خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابا‘لا’ سے ‘کن ‘کا سفر
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزاقرا جبین

‘لا’ سے ‘کن ‘کا سفر

از اقرا جبین مئی 18, 2020
از اقرا جبین مئی 18, 2020 0 تبصرے 47 مناظر
48

‘لا’ سے ‘کن ‘کا سفر

از خود بینی

"جس نے خود کو پہچان لیا اس نے رب کو پہچان لیا”

انتہائی آسان اور سادہ لفظی جملہ لیکن اس ایک جملے میں کائنات کی تسخیری اور اسکے راز پنہاں ہیں۔امام غزالی کا یہ قول ہماری زندگیاں بدل سکتا ہے گر اس ایک جملےکو کو سمجھنے کی مسافت کو طے کرنے میں وقت نہ لگے۔مجھے بھی یہ جملہ اب سمجھ آیا زندگی کے پانچ سال انتہائی دشوار اور پریشان کن گزارنے کے بعد۔جب خود کو ہی نہیں پہچانا تو کر کیا سکوں گی۔اور جب جب مشکل اور کڑا وقت مزید چلتا گیا معلوم پڑا وہ خدا تو خود تک پہنچے کا راستہ دکھانا چاہتا ہے کے خودی کو پہچان کے چل اور مجھ تک آ۔میں ہی ہوں "کل”
خدا جب بھی اپنے بندے کو کن کا سفر دکھانا چاہتا ہے اسے لا سے گزارتا ہے۔وہ کہتا ہے جب تک تو اپنی کرتا رہے گا لا ہے جب میری مان کے چلے گا تو کن ہے۔ایک طرف تو کڑی آزمائشوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو دوسری طرف یہ بھی بتاتا ہے
"ان اللہ مع الصابرین”
بے شک خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔

ہماری زندگی کے مختلف پہلو ہیں۔ہمارے لئیے ہمارے رشتے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔اور ہم انہی کی خاطر بہت کچھ کر گزرتے رہتے ہیں۔دل توڑ دیتے ہیں۔گستاخیاں کر دیتے ہیں۔خدا کی نا فر مانیاں چلتی رہتی ہیں۔اسی وجہ سے ہم پریشان حال اور ‘لا’ کی گرداب میں پھنسے چلے جاتے ہیں۔
جبکہ خدا کا فرمان ہے
مجھ سے معافی مانگنے سے پہلے اس انسان سے معافی مانگو جس کا دل دکھایا۔اگر وہ معاف کردے تو سمجھنا میں نے معاف کیا’
یعنی یہ بتایا گیا کے اپنی میں کو مار کے ہر انسان سے جس سے غلطی یا زیادتی کی گئی معافی ما نگو تبھی مجھ سے ملے گی۔کیونکہ خدا کا رستہ تو اس کی مخلوق سے ہوکر گزرتا ہے۔
تو جناب والا اگلی بات ہے کن کے سفر کی تو ہمارے لئیے ہر شے تب تک لا ہی رہتی ہے جب تک ہمیں لگتا ہے ہمیں اپنی مرضی سے نہیں ملا۔جو ہم نے چاہا یا مانگا وہ نہیں ملا۔حالانکہ اگر دیکھا جائے اللہ نے ہر انسان کو اسکی اوقات سے زیادہ نواز رکھا ہے۔صرف پیسہ رزق نہیں ہوتا۔اولاد، مال، دولت، محبت، شہرت ،عزت، دوست یہ سب
نعمتیں ہیں۔اور اگر اللہ نے تمہاری تقدیر میں کلرک بننا لکھا ہے تو تم مینجر نہیں بن سکتے۔ہاں بن سکتے ہو گر تم ارادہ کر لو خود کو پہچان لو اور مخنت اور ایمانداری سے کرو کام تو خدا تمہیں وہ عطا کرے گا جس کا تم سوچ نہیں سکتے۔

خودی کی یہ ہے منزل اولین
مسافر یہ تیرا نشمین نہیں
تری آگ اس خاک داں سے نہیں
جہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیں

اور یہاں خود کا سفرانسان کے سوچنےکے پہلو سے شروع ہوتا ہے۔اسے اندر سے آواز آگئی جس دن ہاں میں نے یہ درست کیا اور یہ غلط اس دن اس نے خودی کے منزل پر پہلا قدم دھر لیا۔صرف اس خودی میں اپنی پہچان کے بعد اپنے نفس کو قابو میں کرنا ہے۔ہم ہر عمل سے واقف ہوتے ہوئے غلط اقدام اٹھاتے ہیں اور خدا سے شکوہ کرتے ہیں یہ تو بے جا ہے
فرمان ہے
"اے ابن آدم ایک تیری چاپت ہے اور اک میری چاہت۔تو وہ کر جو میری چاہت ہے ۔میں وہ کروں گا جو تیری چاہت ہے”
یہ جہاں صرف اور صرف اک راز ناآشنا ہے جسکو صرف اور صرف باطنی آنکھ اور خودی کے سفر پر مامور انسان سمجھ کر تسخیر کر سکتا ہے۔
ہمار ےپاس ہر چیز کا حل موجود ہے۔(قرآن)تو کیوں ہم در بدر کی ٹھوکریں کھانے کے بعد اس تک پہنچتے ہیں۔فرمایا گیا ہے
‘اس میں عقل والوں کے لئیے نشانیاں ہیں’
ہم دنیا میں دنیا کی دوڑ میں صرف بھاگے جارہے ہیں۔پیسے اور عزت بنانے کی خاطر کہاں سے کہاں تک پہنچ جاتے اور اگر اسی دوراں سانس ناچلی تو؟؟؟
اور ہمیشہ مطمئن وہی رہتے ہیں جو دین اور دنیا دونوں سنوارتے ہیں۔دین میں دنیا کی دنیا کو ترک نہیں کیا جا سکتا اور دنیا کے لئیے دین کو۔ہم جو بھی کمائیں گے یہی رکھ جائیں گے قبر میں ہمارے ساتھ بس ہمارے اعمال جائیں گے اور اچھے برے کارنامے سو آدھا نہیں پورا سو چئیے۔
واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
اگر آپ سیدھے رستے آ گئے تو ٹھیک ہے ورنہ آپ کو غم کے رستے سے لائیں گے۔اس سے پہلے کے آپ کو غم کا رستہ دیا جائے آپ اپنی خوشی سے سیدھے رستے پر آجائیں۔ورنہ آپکو تو پتا ہے کے خدا کے نہ ماننے والوں کے منہ سے بھی مشکل میں یا اللہ ہی نکلتا ہے۔

اور یہ طے ہے کے خدا کی طرف جانے والا رستہ مسافر منزل خودی کے بغیر طے نہیں ہو سکے گا۔یا آپ خدا کو پہچانو گے تو بھی آپ خود کو پہچان لو گے یا آپ خود کو پہچان گئے تو خدا کی حکمت سمجھ آنے لگے گی۔

ہم صرف یہ چاہتے ہیں کے ہم خدا کی نا مانیں مگر ہم جو چاہیں وہ ضرور مانے کیوں بھئی کیا وجہ ہے؟؟جب کائنات کا سارا نظام حکم خداوندی کا پابند ہے تو انسان کیوں نہیں؟؟؟ انسان کو صرف اتنا اختیار دیا گیا ہے کے اچھائی اور برائی سے اپنا رستہ منتخب کرے اور جو جیسا رستہ منتخب کرے گا ویسا پھل پائے گا۔دوسرے لفظوں میں جو بوئے گا کاٹے گا۔

اقرا جبین

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہجوم۔ عاشقاں اب تک لب۔ دریا سلامت ہے
  • انگلیاں کٹ گئیں اور بل نہیں کھلنے والا
  • شفق کا سفر
  • یہ تماشائے رنگ و بُو بھی مجھے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
اقرا جبین

اگلی پوسٹ
ذرا سی چھاؤں میسر ہے تھوڑا دَم لے لوں
پچھلی پوسٹ
ایک مشکل سوال

متعلقہ پوسٹس

میں وہ نہیں ہوں جو

جنوری 12, 2025

وہ تجھ کو دے گا کھانا

نومبر 10, 2025

سرکس کے شیر

ستمبر 20, 2020

یہی تو بھول ہو گئی قطار میں نہیں رہے

دسمبر 9, 2019

بو الحسن شیرِ خدا مولا علی

جولائی 6, 2025

رشید حسرت کی شاعری کا تجزیاتی مطالعہ

اکتوبر 26, 2025

وہ دل میں ہوتا نہیں

جون 15, 2024

خواب و خیال

نومبر 3, 2024

ہم تُند خو ہوئے کہ

فروری 25, 2025

کتے کی زبان

مئی 25, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ٹانگوں میں سوجن،پٹھوں کی کمزوری سستی

اپریل 28, 2026

ہم خوار ہوئے تارک قرآن ہو...

اگست 17, 2025

رخ سے نقابِ سبز

مارچ 4, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں