103
اظہار خود بخود کبھی انکار خود بخود
ہوتا نہیں ہے دوست کو ئی کار خود بخود
کو ئ سبب تو ہو گا دلِ داغ دار کا
کب زخم کو ئی ہوتا ہے بیدار خود بخود
ہر گز کسی کی پیٹھ پہ خنجر نہ ماریے
آتا ہے لوٹ کے سدا ہر وار خود بخود
گر ہو سکے تو اپنا گریباں بھی دیکھیے
اگتے نہیں ہیں دل میں کبھی خار خود بخود
اپنوں نے کچھ کہا نہ کہا غیروں نے کبھی
ہم ہو گئے ہیں دنیا سے بیزار خود بخود
جب حال چال دنیا سے ہم نے چھپا لیا
تو دور ہو گِئے سبھی آزار خود بخود
سچی لگن ہو شازیہ تو رب کے حکم سے
ملتے ہیں منزلوں کے بھی آثار خود بخود
شازیہ طارق
