خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباتنہائی کا خالی سینہ اور باشک ناگ کا دل
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

تنہائی کا خالی سینہ اور باشک ناگ کا دل

از سائیٹ ایڈمن فروری 25, 2022
از سائیٹ ایڈمن فروری 25, 2022 0 تبصرے 39 مناظر
40

کاجل نے کیفے سے باہر دیکھا۔ برف پوش وادی چاندنی میں دھلی ہوئی تھی۔ بل کھاتی لمبی سڑک اور حد نظر تک پھیلے سبزہ زار سفید اوڑھنی اوڑھے درد انگیز خاموشی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ازلی دکھن و بے کلی سے آلودہ رات مرمریں روشنی میں چمکتی بے جان یخ بستہ تصویر کی طرح تھی۔ سر شام ہی بادل وادی میں گھومنا شروع ہو گئے تھے۔ چاند اب بادلوں کے ساتھ چھپن چھوت کھیل رہا تھا۔ پھر ہلکی سی پھوار بھی پڑنا شروع ہو گئی۔ دن کی روشنی میں شرماتی برف اب رات کو روئی کے گالوں پر سوار ہو کر زمین پر آنے کو تڑپ رہی تھی۔ کبھی کبھی کوئی مسافر جوڑا ایک دوسرے میں الجھا اس کے سامنے سے گزر جاتا۔ ان کے سرگوشی نما قہقہے سنائی دیتے تو یوں محسوس ہوتا کہ ماحول کی کبیدگی کو کم کرنے کے لیے تنہائی خود سرگوشیوں میں بول رہی ہے۔

وہ سوچوں میں غرق اپنی منجمد تنہائی سمیٹے دروازے پر کھڑی ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔

کاجل کالج ہاکی ٹیم کی کپتان تھی۔ کالج کے ہی ایک میچ کے دوران مخالف ٹیم نے اسے نشانہ بنا لیا۔ ہر کھلاڑی کی کوشش تھی کہ ہاکی، گیند یا ٹانگ اس کے بائیں ٹخنے سے ٹکرائے۔ وقفہ کے وقت وہ لنگڑاتی ہوئی میدان سے باہر آئی اور میچ ختم ہونے سے پہلے ہی ہسپتال پہنچ چکی تھی۔ ایکیلز زخمی ہو گیا اور وہ ساری عمر کے لیے کھیل کے میدان سے باہر۔

کالج سے فارغ ہوتے ہی اس نے ایک فارماسیوٹیکل کمپنی میں جاب کر لی۔ وہ ایک کامیاب سیلز گرل تھی۔ پارٹی کو ایک دو ملاقاتوں میں رام کر لیتی۔ شہر شہر گھومنا، فائیو سٹار ہوٹلوں کی زندگی سے مفت لطف اندوز ہونا۔ پانچ سال کامیابی سے گزر گئے۔ اپنے کام سے مطمئن تھی۔ وہ اکتسابی صلاحیتوں کی حامل سیدھی سادی محنتی عورت تھی۔ بدگمانی و وہم اس کی سرشت میں ہی نہیں تھا۔ غلطی اس کی ہی تھی کہ اس بار وہ تین دن کے دورے پر گئی اور پھر دوسرے دن ہی واپس آ گئی اور وہ بھی کسی کو بتائے بغیر۔ طلسم بے خبری کا الجھان کسی نعمت سے کم نہیں۔ کاش اس نے وہ سب نہ دیکھا ہوتا۔ وہ اپنی شادی کو کامیاب سمجھتی تھی۔ وہ تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اس کا خاوند دھوکا دے گا۔ گھر پہنچی تو بستر پر اس کا خاوند لیٹا تھا اور اس کی عریاں بہن اوپر بیٹھی تھی۔

اسے کچھ یاد نہیں اس نے کیا دیکھا؟ اس کی نگاہیں اوپر نیچے حرکت کرتی چھاتیوں میں اٹک گئیں۔
وہ تو اب بھی اسے فریب نظر ہی سمجھتی تھی۔
وہ عورت تھی، کانوں کے بھروسے محبت کرنے والی، یہی کان دھپ دھپ کی گونج سے بہرے ہو گئے تھے۔
اس کے بعد وہ کبھی اپنے گھر نہیں گئی۔ استعفیٰ دیا اور ادھر آ گئی۔

اس ویران سی سڑک پر اس کی بوڑھی خالہ کا دو منزلہ مکان تھا۔ سامنے بڑے پتھروں سے اٹا چھوٹا سا پلاٹ جس میں دیودار اور چیڑ کے بوڑھے درخت جن پر پہاڑی بیلیں سانپوں کی طرح لٹکتی نظر آتی تھیں۔ نیچے وہ دکان کرتی تھی اور اوپر رہائش۔ بہت پرفضا جگہ تھی۔ ایک ندی پہاڑیوں کے نیچے تنہا پتھریلے راستوں پر شور مچاتی اور کنکروں سے ٹکراتی اس طرح چلتی تھی کہ جیسے کوئی الہڑ دوشیزہ سبک خرام ہو۔ گرمیوں میں ادھر سیاحوں کا اژدہام رہتا۔ پانی کی ہلکی ہلکی موجوں سے دھلے پتھروں پر نوخیز دوشیزائیں بال کھولے بیٹھی اپنے نرم نرم برہنہ پیروں سے پانی کی چھینٹیں اڑاتی نظر آتیں۔ سردیوں میں بھی کچھ مہم جو برف باری دیکھنے اتنی دور تک چلے آتے۔ وہ خود بھی کئی بار ادھر آ چکی تھی۔ یہ جگہ اس تنہائی کی ماری کی قیام گاہ بن سکتی تھی۔

خالہ کو یہ مکان اس کے ایک مرحوم دوست نے تحفے میں دیا تھا۔ اسی دوست کی وجہ سے سارا خاندان خالہ سے ناراض تھا۔ امی بھی اسے میل ملاپ سے منع کرتی تھی۔ اب وہ بہت بوڑھی ہو چکی تھی۔ کام کاج کے قابل نہیں تھی اس لیے یہ جگہ کرائے پر دینا چاہتی تھی۔ اس نے دکان لی اور کیفے بنا لیا۔ چھوٹے چھوٹے دو لڑکے ملازم رکھ لیے اور خود کچن میں دنیا جہاں سے چھپ کر بیٹھ گئی۔

کچھ دن تک کوئی گاہک نہ آیا۔ وہ فارغ برف باری میں بیٹھی گانے سنتی رہتی۔ ایک دن ہلکی ہلکی برف باری ہو رہی تھی اس نے دروازہ کھول دیا تو کچھ حرکت محسوس ہوئی اور پہلا گاہک سنہری بالوں والا ایک بلا میاؤں میاؤں کرتا اندر داخل ہو گیا۔ ہلکی بھوری آنکھوں سے لے کر منہ تک پتلی کالی لکیریں اس کو چیتے کا ہم شکل بنا رہی تھیں۔ بلا اپنے ساتھ خوش بختی لے کر آیا۔ اگلے دن ہی دھوپ نکل آئی اور گاہک بھی آنا شروع ہو گئے۔ اس نے بیرونی دروازے کے نچلے حصے میں ایک چھوٹا سا سوراخ بنا دیا تاکہ بلا اندر آ جا سکے۔

کچھ دنوں بعد ساغر اندر داخل ہوا۔ سارا کیفے خالی تھا۔ وہ مضبوط جسم کا مالک ادھیڑ عمر خوبصورت آدمی تھا۔ آدھے سے زیادہ سر گنجا، آنکھوں سے ہوشیاری اور بے خوفی ٹپکتی تھی۔ پہلے پہلے تو وہ اسے کوئی دادا گیر سمجھی اور خوف زدہ ہو گئی۔ وہ آگے بڑھتا ہوا سیڑھیوں کے نیچے موجود سٹول پر بیٹھ گیا۔ کافی کا آرڈر دیا اور بغل سے کتاب نکال کر پڑھنے لگا۔ پھر وہ اس کا مستقل گاہک بن گیا۔ ہفتے میں ایک دو بار ضرور آتا۔ وہ دراز قد تھا لیکن ہمیشہ اس جگہ پر بیٹھتا جہاں سیدھا کھڑا ہونے پر سر سیڑھیوں کی ڈھلان سے ٹکرانے کا احتمال موجود رہتا تھا۔ زیادہ تر صرف کافی یا چائے ہی پیتا، کبھی کبھار ہلکا پھلکا کھانا بھی کھا لیتا۔ سارا وقت خاموشی سے اپنے ساتھ لائی ہوئی کتاب پڑھتا رہتا۔ پھر وہ اس کی اتنا عادی ہو گئی کہ جانے کے بعد بھی کافی دیر تک کیفے میں اس کی موجودگی کا احساس برقرار رہتا۔

وہ کاجل کی طرح کم گو تھا۔ خاموشی سے بیٹھا اپنی کتاب پڑھتا رہتا۔

کئی ماہ تک وہ ساغر کا نام بھی نہ جان سکی۔ اس دن ہلکی ہلکی برف باری ہو رہی تھی۔ ملازم لڑکے بھی نہیں آئے تھے۔ شام ڈھل چکی تھی۔ کیفے میں صرف تین گاہک تھے۔ ایک وہ اور دو مضبوط طاقتور پہلوان نما غنڈے۔ دونوں مسلسل سگریٹ نوشی کر رہے تھے۔ پھر ان دونوں میں تو تکار شروع ہو گئی۔ کاجل کچن سے نکل کر باہر آئی اور انہیں خاموش رہنے کی درخواست کی۔ وہ لڑنا شروع ہو گئے۔ میز الٹا کر تمام برتن زمین پر گرا دیے۔ ساغر جو خاموشی سے کتاب پڑھ رہا تھا اٹھ کر ان کے پاس آیا اور کہنے لگا

”تم زیادتی کر رہے ہو اور مجھے ڈسٹرب بھی۔“
سامنے کھڑے آدمی نے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔ ”او ہو! تو تم، اس کے!“
آدمی نے بات ادھوری چھوڑ دی۔

”میں ساغر ہوں۔ کافی پینے ادھر آ جاتا ہوں۔ اس پرسکون کیفے میں اک نشہ سا ہے جو کسی کو مدہوش کر دیتا ہے اور کسی کو پاگل۔“

ساغر اپنی آنکھیں اس کے ماتھے میں گاڑے کھڑا تھا۔ وہ دونوں مشتعل ہو کر گالی گلوچ پر اتر آئے۔
کاجل کے چہرے پر اضطراب کا پسینہ بہہ نکلا۔

ساغر نے اس کی طرف دیکھا پھر ان دونوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگا ”ہم اس پرسکون کیفے کے ماحول کو خراب نہ کریں۔ آؤ! باہر جا کر بات کرتے ہیں۔“

اس نے کتاب کا ؤنٹر پر رکھی اور باہر چلا گیا۔ وہ دونوں پیچھے چل پڑے اور ان کے پیچھے بلا بھی۔
کاجل تھوڑی دیر ادھر ہی کھڑی رہی پھر دروازے تک گئی۔

شیشے کے دروازے پر کہر بکھر کر اسے اندھا کر چکا تھا۔ شیشے کو صاف کر کے اس نے باہر دیکھنے کی کوشش کی۔ باہر سڑک پر پژمردہ ملول روشنی بکھری ہوئی تھی۔ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ باہر سے کوئی آواز بھی نہیں آ رہی تھی۔ وہ واپس آ کر کا ؤنٹر پر بیٹھ گئی۔

تھوڑی دیر بعد ساغر اندر آیا اس کے گیلے گنجے سر کے گرد بکھرے بالوں میں سفید برف چمکتی دکھائی دے رہی تھی۔ نیپکن لے کر سر صاف کیا اور اپنے سٹول پر جا کر بیٹھ گیا۔ کاؤنٹر سے کتاب اٹھائی اور پڑھنا شروع کر دیا۔

کاجل تھوڑی دیر اس کی طرف دیکھتی رہی پھر واپس دروازے کی طرف چل پڑی۔ دروازہ کھول کر باہر دیکھا۔ ویران سڑک پر دور دور کوئی حرکت نظر نہیں آ رہی تھی۔ ملگجی روشنی سے آلودہ اس سرد رات میں ہر چیز بے جان ہو چکی تھی۔ ماحول پر موت کی سی خاموشی طاری تھی۔ اس شام وہ کافی دیر بیٹھی رہی، کوئی گاہک نہ آیا اور بلا بھی۔

اور وہ دونوں پھر کبھی نظر نہ آئے۔

سردیاں ختم ہونے کو آ رہی تھیں۔ موسم خوشگوار ہو گیا۔ اب اکثر دھوپ برفانی چوٹیوں سے ٹکرا کر وادی کو روشن کر دیتی۔ سیزن کا آغاز ہوتے ہی سڑکوں پر رونق بڑھ گئی۔ شام کے وقت آکاش کی اپسرائیں دھرتی پر مٹلاتی نظر آتیں۔ شوخ و شنگ جوڑے ہنسی قہقہے لگاتے، خوشبو اڑاتے کیفے میں آتے۔ چائے کافی کی مانگ بڑھ گئی۔ ساغر آتا، رونق دیکھ کر جلد ہی غائب ہو جاتا اس سرمئی بادل کے آوارہ ٹکڑے کی طرح جو اونچے درختوں کی بیچ میں سے ہوتا ہوا چپکے سے نیچے آ کر گلعذرا حسیناؤں کے شہد بھرے سرخ ہونٹ چوم کر مدہوش ہو جاتا ہے اور پھر سڑک پر گرا پڑا نظر بھی نہیں آتا۔ اسے دیکھ کر کاجل کے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی۔

ایک دن صبح وہ کیفے کا دروازہ کھول کر صفائی کر رہی تھی۔ ابھی ملازم بھی نہیں آئے تھے۔ سڑکیں ویران تھیں۔ بلا اس کے ساتھ ساتھ گھوم رہا تھا۔ دیکھا تو اس کا خاوند دروازے میں کھڑا تھا۔ وہ کا ؤنٹر کے پیچھے بیٹھ گئی اور خاوند سامنے سٹول پر ۔

وہ نیلا سوٹ پہنے ہوا تھا۔ یہ لباس اس نے نیا لیا تھا۔ پہلے سے زیادہ سمارٹ اور ہشاش دکھائی دے رہا تھا۔ ادھر ادھر دیکھ کر کہنے لگا ”بہت خوبصورت جگہ ہے! آرام دہ، صاف اور سکون بخش و سکوں ریز۔ تمہارے ذوق کے عین مطابق۔“ کچھ دیر خاموشی چھائی رہی۔

”ادھر کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو تمہیں یہ چھوڑ کر جانا پڑے۔“ کاجل سوچ رہی تھی کہ وہ اب یہ کہنا چاہ رہا ہے۔

”تم کیا لینا پسند کرو گے؟“
”بلیک کافی۔ تم جانتی ہی ہو۔“

”ہاں، یہ تو میں جانتی ہی ہوں۔“ وہ کافی بنا کر لائی تو بلا چھلانگ لگا کر اس کی گود میں بیٹھ گیا۔ کاجل نے اس کو کانوں کے پیچھے سہلانا شروع کر دیا۔ وہ گھور کر اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔

”میں معذرت خواہ ہوں۔“
”کس بات پر ؟“
”تمہیں تکلیف ہوئی ہوگی۔“

”ہاں شاید؟“ کچھ دیر سوچنے کے بعد بولی۔ ”میں بھی انسان ہوں۔ مجھے تکلیف ہوئی تھی، تھوڑی یا زیادہ کچھ کہہ نہیں سکتی۔“

وہ سوچ رہی تھی، اسے اپنی بہن سے گلہ تھا کہ خاوند سے۔ زندگی کا سفر تو ابھی شروع ہی ہوا تھا۔ کالج جاب اور گھر، ہر جگہ سب کچھ اس کی دسترس میں تھا لیکن نصیب میں محرومیاں لکھی تھیں۔

اسے سوچ میں ڈوبا دیکھ کر بولا۔
”میں معافی کا خواستگار ہوں۔“
”تم شرمندہ ہو، یہی کافی ہے۔ مزید فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔“
” میں کچھ کہنا چاہتا ہوں لیکن الفاظ نہیں مل رہے۔“ وہ سر جھکائے کافی کے گھونٹ لیتے ہوئے بول رہا تھا۔
”مجھے الفاظ مل چکے ہیں۔ تم طلاق دے کر آزاد ہو جاؤ۔“
”بات یہاں تک نہیں پہنچنی چاہیے تھی۔“

”ہاں، غلطی میری تھی۔ مجھے ایک دن پہلے نہیں آنا چاہیے تھا۔ یا کم از کم تمہیں بتا کر آتی۔ اب پچھتانے سے کیا حاصل۔“

اس نے جواب دینے کی بجائے خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی۔
کاجل نے بات جاری رکھی ”تمہارے میری بہن سے تعلقات کب بنے؟“
”اس کا جواب دینا ضروری ہے؟“ وہ استفہامیہ لہجے میں بولا۔

اسے افسردہ دیکھ کر پھر کہنے لگا ”تم نے بڑی پر رونق جگہ پر ڈیرے ڈال لیے ہیں۔ یہاں تمہیں کوئی اچھا ساتھی مل جائے گا۔“

”ابھی تو میں نے سوچا بھی نہیں۔ لیکن تمہیں کیا ملا؟ وہی میرے جیسی میری بہن۔ تم نے کوئی رنگ رس بھری ضیافت نہ اڑائی۔ وہی باسی ایک رکابی طعام اور بس۔“

وہ طلاق دے کر چلا گیا۔
اس سے اگلے ہفتے ہی کاجل نے ایک گاہک سے مجامعت کی۔

اس کی عمر کم و بیش تیس سال ہوگی۔ اسے خوبصورت تو نہیں کہا جاسکتا تھا لیکن کاجل کو بھاتا تھا۔ کیفے میں کئی بار آ چکا تھا۔ ہمیشہ ایک بھدی سی موٹی عورت کے ساتھ جو بے اندازہ میک اپ تھوپے لجاتی بل کھاتی کنواری چال چلنے کی کوشش کرتی تھی۔ وہ بڑے ٹھسے سے میز پر بیٹھ کر حکم چلاتی۔ دونوں میں سخت الفاظ کا تبادلہ بھی جاری رہتا اور پیار محبت کی باتیں بھی۔ اکثر چھٹی سے پہلے والی رات آتے۔ نوجوان جوڑوں کو تاڑتے رہتے۔ ان کی باتیں اور حرکتیں جنسی انگیخت اور بھاؤ تاؤ کو واضح کرتی تھیں۔ کبھی بھی زیادہ دیر نہ ٹھہرتے۔ کاجل سوچتی تھی کہ ملاپ کی رات وہ اکساؤ کو بڑھاوا دینے باہر نکلتے ہیں۔

کاجل ان سے دور ہی رہتی۔ ملازم ہی انہیں خدمات مہیا کرتے۔ کبھی کبھار وہ خود اسے بلاتے۔ لیکن جب وہ مرد سے بات کرتی تو موٹی عورت تیوریاں چڑھا لیتی۔

اس رات وہ مرد اکیلا ہی کیفے آیا۔ باہر بارش ہو رہی تھی اور گاہک بھی کوئی نہیں تھا۔ کیفے بند ہی کرنے والی تھی کہ وہ آتا دکھائی دیا۔ دروازہ بند ہوتے دیکھا تو واپس چل پڑا۔ کاجل نے اسے آواز دی۔ وہ صرف ایک کپ کافی لینا چاہتا تھا۔ کافی بنا کر لائی تو کہنے لگا ”آج وہ قسی القلب مجھ سے ناراض ہو کر چلی گئی۔“ کاجل نے دیکھا اس کے چہرے پر نچنے کے نشانات تھے۔ ہاتھوں کی دریدہ پشت ساری کہانی بیان کر رہی تھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے پوچھ لیا ”یہ کیا ہوا؟“

”اس کی عادت ہے۔“ کہہ کر اس نے اپنی جیکٹ اتار دی۔ منہ دوسری طرف کیا اور قمیض بھی اوپر کر دی۔ ساری کمر پر نئے پرانے زخموں کے نشانات تھے۔ کچھ سے ابھی بھی خون رس رہا تھا۔ وہ حیران ہو کر بولی

”نشانات تو ایسے لگتے ہیں جیسے زنجیر زنی کی گئی ہے۔“

”ہاں، وہ جذباتی ہو کر ناخنوں سے میری کمر زخمی کر دیتی ہے اور پھر ہر بار اسی جگہ کو کھرچتی ہے۔ نیا زخم بن جائے تو اس پر شامت سوار ہو جاتی ہے۔“ پھر وہ سیدھا ہوا تو سامنے سینے پر بھی نشانات موجود تھے۔ آگے بڑھ کر ان کو سہلانے لگی تو اس نے کاجل کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔ ہاتھ کی گرمی ایسی تھی کہ اگلے ہی لمحے وہ اس کی گود میں تھی۔

پھر وہ اوپر والے کمرے میں آ گئے۔ بیڈ تک پہنچنا بھی محال دکھائی دے رہا تھا۔ پیار نہ مساس، اس نے کاجل کو اٹھا کر بیڈ پر پھینک دیا۔ باہر بارش زور و شور سے برس رہی تھی اور اندر بھوگ بلاس کی سمٹی ہوئی سسکیوں کی پھنکار تھی۔ وہ سدھ بدھ کھو چکی تھی لیکن بے ہوشی میں بھی ہاتھوں کی جلتی پوریں زخموں کو سہلا رہی تھیں۔ ہوش تب آیا جب اس نے کاجل کو نیچے سے نکال کر اپنے اوپر بٹھا لیا۔ اس کے بعد وہ ٹھنڈی پڑ گئی۔

وہ کب گیا؟ اسے کچھ خبر نہیں۔ وہ دونوں ہاتھوں سے اپنی چھاتیاں تھامے بیڈ کے کنارے پر بیٹھی تھی اور اس کے کان دھپ دھپ کی گونج سے بہرے ہو گئے تھے۔

کچھ دنوں کے بعد وہ آیا تو موٹی بھدی عورت اس کے ساتھ تھی۔ تھوڑی دیر بیٹھے اور واپس چل دیے۔ پھر ان کا پرانا معمول بحال ہو گیا۔ کاجل کی کوشش ہوتی کہ ان کی موجودگی میں کچن کے اندر ہی رہے۔ وہ آدمی اگر کبھی اس سے بات کرتا تو اسی لہجے میں جیسے اس رات کچھ ہوا ہی نہیں۔

پھر بلا بھی غائب ہو گیا۔ گرچہ ابھی تک اس نے بلے کو کوئی نام نہیں دیا تھا لیکن وہ اس کی عادی ہو چکی تھی۔ یہ اس کی خوش گمانی تھی یا وشواس کہ بلا اس کے لیے خوش بختی لے کر آیا تھا۔ ایک دو دن پہلے اسے ایک بلی شور مچاتی دکھائی دی تھی۔ اسے پتا تھا اب وہ ہفتہ دس دن واپس نہیں آئے گا لیکن جب بلے کو غائب ہوئے تین ہفتے ہو گئے تو فکر مند ہوئی۔

(ہاروکی موراکمی کے افسانے کینو سے ماخوذ)

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جانے دیتا ہوں جہاں
  • فصیل دل میں در کیا کہ رابطہ بنا رہے
  • ”انا“اورقربانی
  • کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
میں سو رہا تھا خواب کی زنجیر کھینچ کر
پچھلی پوسٹ
روس کا یوکرین پر حملہ!

متعلقہ پوسٹس

عشق لگتا ہے مجھکو گوہر سا

اکتوبر 15, 2025

تو کرے جو محبت وہ محبت دغا کرے

مارچ 29, 2020

اے وطن تو ہمیشہ سلامت رہے

اگست 15, 2020

اور کتنے جلیان والا باغ

مئی 2, 2020

دشت و جنوں کا سلسلہ میرے لہو میں آ گیا

مئی 23, 2020

رضائی اماں

اگست 5, 2025

نام ہنسنے کا ہی خوشی ہے کیا ؟

جنوری 28, 2020

گھریلو تشدد کا قانون

جنوری 26, 2026

دکھ درد چھپائے رقص کیا

ستمبر 19, 2020

خدا کی قسم

فروری 1, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کہیں زمیں تو کہیں آسماں پسند...

فروری 4, 2020

قیامت سے قیامت سے گزارے جا...

مئی 23, 2020

کس سَمت چل پڑی ہے خدائی...

فروری 13, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں