خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرقوال پارٹی
اردو تحاریراردو کالمز

قوال پارٹی

اردو کالم از روبینہ فیصل

از سائیٹ ایڈمن نومبر 27, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 27, 2019 0 تبصرے 457 مناظر
458

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک پسماندہ سے گاؤں میں ایک تھی قوال پارٹی،جس میں ایک بڑا قوال(جو اصل میں دو تھے مگر بڑے افہام و تفہیم کے ساتھ ایک دوسرے کی جگہ لے لیا کرتے تھے) اور ان کے ساتھ سازندے،سنگتی،بھانڈ اور مختلف سازہوا کرتے تھے۔اس پارٹی میں ایک بڑا خوش شکل سازندہ یا سنگتی یا ڈوم ایسا بھی تھا جو بڑے قوال کے پیچھے باقی سب سنگتیوں کی طرح تالیاں بجایا کرتا تھا لیکن ایکدن اُسے سوچنے کا مر ض لاحق ہو گیا۔ اِن قوالوں کے پیچھے تالیاں بجانے والوں میں سوچنے کی بیماری کے جراثیم تک ناپید تھے، اس لئے اس سنگتی کے دماغ میں جب سوچیں آنے لگیں تو اسے خود سے خوف محسوس ہونے لگا۔وہ جب قوالی کر کے باہر نکلتا تو اس کے چہرے سے ٹپکتی فکریں راہ چلتے لوگوں کو رکنے اور اس سے پوچھنے پر مجبور کر تیں کہ کیا تم سنگتی سے قوال بننے کا سوچ رہے ہو؟ یاکیا تم تالی بجانے سے مستعفی ہو کر قوالی کرنے کا سوچ رہے ہو اوروہ گڑبڑا جاتا اور اپنے چہرے پر پھیلی سوچ کی لکیروں کو حتی المکان چھپاتے ہو ئے کہتا: نہیں نہیں میں تو ایسا کبھی سوچ بھی نہیں سکتا۔ میرا کام تالی بجانا ہے۔ میری تالی سے ہی تماشبین اتنے خوش ہو جاتے ہیں کہ اس سے زیادہ میں انہیں کیا خوش کرسکتا ہوں؟ پھر لمبے توقف کے بعد ٹھنڈی سانس بھر کے کہتا، ہاں اگر مجھے لگا کہ میری تالی میں اتنا دم نہیں رہا اور لوگوں کو خوش کرنے کو مجھے قوالی ہی کر نی چاہیئے تو پھر اس بارے کچھ سوچا جا سکتا ہے مگر فی الحال تو نہیں۔ پوچھنے والے اس کے معصوم اور سیدھے انداز سے متاثر ہو ئے بغیر نہ رہتے اور اس کی خلوص دلی کو دعائیں دیتے گذر جاتے۔ دیہاتی چاہتے تھے کہ وہ قوال کی جگہ لینے کے جواب میں کبھی” ہاں ” کہہ دے کیونکہ وہ ایک ہی طرح کی قوالیوں سے اب تنگ آتے جا رہے تھے۔ مگر وہ سنگتی بس سر کو جھٹک کر، ہلکا سا مسکرا کر آگے بڑھ جا یا کرتا تھا۔۔ وہ سنگتی بڑا کم گو اور شرمیلا بھی تھا۔
دنیا کے گلوبل ولیج بنتے ہی اس پس ماندہ دیہات کے دیہاتی بھی اتنے دیہاتی نہ رہے تھے۔آہستہ آہستہ موسیقی کے بارے میں ان کا شعور بڑھنے لگا تھا۔ قوالی میں بھی جدت کے سو طریقے انہیں پتہ چلنے لگے تھے۔ پرانے سازوں کی پھٹی پھٹی آوازیں اب ان کی سماعتوں پر ناگوار گزرنے لگی تھیں۔وہ جب بھی قوالی سنتے سنتے بور ہو اٹھتے اور نعرہء بوریت بلند کرتے تو گھاک قوال اپنے سازندوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر قوالی وہیں سے شروع کر دیا کرتے جہاں سے سلسلہ منقطع ہوا ہو تا۔۔۔ سامعین کی بے قراری کو پھر بھی قرار نہ آتا تو کبھی ڈھول والے کو آگے کر دیتے اور طبلے والے کو پیچھے یااپنے ہا رمونیم کی ہلکی سی ٹھوکا پیٹی کرتے یا تالیاں بجانے والوں کی جگہیں تبدیل کر دیتے۔ بات زیادہ حد سے بڑھ جاتی یا سامعین میں سے کوئی زیادہ منچلا اور ضدی آ بیٹھتا اور قوال سے مطئمن ہونے کا نام نہ لیتا تو قوال پارٹی کے آرگنائزرز ایک قوال کی جگہ دوسرے قوال کو بلا لیا کرتے تھے۔ دوسرے قوال کے آنے سے سامعین کی سماعتوں اور بصارتوں کو پل بھر کو سکون مل جاتا حالانکہ دونوں قوالوں (جو باریاں لیا کرتے تھے)کے پاس گانے کوایک ہی طرح کی قوالیاں تھیں،ایک ہی طرح کی موسیقی کیونکہ اس کا فائدہ یہ تھا کہ نہ ان کو،نہ سنگتیوں کو تالیاں بجانے کے لئے اور نہ سازندوں کو ساز ملانے کے لئے زیادہ محنت کرنا پڑتی تھی۔۔۔مگر اس سب کے باوجود بدلا ہوا حلیہ، تھوڑی سی بدلی ہو ئی شکل، کم از ایک کا رنگ گورا اور ایک کا کالا تھا، ایک کی مونچھیں اور ایک کلین شیو تھا۔دیہاتی وقتی طور پر بہل ہی جایا کرتے تھے۔۔
تمام دیہاتی یہ جانتے ہو ئے بھی کہ یہ قوال، ان سب کوبے وقوف بنارہے ہیں، ایک ہی قوالی کو آگے پیچھے کر کے اورایک ہی جیسی قوالی گانے والوں کو آگے پیچھے کر کے ان کے کانوں کے پردے پھاڑ ے جا رہے ہیں، وہ بظاہر تو بیزار نظر آتے تھے مگر حقیقت میں وہ اس قوالی کے نشے میں مبتلا ہو چکے تھے۔ جس کا ادراک خود انہیں بھی نہیں تھا۔ وہ تبدیلی چاہتے تو تھے مگر کیا وہ تبدیلی کو برداشت کر لیں گے؟ ا سکا انہوں نے نہیں سوچا تھا۔۔۔۔۔۔۔اور نہ انہیں تبدیلی کا کوئی تجربہ تھا۔۔۔ ستر سالوں سے ایک ہی طرح کی موسیقی کی عادت میں مبتلا ہو چکے تھے۔ مگر دیکھنے میں ان کی حالت ابتر ہی لگتی تھی۔
اور ان سامعین کی حالت ِ زارکو دیکھتے اور ان کا پیسہ ضائع ہو تے دیکھ کر ان دو قوالوں کے پیچھے بیٹھ کر سکون سے تالیاں بجانے والے اس شرمیلے سنگتی کو بہت فکر ہو نے لگی جو اس کے چہرے سے بھی عیاں ہو نے لگی تھی۔ وہ چاہتا تھا جو لوگ اتنا پیسہ خرچ کر کے ان کی قوالی سننے آتے ہیں وہ بہت خوش نہ سہی مگر کچھ سکون تو لیتے جائیں مگر اب ایسا ناممکن تھا۔
اس شرمیلے کو بیس سال پہلے قوال پارٹی کے چئیرمین نے آفر کی تھی کہ وہ اسے قوال بننے کی تربیت دلا سکتے ہیں لیکن اس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھاکہ انہی سازوں اور انہی سازندوں کے ساتھ میں انہی قوالوں کی طرح کی ہی قوالی کروں گا، نیا پن نہیں لا سکوں گا لہذا مجھے معاف ہی رکھا جائے۔ دیہاتیوں کے پاس اس قوالی کے علاوہ تفریخ کا کوئی اور ذریعہ نہیں تھا اوران کی یہی مجبوری قوالوں کے گھر دولت کے انبار لگانے لگی۔۔وہ دو قوال اور ان کے گھرانے پرانے راگ الاپتے الاپتے کروڑ پتی بن گئے، ان کے بچے شہروں میں جا کر اعلی تعلیم حاصل کر نے اور بزنس مین بننے لگے۔دیہاتیوں کا ذوق اور شوق ِ موسیقی دن بدن نیچے گرنے لگا اس کے برعکس قوالوں کے بچے شہروں میں جا کر پاپ میوزک،ریپ اور نجانے موسیقی کی کن کن جدیدقسموں اور کن کن آلات سے واقف اور لطف اندوز ہو نے لگے۔
یہ سب دیکھتے ہو ئے رفتہ رفتہ اس کم گو سنگتی کو دیہاتیوں کے غریب بچو ں پر رحم اور قوالوں کے نواب بچوں پر غصہ آنے لگا۔۔ اور اس غصے کی ابتدا یہاں سے ہوئی جب اس نے سامعین میں ” تبدیلی تبدیلی “کی آوازیں سنیں۔۔اس نے سوچا اب خالی تالی بجا نے سے کام نہیں چلے گا مجھے ان قوالوں کی چھٹی کر دینی چاہیئے اور ان کی جگہ خود سنبھال لینی چاہیئے اب تک تو میں ایسی قوالی سیکھ ہی چکا ہوں جیسی یہ کرتے ہیں کم از کم میری آواز،سُر اور ساز تو نئے ہو نگے۔۔یہ سوچتے ہی اس کے جسم میں جوش سا بھر گیا۔۔”سب تبدیلی چاہتے ہیں تو کیوں نہیں۔۔” (یہ بھی ایک بھول ہی تھی شائد، وہ 5% کو سو فی صد سمجھا تھا۔۔ آخر کو تھا تو صرف تالی بجانے والا ہی)۔
“میں اتنی اچھی تالی بجاتا ہوں توقوالی بھی اچھی ہی کروں گا۔۔” بس یہ سوچتے ہی اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ لوگوں سے اس معاملے کے لئے بات چیت شروع کر دی۔۔ یہ دیکھ کر اسے حیرت ہو ئی کہ اسے چند دنوں میں ہی سینکڑوں ہمنوا مل گئے۔۔اس نے سوچا ان لوگوں کی مدد سے وہ ایک ایسی تحریک چلا ئے گا کہ ان قوالوں کو یہاں سے کوچ کرنا ہی پڑے گا اور وہ پھر سب خود ہی سنبھال لے گا۔۔ اسے یہ کام بہت آسان لگا۔ ایسے ہی اتنے سال اس نے لوگوں کو اس اذیت سے دوچار ہو نے دیا اور ان کا پیسہ الگ برباد ہوا۔اسے لگا قوال پارٹی کے آرگنائزر بھی اس کا ساتھ دیں گے اور ان سب عوامل کا سوچ کر اس نے موسم گرما کی ایک ٹھنڈی شام کو، جب قوالی اپنے مخصوص انداز میں جاری و ساری تھی کھڑے ہو کر اپنے قوال بننے کا اعلان کر دیا۔جو لوگ اس کے بیس سال پہلے قوال بننے والے انکار کو اور اس کی وجہ کو جانتے تھے، سوچنے پر مجبور ہو ئے کہ شائد اب اس نے نئی تربیت،نئے ساز اور نئے سازندے لے لئے ہونگے جب ہی تو میدان میں اتر آیا ہے اور قوالی کی پوری تربیت بھی لے ہی لی ہو گی۔
قوالی کی تربیت کا تو نہیں معلوم مگر شرمیلے اور کم گو سنگتی کا اب یہ عالم تھا کہ وہ جگت بازی میں پرانے قوالوں کو کہیں پیچھے چھوڑ چکا تھا۔۔۔ لوگ اس کے چٹکلوں پر ہنس ہنس کر لوٹ پو ٹ ہو نے لگے اور اسے تو جیسے لوگوں کو ہنسنانے میں مزہ آنے لگا۔ لوگوں کی نفسیات اسے سمجھ آچکی تھی۔۔ اپنی کم گو ئی اور موسیقی کی تعلیم و تربیت کی ضرورت کو اس نے سائیڈ پر رکھا اور لوگوں کے مزاج کے حساب سے جگتیں مارنے لگا۔ پرانے اور تجربہ کار قوال سناٹے میں رہ گئے یہ کل کا تالیاں بجا کر قوم کو خوش کرنے والا یہ ہم سے زیادہ لوگوں میں مقبول ہو نے لگا ہے۔ قوال پارٹی کے آرگنائزز تو پہلے بھی ایک دفعہ اسے بڑا قوال بننے کی آفر کر چکے تھے، اس کی مقبولیت دیکھ کر وہ اپنی آفر لے کر پھر سے اس کے دروازے پر آپہنچے۔ وہ اب بھاؤ تاؤ کی تکنیک سیکھ چکا تھا۔اور سمجھ رہا تھا کہ جیسے وہ چاہتا تھا اب بالکل ویسے ہی ہو گا۔ کوئی ساز یا سازندہ اس کی مرضی کے بغیر اس پارٹی میں نہیں رکھا جائے گا۔۔ قوال پارٹی کے آرگنائزرز نے کہا ایسا ہی ہو گا۔ اس خواب کو جو اس نئے نویلے دلہے کی آّنکھوں میں جاگے اس نے تصدیق یا تعبیر دیکھے بغیر سننے والوں کو دکھانے شروع کر دئیے۔۔ تبدیلی کے خواہش مند خوش ہو گئے۔۔ اور اسے اعلی تحت پر بٹھا دیا گیا۔۔ وہ دلوں پر راج کرنے لگا۔
اور پھر ایکدن اس پس ماندہ دیہات میں وہ قوالی شروع ہو ئی جس کا وہ مین قوال تھا۔ اس کی آنکھیں مسرت سے چمک رہی تھیں۔ پرانے قوالوں کی جگہ اسے دیکھ کر لوگ بھی خوشی سے جھوم اٹھے، کچھ آئیڈلسٹ منچلوں نے تو اٹھ کر ڈھول کی تھاپ پر دھمال بھی ڈالنی شروع کر دی۔ اور جیسے ہی جوش سے لبریز اس نے قوالی کی پہلی تان اٹھائی اور جب سازندوں نے ساتھ دینا شروع کیا تو۔۔یہ کیا۔۔وہی ساز وہی آواز۔۔نئے نویلے (پرانے شرمیلے) نے مڑ کر سازندوں کو دیکھا۔۔ اور اس کا دل دھک سے رہ گیا اس کے لائے ہو ئے نئے سازندے سب لائن بنائے ہاتھ باندھے کہیں دور پیچھے کھڑے تھے او ر وہی پرانے ساز پھر سے انہی پرانے سازندوں کے ہاتھوں میں تھے۔اس نے ب
ے بسی سے تڑپ کر قوال پارٹی کے آرگنائزرز کو دیکھا انہوں نے لاپرواہی سے کندھے اچکا دئیے۔
اب وہ کیا کرے اب تو وہ قوالی شروع کر چکا تھا۔۔سامعین میں بے قراری اور انتشار پھیلنے لگا۔۔ جو سامعین پرانے قوالوں کے سخت عادی ہو چکے تھے اور اس نئے چہرے سے پہلے ہی متنفر تھے، بڑھ بڑھ کر نعرے لگانے لگے۔۔ اس پر پھبتیاں کسنے اور جگتیں مارنے لگے اور کچھ تو گالیاں بھی دینے لگے۔
نئے نویلے کو سمجھ لگ گئی کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے بیس سال پہلے والی آفر نہ ماننے کی سزا یوں ہی ملنا تھی؟
مگر وہ ہمت ہارنے والوں میں سے نہیں تھا، کیونکہ ہمت ہارتا تو عمر بھر کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتا۔۔اس سے نئے راگ الاپ کی امید رکھنے والے ابھی بھی صبر سے بیٹھے اس کی وہ تانیں سن رہے تھے اور واہ واہ کر رہے تھے (کہ اس کا حوصلہ نہ ٹوٹے) اور وہ گلے سے اونچی اونچی آوازیں محض اس خوف سے نکال رہا تھا کہ پرانے سازوں کی آواز میں شائد یہی “نیا پن “ہے جو دینا اس کے اپنے اختیار میں ہے۔۔۔ سننے والوں کو لگ رہا تھا کہ اس کوشش میں اس کا حلق منہ کوآجائے گا۔۔۔
تالی بجاتے بجاتے وہ قوال تو بن گیا مگر لوگوں کو کوئی نیا گیت نہ سنا سکا کہ وہ نہیں جانتا تھا کہ ستر سال پرانی اس قوال پارٹی میں نہ ساز بدلتے ہیں اور نہ سازندے۔اور کیا پتہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھی بالکل ویسا ہی قوال بن جائے جیسے اس سے پہلے ہو ا کرتے تھے اور لوگوں کو اپنا عادی بنا چکے تھے۔۔پرانے سازوں اورسازندوں کے ساتھ کوئی قوال نیا پن کیسے لا سکتا ہے؟اور سب سے بڑھ کر اپنی حالت ِ زار کے باوجود پرانے راگوں کے سننے والے نشئی اپنا نشہ ٹوٹنے دیں گے؟ کیا وہ سچ میں اس پرانے نشے سے چھٹکارا بھی پانا چاہتے ہیں یا نہیں؟

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کیا پاکستان میں تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں؟
  • رئیس امروہوی | رئیس شہر سخن
  • خامہ بگوش کے قلم سے
  • سلطان ٹیپو
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ناراض جیالوں کا مقدمہ
پچھلی پوسٹ
دل خدا جانے کس کے پاس رہا

متعلقہ پوسٹس

ڈاکٹر مجاہد بخاری

اپریل 19, 2024

جمعِ قرآن پر اعتراضات کا جائزہ

جنوری 9, 2022

افغان باقی کہسار باقی

نومبر 29, 2025

ہم کمزور نہیں ہیں !

جون 27, 2022

کمار سانو

فروری 2, 2020

ترجیحات

مئی 8, 2020

زندگی کا ساتھی

اپریل 1, 2023

تلاش حق، ماں کی خدمت اور فرمان رسولﷺ

مئی 24, 2026

ایک بے بس کشمیری

مارچ 28, 2022

ابو الکلام آزاد اور اُردو ادب میں اُن کی خدمات

اکتوبر 4, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اور شیر آ گیا

جون 10, 2020

سعادت مند ترین انسان کون ہے؟

دسمبر 16, 2025

فطرت کے توازن میں ایک مکمل...

مئی 13, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں