100
گری ہے برق دل کے آشیاں پر
بھروسہ کر لیا تھا رازداں پر
اسے معلوم کیا یہ عشق کیا یے
یہ دل آیا بھی تو نامہرباں پر
جسے برسوں سے سننا چاہتی ہوں
وہ بات آتی نہیں اس کی زباں پر
بہت ویران یے چاہت کی بستی
وفا ڈھونڈوں کہاں اب کس دکاں پر
ملی نور اس کو کل عالم کی دولت
کیا ہے جس نے تکیہ لفظ ماں پر
ثوبیہ نیازی
