خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابارشید حسرت کی شاعری کا تجزیاتی مطالعہ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزتحقیق و تنقیدرحمت عزیز خان

رشید حسرت کی شاعری کا تجزیاتی مطالعہ

از رحمت عزیز خان اکتوبر 26, 2025
از رحمت عزیز خان اکتوبر 26, 2025 0 تبصرے 78 مناظر
79

Salampakistan logo

بلوچستان کے ضلع کچھی کے پسماندہ گاؤں مِٹھڑی میں 16 جون 1962 کو جنم لینے والے عبدالرشید، جنہیں ادبی دنیا میں "رشید حسرت” کے نام سے جانا جاتا ہے، اردو شاعری کے اُن معتبر اور مخلص ناموں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی فکری دیانت، عروضی مہارت اور انسانی جذبات کے توازن سے اردو ادب میں ایک خاص پہچان قائم کی۔ غربت اور سماجی مشکلات کے باوجود، رشید حسرت نے نہ صرف اپنی تعلیم مکمل کی بلکہ ستائیس سال تک کالج سطح پر اردو ادب پڑھا کر کئی نسلوں کو فکری بصیرت بخشی۔ سبکدوشی کے بعد بھی بلا معاوضہ علمِ عروض کی تدریس ان کے عشقِ ادب اور جذبۂ خدمت کی روشن مثال ہے۔

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔
ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

رشید حسرت کی شاعری احساس و اظہار کا حسین امتزاج ہے

۔ ان کے اشعار میں ایک طرف زندگی کے تلخ تجربات کی گہرائی ہے تو دوسری طرف انسانی کردار اور اجتماعی رویّوں پر گہرا طنز بھی۔ ان کا لہجہ سادہ مگر پُر اثر ہے، جس میں کلاسیکی روایت کی خوشبو اور جدید عہد کی معنویت دونوں جھلکتی ہیں۔

ان کی تازہ غزل کا یہ شعر ملاحظہ کیجیے:
بوڑھا تھا مگر عین جوانی میں کھڑا تھا
مہکار میں تھا رات کی رانی میں کھڑا تھا
یہ شعر اپنے اندر دوہری معنویت رکھتا ہے۔ جسمانی عمر کی بڑھاپے کے باوجود جذبے اور عزم کی جوانی۔ "رات کی رانی” کا استعارہ حسن اور مہک کا ہے، جو شاعر کے باطن کی روشنی کا پتہ دیتا ہے۔

اسی غزل میں کردار، وفا، معاشرتی سرد مہری اور زمانے کی ناقدری جیسے موضوعات نہایت سلیقے سے بیان ہوئے ہیں مثلاً:
تھے جتنے بھی وہ بیٹھ گئے ایک مگر وہ
کردار تھا جو ساری کہانی میں کھڑا تھا
یہ شعر نہ صرف انسانی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ اصول پر قائم رہنے والا شخص ہمیشہ تنہا ہوتا ہے۔
رشید حسرت کے ہاں ماضی کی یاد اور حال کی تنقید، دونوں ساتھ چلتے ہیں جیسے:
کچھ دیر کو وہ کوچہ و گھر ذہن میں اترے
کچھ دیر کو وہ یاد پرانی میں کھڑا تھا
یہ اشعار داخلی مکالمے اور وقت کی گردش کے احساس سے لبریز ہیں۔

رشید حسرت عروضی اعتبار سے نہایت مضبوط شاعر ہیں۔rasheed hasrat ان کی بحریں متوازن، ردیف و قافیہ میں نفاست اور تشبیہ و استعارے میں تازگی پائی جاتی ہے۔ ان کا لہجہ خطیبانہ نہیں بلکہ تخلیقی صداقت پر مبنی ہے۔ وہ جذبے کو سجا کر نہیں بلکہ سچائی کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار قاری کے دل میں اترتے ہیں اور دیرپا اثر چھوڑتے ہیں۔

ان کی شاعری میں طنز کی ایک نرم لہر بھی موجود ہے۔ طنز جو دل آزاری نہیں بلکہ اصلاحِ فکر کا ذریعہ بنتا ہے مثلاً:
سب کرسیاں خالی تھیں مگر ایک ادب دان
بھاشن پہ رشید اپنی روانی میں کھڑا تھا
یہ شعر خود شاعر کی ذات کا عکاس ہے، ایک سچا ادیب جو تنہائی میں بھی ادب کے وقار کو قائم رکھے ہوئے ہے۔

رشید حسرت کا دکھ صرف ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی ہے۔ وہ اس معاشرے کی سرد مہری، کتاب سے بے رغبتی اور مادیت پرستی کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔ ان کے اپنے الفاظ میں:
"حسرت وہ چاندنی وہ عقیدت کے سلسلے
پر کیا کریں کہ مسئلہ تھا روزگار کا”
یہ شعر محض ایک ذاتی شکوہ ہی نہیں بلکہ ایک عہد کا نوحہ بھی ہے جس میں فنکار اپنے زمانے کے مادی جبر کے سامنے بے بسی کا اعلان کرتا ہے۔

رشید حسرت کی شاعری میں نہ تو جذباتی تصنع ہے اور نہ ہی فکری بے سمتی۔ وہ کلاسیکی روایت سے جڑے ہوئے بھی ہیں اور جدید حسیت کے قائل بھی۔ ان کی شاعری میں میر، فراق اور ناصر کاظمی کی تاثیر کے ساتھ ساتھ اکیسویں صدی کے شعور کی گہرائی بھی موجود ہے۔ ان کے اشعار میں علامتی معنویت، سماجی بصیرت اور فکری پختگی بیک وقت جلوہ گر ہے۔

رشید حسرت اردو شاعری کے اُن خالص، غیر تجارتی اور فکری طور پر معتبر شعرا میں سے ہیں جنہوں نے ادب کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ ان کی شاعری میں انسانی احساس کی صداقت، فن کی پختگی، اور عہدِ حاضر کی تنقید کا حسین امتزاج ہے۔ اگرچہ معاشرتی بے اعتنائی نے ان کے راستے کو مشکل بنایا، مگر وہ آج بھی اپنی "روانی میں کھڑے” ہیں، ادب کی خدمت میں، سچائی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

نمونہ کلام

میں اپنے آپ کو تنہائیوں میں رکھتا ہوں
عمیق درد کی گہرائیوں میں رکھتا ہوں

گداز طبع کو تو کھینچ لوں گا اپنی طرف
گھمنڈیوں کو میں سودائیوں میں رکھتا ہوں

وہ زر پرست جو رانجھے سے ہیر چھینتے ہیں
تو اپنی چیخ میں شہنائیوں میں رکھتا ہوں

فقط اجالا نہیں راس میری آنکھوں کو
رمق اندھیرے کی بینائیوں میں رکھتا ہوں

وہ میرا دوست ہو، دشمن کہ ہو سگا بھائی
میں خود پرست کو ہرجائیوں میں8 رکھتا ہوں

کروں میں کیا کہ یہ برداشت میرا شیوہ ہے
ملال جتنا ملے کھائیوں میں رکھتا ہوں

جو سچ کہوں تو دھنک ان کے دم قدم سے ہے
میں اپنے شعروں کو انگڑائیوں میں رکھتا ہوں

سبھی کو دعویٰ تھا، آیا تھا مجھ پہ وقت کٹھن
رہے جو ساتھ، انہیں بھائیوں میں رکھتا ہوں

رشیدؔ تن پہ جو مزدور کے سجی ہے میاں
پھٹی قمیص کو زیبائیوں میں رکھتا ہوں
*
ہم تو سجدے بھی کیا کرتے تھے اک ایک کے بعد
پر وہ الزام دھرا کرتے تھے اک ایک کے بعد

ہم کو نفرت کی نظر بھی نہ ملی ہے تم سے
لوگ قربت میں رہا کرتے تھے اک ایک کے بعد

مان لیتا ہوں کسی نے نہیں چھیڑے گھاؤ
پر نمک لے کے وہ کیا کرتے تھے اک ایک کے بعد

تم نے کانوں میں تکبّر کی رئی ٹھونسی تھی
ہم تو آواز دیا کرتے تھے اک ایک کے بعد

ہم اسی سوچ میں تھے جا کے کہاں پر بیٹھیں
لوگ تشریف رکھا کرتے تھے اک ایک کے بعد

ہم بھی قیدی تھے کئی اور پرندوں کی طرح
اور صیّاد رہا کرتے تھے اک ایک کے بعد

زخم ہمدرد رفیقوں سے کہیں بڑھ کے رشیدؔ
آ کے سینے سے لگا کرتے تھے اک ایک کے بعد
*
نصیب ہو نہیں پایا جو رنگ میرؔ کا ہے
وگرنہ شعر مرا بھی تو زہر تیر کا ہے

قفس سے اپنی محبت کے مت نکال اسے
رہے گا قید سدا فیصلہ اسیر کا ہے

شکست و ریخت سے یہ ہم کنار کر دے گا
اٹھا نہ پاؤں گا میں بوجھ وہ ضمیر کا ہے

یہ اس کی سیوہ کرے، وہ لہو نچوڑے گا
غریبِ شہر سے کیسا سلوک امیر کا ہے

نکل کے جانے نہ پاؤں تری اسیری سے
سوال رخ کا ترے، زلفِ حلقہ گیر کا ہے

چلا تھا پار لگانے کو بیچ میں چھوڑا
یہ معجزہ بھی عجب اپنے دستگیر کا ہے

ابھی وہ عہدِ جوانی رشِیدؔ خواب ہؤا
کہ رنگ پھیکا پڑا وقت کی لکیر کا ہے
*
رکھیں گے دل کے قریں تم کو، دور مت جاؤ
سہارا کون بنے گا حضور، مت جاؤ

تمہیں تو اور کہیں بھی سکوں ملے گا مگر
اجاڑ دو گے وفا کا سرور، مت جاؤ

سفر کا سلسلہ جاری رہے مشقت سے
ملے گی ہم کو بھی منزل ضرور، مت جاؤ

سبب تو ہو گا تمہارے برا منانے کا
ہمیں بتاؤ ہمارا قصور، مت جاؤ

پھر آج جلوۂِ یزداں کی مانگ ہے لوگو
صدا سنے گا یہاں سے بھی، طورؔ مت جاؤ

یہاں کے لوگ حسینوں سے بیر رکھتے ہیں
تمہارے رخ سے جھلکتا ہے نور، مت جاؤ

میں کہہ رہا تھا کسی دلپذیر ہستی سے
تمہیں بہشت ہو، جنّت کی حُور مت جاؤ

سفر میں کتنے مسائل کا سامنا ہو گا
کروں گا کیسے اکیلے عبور، مت جاؤ

بدن پہ زخم ہیں جتنے وہ ڈھانپ کر رکھ لو
اب اس کے سامنے تو چُور چُور مت جاؤ

بلائیں راستہ روکے کھڑی ملیں گی تمہیں
نہیں ہے وقت کا تم کو شعور، مت جاؤ

چلے ہو روٹھ کے حسرتؔ کہاں، کہ تم سے ہے
محبّتوں کا، وفا کا غرور، مت جاؤ

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مچلتی ہیں تری یادیں بہاروں میں
  • ماٹی قدم کریندی یار
  • کرب کی سُولی
  • جلا کر نفس کو جگنو، اندھیرا دُور کرتا ھے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
رحمت عزیز خان

اگلی پوسٹ
یہ بھی میرا گمان ہو شاید
پچھلی پوسٹ
روداد بابت اجلاس (حصہ دوئم)

متعلقہ پوسٹس

تلخ لہجے سے اپنے مارتے ہو

اپریل 9, 2023

فرض اپنا وہ نبھانے آئے

دسمبر 12, 2021

کوئی تو بات تھی جو بات ختم کر دی ہے

مئی 15, 2020

ٹُوٹُو

جنوری 12, 2020

دم توڑتی امید کناروں کی آس میں

نومبر 27, 2021

جو خوشبوؤں سے غلط فائدہ اٹھاتا ہے

نومبر 11, 2025

سبھی کو بندشِ گُفتار ہونا چاہیے تھا

مئی 14, 2020

میڈم – ناولٹ (قسط نمبر 3)

نومبر 6, 2025

جہاں کارواں ٹھہرا تھا

مارچ 3, 2013

ثروت حسین کا جہانِ نظم

جولائی 5, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پچاس چھ لفظی کہانیاں

دسمبر 23, 2021

سفر آسان تھوڑی ہوتے ہیں

نومبر 1, 2025

روشنی پہلے جب اس دل

مارچ 4, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں