار خداوندی میں پہنچے ارشاد ۔ ہوا اب وہ وقت آگیا ہے کہ عرش کی دولت فرش کو اور آسمان کی عظیم ترین نعمت محبوب
مکرم ﷺ کو عطا کر دی جائے۔ نزول بسم اللہ کا پر جلال انداز میں اہتمام والتزام کرو ۔ حضرت جبریل امین علیہ السلام نے حکم خداوندی کے مطابق ستر ہزار فرشتوں کا جلوس اپنے ساتھ لیا اور بڑی سج دھج اور شان و شوکت کے ساتھ زمین کی طرف روانہ ہوئے ۔ فرشتے اعلان کر رہے تھے کہ طرِ قُوا طَرِّ قُوا راستہ چھوڑ دو ۔ راستہ چھوڑ دو اور با ادب با ملاحظہ ہو شیار کھڑے ہو جاؤ کیونکہ بسم اللہ کا خزانہ زمین کی طرف بھیجا جا رہا ہے۔
شیطان نزول بِسمِ اللہ کا یہ جلال اور شاندار منظر دیکھ کر چیخ اٹھا اس سے یہ اعزاز و اکرام دیکھا نہ گیا ۔ حسد و کدورت سے جل بھن گیا اور غم و اضطراب کے باعث سینہ پیٹنے اور سر پیٹنے لگا کیونکہ وہ جانتا تھا بسم اللہ کی برکت، بندوں کو روحانی امراض سے نجات دے گی اور رب کا قرب عطا کرے گی ۔ اس کے ورد سے گناہ معاف ہوں گے اور روحوں کو جلا نصیب ہوگی ۔ اس لئے درد و کرب سے اس کی کمر ٹوٹ گئی۔

بسم اللہ سے ہر اچھے کام کا آغاز۔
قرآن حکیم میں جابجا اس کی ہدایت ہے کہ ہر کام کو اللہ کے نام سے شروع کیا جائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ہر اچھا اور قابلِ قدر کام جو بسم اللہ سے شروع نہ کیا جائے وہ نامکمل اور بے برکت رہتا ہے ۔ ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ گھر کا دروازہ بند کرو تو بسم اللہ کہو، چراغ گل کرو تو بسم اللہ کہو ، بر تن ڈھکو تو بسم اللہ کہو، کھانا کھانے ، پانی پینے، وضو کرنے ، سواری پر سوار ہونے اور اترنے ، جانور کو ذبح کرنے کے وقت بسم اللہ پڑھنے کی ہدایات قرآن و حدیث میں بار بار آئی ہیں ۔ باخبر حضرات اس سے بھی بے خبر نہیں ہیں کہ ہم اللہ کا کلمہ قرآن مجید میں بجز ایک سورت (توبہ) کے ہر سورت کی ابتدا میں لایا گیا ہے ۔ یعنی (۱۱۳) بار اور سورۃ النمل کے اندر عبارت میں بہ طور آیت قرآنی (۳۰ ویں آیت بھی آیا ہے۔ تحریر کے شروع میں بھی بسم اللہ لکھنا مسنون ہے ۔ البتہ اگر اس کا اندیشہ ہو کہ وہ کاغذ
بے ادبی کا شکار ہو جائے گا تو مناسب یہ ہے کہ ادائے سنت کے لئے زبان سے بسم اللہ کہہ لے تحریر میں نہ لکھے، مگر تعلیم اور احکام بسم اللہ سے واقف کرانے کی صورت مستثنی ہے، ایسی شکل میں قارئین کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ ایسے حصہ کا ادب و احترام ملحوظ رکھیں ۔(أسرار حیات ٢١)

بسم اللہ کی حکمت-
مفتی اعظم مولانا محمد شفیع (۱۹۷۶ ۱۸۹۶) نے اپنی تفسیر میں ایک جگہ بسم اللہ کی حکمت بیان کرتے ہوئے صحیح لکھا ہے کہ اسلام نے ہر کام کو اللہ کے نام سے شروع کرنے کی ہدایت دے کر انسان کی پوری زندگی کا رخ اللہ تعالیٰ کی طرف اس طرح پھیر دیا ہے کہ وہ قدم قدم پر اس حلف وفاداری کی تجدید کرتا رہے کہ میرا وجود اور میرا کوئی کام بغیر اللہ تعالیٰ کی مشیت و ارادے اور اس کی امداد کے نہیں ہو سکتا جس نے اس کی ہر جائز نقل و حرکت اور تمام حلال معاشی و دنیوی کاموں کو بھی ایک عبادت بنادیا ہے ۔ یہ عمل کتنا مختصر ہے کہ نہ اس میں کوئی وقت خرچ ہوتا ہے نہ محنت اور فائدہ کتنا کیمیاوی اور بڑا ہے کہ دنیا بھی دین بن گئی ۔ غور کیجئے کہ اسلام کی صرف اسی ایک ہی مختصر سی تعلیم نے انسان کو کہاں سے کہاں پہونچا دیا ہے اس لئے یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ بسم اللہ ایک نسخہ اکسیر ہے جس سے تابنے کا نہیں بلکہ خاک کا سونا بنتا ہے ۔ (معارف القرآن جلد اول (۱۳۷۵)
آغازِ قرآن بحرف باء ۔
ترتیب حروف میں الف پہلے آتا ہے باوجودیکہ ب سے آغاز قرآن ہے ۔ اس کی متعدد حکمتیں بیان کی ہیں علماء نے: ١- سب حروف کے اوپر نقطہ ہے بجز باء کے اور نقطے کا نیچے ہونا عجز و انکسار کی علامت ہے ۔ ٢- نقطہ مثل مال کے ہے کہ اگر اسے دل میں یا اوپر رکھا جائے تو یہ مذموم ہے ، اور اگر اسے پاؤں تلے رکھا جائے تو یہ محمود ہے ۔ ٣- ب حرف وصل ہے اور قرآن مجید میں بھی صلہ رحمی کا بیان ہے تو گویا آغاز قرآن میں ہی اس کی تعلیم ہے ۔ (حالات فقیر،‌مفتی اسلم صاحب ٣٦٦ بحوالہ تفسیر رازی)

بسم اللہ کے فوائد

اللہ تعالیٰ کے نام سے آغاز کرنا نہایت مبارک اور بابرکت عمل ہے۔ کھانے پینے، سواری کرنے، ازدواجی تعلقات، اور دیگر معاملات میں "بسم اللہ” پڑھنے کے بے شمار فوائد اور برکات ہیں، جنہیں قرآن، حدیث اور بزرگانِ دین کے اقوال سے واضح کیا گیا ہے۔ ذیل میں "بسم اللہ” کے چند فوائد درج ہیں:

پہلا فائدہ:
گناہوں سے حفاظت اور نیک اولاد
جو شخص اپنی بیوی کے پاس جاتے وقت "بسم اللہ” پڑھے، تو اس میں شیطان شریک نہ ہو گا، اور اگر اس صحبت سے بچہ پیدا ہوا تو اس میں شیطان کی زندگی میں جس قدر دخل ہے، اس قدر اس کے عمل میں شیطان کا بھی دخل نہ ہو گا۔
دوسرا فائدہ:
سوار ہونے میں حفاظت
جو شخص کسی جانور پر سوار ہوتے وقت "بسم اللہ” اور "الحمد للہ” پڑھے، تو اس جانور پر سواری کرنے کے حق میں اس کے لیے آسانی ہو جاتی ہے، اور اگر وہ گرتا ہے تو اسی طرح گرے گا جیسے کپڑا ہاتھ سے گرتا ہے۔ نیز وہ جانور اور اس کے راستے کی تمام مشکلیں آسان کر دی جائیں گی۔
تیسرا فائدہ:
ہر مرض کا تریاق
حضرت موسیٰ علیہ السلام بیمار ہوئے، بنی اسرائیل نے کہا: فلاں دوائی استعمال کریں۔ آپ نے جواب دیا: نہیں! جب تک اللہ تعالیٰ نہ چاہے صحت نہیں ہوگی۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ فلاں دوائی استعمال کرو۔ آپ نے فرمایا: جب تک بسم اللہ نہ پڑھوں گا اس وقت تک شفا حاصل نہ ہوگی۔ پھر آپ نے بسم اللہ پڑھ کر استعمال کیا اور صحت یاب ہو گئے۔
چوتھا فائدہ:
تمام بدن کی پاکیزگی
جس نے "بسم اللہ شریف” پڑھ کر وضو کیا، اس کے جسم کے اعضاء پاک ہو گئے۔ اور جس نے "بسم اللہ” پڑھ کر غسل کیا، اس کے تمام بدن پاک ہو جائیں گے۔
(تفسیر کبیر، ج 1، ص 88)

پانچواں فائدہ:
کھانے میں شیطانی شرکت سے حفاظت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّ الشَّیْطَانَ یَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ أَنْ لَا یُذْكَرَ اسْمُ اللهِ عَلَیْهِ، فَإِنْ أُکِلَ الطَّعَامُ وَ لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللهِ عَلَیْهِ أَکَلَ مَعَهُ الشَّیْطَانُ”
(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث: 615)
یعنی: شیطان ہر اس کھانے میں شریک ہو جاتا ہے جس پر "بسم اللہ” نہ پڑھی جائے۔
مزید فرمایا:
"جب کوئی شخص کھانے کے آغاز میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو یوں کہے: بسم اللہ أوله وآخره۔”
چھٹا فائدہ:
بسم اللہ سے جنت کی بشارت
حضرت یحییٰ علیہ السلام ایک بستی کے قریب سے گزرے۔ وہاں ایک مجرم کو سولی پر چڑھایا گیا تھا اور لوگ اسے سخت عذاب دیتے تھے۔ آپ نے "بسم اللہ” پڑھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے عذاب کو ہلکا کر دیا۔ بعد میں اس کے معلم نے خواب میں دیکھا کہ اسے جنت میں اعلیٰ مقام عطا کیا گیا ہے۔
ساتواں فائدہ:
بہشتی نہروں کا سرچشمہ اور کوثر کی کنجی
جب حضور اکرم ﷺ معراج پر تشریف لے گئے تو بہشتی نہروں کے کنارے چار چشمے دیکھے۔ آپ نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا: یہ کیا ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: دو نہریں ظاہر ہیں اور دو باطن۔ ظاہر نہریں نیل اور فرات ہیں، اور باطنی نہریں جنت کی نہریں ہیں۔ آپ ﷺ نے ان چشموں میں سے پانی پیا تو جبریل علیہ السلام نے عرض کیا: یہ نہریں "بسم اللہ” کی برکت سے جاری ہیں۔
مزید فرمایا:
"جنت میں ایک درخت ہے جس کے اوپر پرندے ہیں، جب اہلِ جنت وہاں جائیں گے تو وہ پرندے پکڑ لیے جائیں گے، اور جب کھولیں گے تو اندر سے لکھا ہوا ہوگا: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔”(بسم اللّٰہ کے فضائل و برکات ١٣٠-١٣٣)
اس کے علاوہ بھی بے شمار فوائد ہیں ۔

فضائل ۔
قال النبي (صلى الله عليه وآله وسلم): «إذا قال المعلم للصبي، (بسم الله الرحمن الرحيم) كتب الله براءةً للصبي وبراءًة لأبويه وبراءًة للمعلّم.(البرهان: ج1 ص43، لآلىء الأخبار: ج3 ص335.۔ امام شوکانی رحمہ الله نے اسے موضوع کہا ہے۔ [الفوائد المجموعة ص: 276۔‌ لیکن اکابر کی متعدد کتب میں فضائل کے باب میں یہ حدیث درج ہے)
عن النبي (صلى الله عليه وآله وسلم): «لايرد دعاءٌ أوله بسم الله الرحمن الرحيم فان أمتي يأتون يوم القيامة وهم يقولون بسم الله الرحمن الرحيم فتنتقل حسناتهم في الميزان فيقول الأمم ما أرجح موازين أمة محمّد (صلى الله عليه وآله وسلم) فيقول الأنبياء أن ابتداء كلامهم ثلاثة أسماء من أسماء الله تعالى لووضعت في كفة الميزان ووضعت سيئات الخلق في كفة لرجحت حسناتهم۔ (البرهان: ج1 ص43.)
قال النبي (صلى الله عليه وآله وسلم): «اذا مرّ المؤمن على الصراط فيقول:
بسم الله الرحمن الرحيم طفت لهب النار تقول: جز يا مؤمن فان نورك قد طغى لهبي۔(لآلىء الأخبار: ج3 ص334)
فی الحدیث القدسی: من قرأ بسم الله الرحمن الرحيم متصلاً بفاتحة الكتاب مرةً واحدة فاشهدوا عليّ بأني قد غفرت له وقبلت منه الحسنات وتجاوزت له عن السيئات ولا أحرق لسانه بالنار وأجيره من عذاب يوم القيامة والفزع الأكبر۔(نفحات الرحمن: ج1 ص47)
ان کے علاوہ اور بھی بہت سی فضیلتیں وارد ہوئی ہیں ۔
علماء نے لکھا: بسم اللّٰہ میں شریعت کے تمام علوم پنہاں ہیں اس لیے کہ بسم اللّٰہ میں ذات باری اور صفات باری دونوں مذکور ہیں ۔
حضور نے فرمایا: کتب سابقہ کے تمام علوم قرآن میں ہیں اور پورے قرآن کا خلاصہ فاتحہ ہے اور فاتحہ کو جامع بسم اللّٰہ ہے ۔(خطبات اسلم ٦/٥٥)
احکام ومسائل

مسئله ، بہت سے صحابہ و تابعین اور ائمہ مجتہدین کے نزدیک بسم الله الرحمن الرحیم قرآن مجید کی ایک مستقل آیت ہے، لیکن بعض حضرات کے نزدیک سورہ نمل میں تو ایک آیت کا جزء ضرور ہے کوئی مستقل آیت

نہیں، بلکہ دو سورتوں کے درمیان فصل کرنے کے لئے بار بار نازل ہوتی ہے، اسی اختلاف کے پیش نظر فقہا ر حمہم اللہ نے یہ احتیاطی حکم دیا ہے کہ تعظیم تکریم کے جتنے احکام آیات قرآنی کے متعلق ہیں، مثلاً بے وضو اس کو چھونا جائز نہیں ان سب احکام میں بسم اللہ کا وہی حکم ہے جو تمام آیات قرآن کا ہے ، لیکن اگر کوئی شخص نماز میں قراءت کے بجائے صرف بسم اللہ پر اکتفاء کرے تو نماز نہ ہوگی، قنطره بحوالہ مجتبی و محیط)

مسئله ، فقہاء کی تصریح ہے کہ تراویح میں ایک مرتبہ پورا قرآن ختم کرنا سنت مؤکدہ ہو، یہاں تک کہ ایک آیت بھی چھوٹ گئی ، تو سنت ادانہ ہوگی، اس لئے امام کو چاہئے کہ پورے جہینہ کی تراویح میں کسی روز کسی جگہ بسم الله الرحمن الرحیم کو چہرا بھی پڑھ دے ، تاکہ یہ آیت پڑسنی اور سننے دونوں میں آکر بلا خلاف قرآن مکمل ہو جائے ،

مسئله ، نماز کی ہر رکعت کے شروع میں فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنا امام ابو یوسف او ر امام محمد اور دوسر بہت سے ائمہ کے نزدیک واجب ہے ، امام عظیم رحمہ اللہ علیہ کے نزدیک سنت ہے (شرح منیہ ) اسی لئے ہر رکعت میں سورہ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ ضرور پڑہنا چاہتے، اکثر لوگ اس سے غافل ہیں،

مسئله، سورہ فاتحہ کےبعد سور ملانے پہلے ہم اللہ پڑہنا امام عظم کے نزدیک سنت نہیں ہو، اس لت ترک اولی ہوا اور امام محمد کے نزدیک بھی جہری نمازوں میں تو ترک ہی اولی ہو مگر سری نمازوں میں پڑھنا اولی ہے (کبیری شرح منیہ)
(احکام و خواص بسم اللّٰہ ،مفتی شفیع صاحب ١١)

ابو خالد قاسمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • آب کی دیوی
  • صبر , گریہ , نہ یوں اچھال مرا
  • وہ تو ہمیشہ یہ کہتی تھی
  • زندگی کیا ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مخفی دوربین
پچھلی پوسٹ
عظمت صحابہ

متعلقہ پوسٹس

تمہارا بدن میرا احساس ہے

نومبر 1, 2025

اُمّ الغذا کلونجی: ہر بیماری کے علاج میں معاون

اپریل 24, 2022

اپنی طرف سے مجھ کو وہ برباد کر گیا

جنوری 28, 2020

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

پاکستان: چیلنجز اور مواقع

اکتوبر 27, 2025

غالب اور سرکاری ملازمت

اکتوبر 22, 2019

کھیل دنیائے عارضی کا ہوں

اکتوبر 24, 2025

گھر کا پتہ

جنوری 24, 2020

جدید ٹیکنالوجی اور معصوم طلباء

جولائی 1, 2020

رقصِ شرر

جنوری 3, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اب عشق میں ہوں جان بَلَب

نومبر 4, 2025

سچی حکایات

اگست 11, 2024

چترال کی شدید برفباری

فروری 8, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں