320
ہر طرف ریت کا اجارا ہے
یعنی صحرا میں بھی خسارا ہے
رہ گئے ہیں ہم آدھے شاخوں پر
اس نے یوں کھینچ کر اتارا ہے
پاؤں دھو جا ہماری مٹی پر
ان زمینوں کا پانی کھارا ہے
ہم پڑے رہ گئے ہیں تہہ میں کہیں
آپ نے خود کو یوں نتھارا ہے
جان پر بن گئی ہے خوشبو کی
تو نے گلدان کیا سنوارا ہے
آئنہ قحط میں ہوا ایجاد
خود پرستی کا استعارا ہے
وقت کے بھاؤ بڑھ گئے ہیں منیر
زندگی کا عجب گزارا ہے
منیر جعفری

1 تبصرہ
بہترین انتخاب