359
اپنی طرف سے مجھ کو وہ برباد کر گیا
مجھ میں نیا ہی شخص وہ ایجاد کر گیا
ویسے تو وہ اجاڑ کے چلتا بنا مگر
ایک حوصلوں کی بستی بھی آباد کرگیا
میری ریاضتوں کا محصّل تھا وہ کلام
جاتے ہوئے جو آنکھ سے ارشاد کر گیا
پردیس سے کما کے بھی لوٹے گا ایک دن
رستے تمام شہر کے وہ یاد کر دیا
ایسا نہیں کہ ظلم سے اس کو پڑا نہ فرق
اک بوجھ خود ضمیر پر وہ لاد کر گیا
آنکھوں کی سرزمین پہ ہوئی فصل اشک خوب
زخموں پہ قہقہوں کی وہ جب کھاد کر گیا
خستہ تنا تھا ظلمت شب سے بچا ہوا
ایندھن بنا تو آخری امداد کر گیا
اویس خالد
