خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاممرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاکرم ثاقب

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

از سائیٹ ایڈمن جون 26, 2026
از سائیٹ ایڈمن جون 26, 2026 0 تبصرے 39 مناظر
40

مورخین اور آبادیاتی ماہرین کا اندازہ ہے کہ انسانی تہذیب کے آغاز سے اب تک بادشاہوں، آمروں اور متصادم نظریاتی دھڑوں کے ہاتھوں 50 کروڑ سے ایک ارب کے لگ بھگ انسان موت کے گھاٹ اتارے جا چکے ہیں۔ قدیم روما کی فتوحات اور منگول سلطنت کی خونی یلغار سے لے کر بیسویں صدی کے مشینی مقتول گاہوں تک، انسانی تاریخ اخلاقی ترقی کا کوئی روشن سفر نامہ نہیں، بلکہ پسماندہ، ضعیف اور حریف اقوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کی ایک طویل اور سیاہ فردِ جرم ہے۔ صدیوں تک یہ ملوکیت اور سلطنتوں کی ہوسِ زر اور جہانگیری کا شاخسانہ رہی، مگر سب سے گہرا گھاؤ اپنوں ہی کے ہاتھوں لگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہم مذہبوں اور ہم وطنوں نے اپنے ہی بھائیوں پر عقیدے، اقتدار اور مطلق العنان حکومت کی آڑ میں وہ ظلم و ستم ڈھائے کہ الحفیظ و الامان۔

تاہم، قدیم اور قرونِ وسطیٰ کے دور میں اس بربریت کی حدیں اور رفتار کسی حد تک قابو میں تھیں۔ شاید اس کی وجہ زمین پر آبادی کی کمی تھی، یا پھر جنگ و جدل کے ہنگاموں میں بھی انسانی روح کے احترام کا کوئی پوشیدہ احساس باقی تھا۔ روحانیت کا سایہ، روایتی اخلاقیات کا پاس اور مکافاتِ عمل کا خوف ابھی دلوں سے پوری طرح رخصت نہیں ہوا تھا، اسی لیے انسانی جان کی کچھ نہ کچھ توقیر باقی تھی۔ تب کہیں کوئی ایک ناحق خون بھی گرتا، تو لوگ چونک اٹھتے تھے اور بستیوں میں دور دور تک کفِ افسوس ملا جاتا تھا۔ وہ دور اس احساس سے زندہ تھا کہ ایک بے گناہ کا قتل دراصل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ انسانی جان کوئی بے روح عدد یا جنگی ریکارڈ کا حصہ نہیں تھی، بلکہ اس کائنات کا سب سے قیمتی سرمایہ سمجھی جاتی تھی۔

مگر افسوس! آج وہ اخلاقی لنگر ٹوٹ چکا ہے اور خرد کا نام جنون پڑ چکا ہے۔ صرف 1945ء کے بعد قائم ہونے والے نام نہاد عالمی نظام کے سائے میں اب تک ساڑھے پانچ کروڑ سے زائد معصوم جانیں نسل کشی، مصنوعی قحط اور استعماری مداخلت کی نذر ہو چکی ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا کے مقتول گاہوں سے لے کر مشرقِ وسطیٰ کی جھلسی ہوئی زمین تک، اور یورپ کی اجتماعی قبروں سے لے کر غزہ اور لبنان میں جاری عصرِ حاضر کے بدترین قتلِ عام تک—جدید دور کی یہ ہولناکی روح کو کانپا دیتی ہے۔ لیکن اس صورتحال کا سب سے بھیانک پہلو صرف لاشوں کے یہ ڈھیر نہیں، بلکہ عالمی برادری کی وہ مجرمانہ بے حسی ہے جس نے اس خونِ ناحق کو ہضم کرنا سیکھ لیا ہے۔ اندھی مادی ترقی، مشینی جنگوں اور کارپوریٹ میڈیا کی شعبدہ بازیوں نے بڑی طاقتوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے انسانی جان کو اس قدر ارزاں کر دیا ہے کہ اب کسی کا قتل ہونا کوئی المیہ نہیں رہا، بلکہ ٹی وی سکرین کی ایک عارضی پٹی، اخبار کی ایک بے جان سرخی یا سوشل میڈیا کا ایک معمولی اشتہار بن کر رہ گیا ہے جسے لوگ بے خیالی میں سکرول کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔

دوسری جنگِ عظیم کی راکھ پر جب اقوامِ متحدہ اور موجودہ بین الاقوامی نظام کی بنیاد رکھی گئی، تو امنِ عالم، "عالمی انصاف” اور "انصاف کے علمبرداروں” نے انسانی حقوق کے بڑے پرفریب راگ الاپے۔ مگر تاریخ نے ثابت کر دیا کہ یہ دعوے محض "بغل میں چھری، منہ میں رام رام” کے مترادف تھے۔ 1945ء کے بعد سے انصاف کے ان بلند بانگ نعروں کو ہمیشہ سامراجی فتوحات کے لیے بغل بچے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ عالمی منڈی کے ٹھیکیداروں نے کہیں قحط پیدا کیے، کہیں پوری بستیوں کو صفحہ ہستی سے مٹایا اور میڈیا مینیجمنٹ اور پروپیگنڈے کے بل بوتے پر ان ہولناکیوں کو یا تو دنیا سے چھپا دیا یا پھر انہیں "مہذب دنیا کی بقا کے لیے ناگزیر قربانی” قرار دے کر سراہا۔

آج جدید تاریخ کا کوئی بھی صفحہ پلٹیں، وہ معصوموں کے خون سے رنگین نظر آتا ہے، اور اس معاملے میں براعظم افریقہ کو استعماری بھیڑیوں اور کارپوریٹ مافیا نے سب سے بڑی مقتول گاہ بنایا۔ الجزائر میں فرانسیسی استعمار "تہذیب کی روشنی” پھیلانے کا بہانہ بنا کر آیا اور 15 لاکھ سے زائد انسانوں کو گولیوں سے بھون دیا، جبکہ مراکش میں فرانس اور اسپین کی مشترکہ جارحیت نے لاکھوں گھر اجاڑے۔ آزادی کا سورج طلوع ہوا تو اسے مغربی خفیہ ایجنسیوں نے اپنے مہروں کے ذریعے گہنا دیا۔ جمہوریہ کانگو میں پیٹرس لوممبا کو عبرت کا نشان بنا کر وہاں وہ کٹھ پتلی راج قائم کیا گیا جس نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے تانبے، کوبالٹ اور کولتان کی لوٹ مار کا راستہ صاف کیا۔ اس لوٹ کھسوٹ کی بھینٹ چڑھ کر 1990ء کی دہائی سے اب تک 60 لاکھ سے زائد کانگو کے شہری موت کی نیند سو چکے ہیں۔ روانڈا میں دنیا نے آنکھیں بند کر لیں اور صرف 100 دنوں کے اندر 8 لاکھ انسان گاجر مولی کی طرح کاٹ دیے گئے اور اقوامِ متحدہ تب تک مصلحت کی چادر اوڑھے رہی جب تک ندیاں سرخ نہ ہو گئیں۔ نائجیریا میں برطانوی تیل کمپنیوں کے مفادات کی خاطر بیافرا کی ناکہ بندی کی گئی، جس کے نتیجے میں 10 لاکھ سے زائد بچے اور بوڑھے بھوک سے تڑپ تڑپ کر مر گئے۔ صومالیہ اور سوڈان جیسے ممالک کو بحری تجارتی راستوں پر قبضے کی جنگ میں جھونکا گیا، جہاں بیرونی اسلحے نے 15 لاکھ سے زائد انسانوں کو نگل لیا۔ آج بھی دارفور، موزمبیق، مالی اور وسطی افریقی جمہوریہ میں سونا، ہیرے اور گیس بٹورنے کے لیے اپنوں ہی کے ہاتھوں اپنوں کا گلا کٹوایا جا رہا ہے۔

یورپ اور ایشیا کا حال بھی اس سے مختلف نہیں۔ چیچنیا کی آزادی کی تڑپ کو کچلنے کے لیے روسی استعمار نے گروزنی کو ملبے کا ڈھیر بنا کر 2 لاکھ مسلمانوں کو اجتماعی قبروں میں اتار دیا۔ بین الاقوامی قوانین کا جنازہ تو اس وقت نکلا جب خود یورپ کے دل میں، اقوامِ متحدہ کے متعین کردہ "امن زون” کے اندر، سرب جلادوں نے بوسنیا کے مسلمانوں کی نسل کشی کی۔ سربریسا کے مقام پر محض چند دنوں میں 8 ہزار سے زائد مسلم مردوں اور بچوں کو ذبح کر دیا گیا اور ہزاروں ماؤں بہنوں کی عصمتیں پامال ہوئیں، جبکہ ڈچ امن فوج تماشائی بنی اپنی سفارتی بزدلی کا ماتم کرتی رہی۔

پھر مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی بساط بچھائی گئی، جہاں امریکی سامراج نے "دہشت گردی کے خلاف جنگ” اور "جمہوریت کی بحالی” کا ڈھونگ رچا کر وہ خونی ہولی کھیلی جس کی نظیر نہیں ملتی۔ افغانستان کو "آزاد” کرنے کے نام پر دو دہائیوں تک بم برسائے گئے اور 2 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کو مٹی میں ملا دیا گیا۔ عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا سفید جھوٹ بول کر "عراقی آزادی” کے نام پر 10 لاکھ سے زائد انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ لیبیا میں نیٹو کی "انسانی ہمدردی کی مداخلت” نے ایک ہنستے بستے ملک کو لاشوں کے ڈھیر اور کھلے عام لگنے والے غلاموں کے بازاروں میں تبدیل کر دیا، جہاں اب تک 50 ہزار سے زائد جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

شام کی بساط پر تو ظلم کی انتہا ہو گئی، جہاں ایک طرف اسد حکومت اپنے ہی شہریوں پر کیمیکل اور بیرل بم برسا رہی تھی، تو دوسری طرف روس، امریکہ اور علاقائی مداخلت نے اس آگ کو وہ ہوا دی کہ 6 لاکھ شامی لقمہ اجل بن گئے اور آدھا ملک ہجرت پر مجبور ہو گیا۔ یمن پر مسلط کی گئی جنگ نے 4 لاکھ انسانوں کو قحط اور بمباری سے مار ڈالا، جسے خود اقوامِ متحدہ نے صدی کا بدترین انسانی بحران قرار دیا، مگر مغرب کے اسلحے کے کارخانے چوبیس گھنٹے چلتے رہے۔ مصر میں جب عوامی مینڈیٹ سے بننے والی حکومت کا تختہ الٹ کر آمریت مسلط کی گئی، تو رابعہ العدویہ چوک پر ایک ہی دن میں ہزاروں پرامن شہریوں کا خون بہا دیا گیا اور عالمی طاقتوں نے "استحکام” کے نام پر اس ظلم کو آشیرباد دی۔ دوسری طرف، وادیِ کشمیر میں گذشتہ کئی دہائیوں سے بھارتی ریاستی دہشت گردی 1 لاکھ سے زائد کشمیریوں کا خون چاٹ چکی ہے، مگر نئی دہلی کی بڑی تجارتی منڈی کے سامنے "اہلِ مغرب” اندھے، بہرے اور گونگے بن چکے ہیں۔

لیکن ان سب سے بڑھ کر، انسانیت کا سب سے رستا ہوا ناسور غزہ، فلسطین اور لبنان کی سرزمین ہے، جہاں صیہونی ریاست نے امریکی ویٹو، مغربی اسلحے اور سفارتی تحفظ کی چھتری تلے مظلوموں کی بستیوں کو مٹی کا ڈھیر بنا دیا ہے۔ یہ وہ واحد نسل کشی ہے جو دنیا کی سکرینوں پر لائیو دکھائی جا رہی ہے اور ظالم اسے "حقِ خود ارادیت” کا نام دے رہا ہے۔ اب تک لاکھوں فلسطینی شہید اور معذور ہو چکے ہیں جن میں آدھے سے زیادہ معصوم بچے اور خواتین ہیں۔ پورا غزہ ملبے کا قبرستان بن چکا ہے اور اب یہی صیہونی آگ لبنان کے آنچل کو جھلسانے لگی ہے، مگر دنیا کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔

اس ملوکیت کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ ان تباہ حال ملکوں میں اکثر اپنے ہی حکمران، کٹھ پتلیاں اور سیاسی دھڑے بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے اپنے ہی بھائیوں کی گردنیں کاٹ رہے ہیں، اور عالمی چوہدری پسِ پردہ اپنی کامیابی پر مسکرا رہے ہیں۔

آج دنیا کی یہ تمام اقوام اور ان کے بے ضمیر حکمران مرغوں کے ایک عالمی ڈربے کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ جب قصاب ڈربے میں ہاتھ ڈال کر کسی ایک مرغے کو ذبح کرنے کے لیے پکڑتا ہے، تو وہ شکار چند لمحے پھڑپھڑاتا ہے، چیختا ہے اور پھر خاموش ہو جاتا ہے۔ باقی پورا ڈربہ اس ہولناک منظر کو دیکھنے کے باوجود خوف اور لالچ کے مارے سر تک نہیں اٹھاتا۔ وہ سب گردنیں جھکائے صیہونی لابیوں، استعماری طاقتوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ڈالے ہوئے مفادات کا دانہ چگنے میں مگن رہتے ہیں۔ کسی ایک حکمران میں اتنی غیرت اور جرات نہیں کہ وہ قصاب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ سکے، کیونکہ سب کو اپنی بقا اور اقتدار کی پڑی ہے۔ معاشی امداد، آئی ایم ایف کے قرضے، سیاسی پناہ اور کارپوریٹ سرمایہ وہ افیون کا دانہ ہے جس نے دنیا کی اخلاقی ریڑھ کی ہڈی کو مفلوج کر دیا ہے۔

دانہ ڈالنے والے ان عالمی آقاؤں کی پکڑ اتنی سخت اور بے رحم ہے کہ اگر اس جھنڈ میں سے کوئی ایک غیور لیڈر یا ملک سر اٹھانے کی جرات کرے یا اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرے، تو اسے فوراً نشانِ عبرت بنا دیا جاتا ہے۔ معاشی پابندیوں، اندرونی خلفشار، سیاسی تنہائی یا براہِ راست فوجی چڑھائی کے ذریعے اس کا وہ حشر کیا جاتا ہے کہ باقی پورا جھنڈ سہم کر دوبارہ دانے پر گر پڑتا ہے۔

صیہونی نیٹ ورکس، اسلحہ ساز مافیا اور کارپوریٹ اجارہ داروں نے انسانیت کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں ایک انسان کے خون کی قیمت تیل کے ایک بیرل، اسلحے کے ایک معاہدے یا کمپنیوں کے سہ ماہی منافع سے بھی کم ہو چکی ہے۔ یہ جدید دنیا کا وہ مکروہ چہرہ ہے جہاں مفادات کے دانے کی لت نے انسان سے احساسِ زیاں بھی چھین لیا ہے۔ جب تک یہ عالمی برادری ذاتی مفاد کے اس دانے سے نظریں اٹھا کر قصاب کے ہاتھ کو نہیں روکے گی، تب تک اس عالمی ڈربے کا ہر مرغا باری باری اپنی موت کا انتظار کرتا رہے گا اور خاموشی سے مقتل کی طرف بڑھتا رہے گا۔

پروفیسر اکرم ثاقب

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سارا جرم تمھارا ہے
  • ادویات،کمیشن اور ضمیر کا سود
  • پاک سعودی عرب تعلقات کا ایک نیا موڑ
  • عریاں احتجاج
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ہم نے دیکھا ہے
پچھلی پوسٹ
ڈوبتے چاند کا آخری منظر ایک مطالعہ

متعلقہ پوسٹس

کوئی آواز

جنوری 30, 2023

پر امن افغانستان !

ستمبر 7, 2021

ڈارون کا نظریہء ارتقاء اورجدید سائنس

دسمبر 20, 2022

نمک حرام

اپریل 1, 2023

میرا بچہ

مارچ 22, 2020

گلچیں

دسمبر 1, 2019

ان صحبتوں میں آخر

مئی 21, 2024

میں اکثر سوچتی ہوں

جون 28, 2020

ایسےایسے لوگ

دسمبر 16, 2019

رشید حسرت کی شاعری کا تجزیاتی مطالعہ

اکتوبر 26, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

وفا کی راہ بدل کر چلے...

دسمبر 8, 2025

مِصری کی ڈلی

جنوری 16, 2020

شب زفاف جب داغدار ہو جائے...

نومبر 29, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں