خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرناراض جیالوں کا مقدمہ
اردو تحاریراردو کالمزعلی عبد اللہ ہاشمی

ناراض جیالوں کا مقدمہ

ایک کالم از علی عبد اللہ ہاشمی

از سائیٹ ایڈمن نومبر 27, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 27, 2019 0 تبصرے 392 مناظر
393

ناراض جیالوں کا مقدمہ

پیپلزپارٹی کے (پکے معدے والے) ناراض کارکنان سے بندہ پوچھے کہ جب وہ برسرِعام پارٹی پر تنقید کرتے ہیں اور کئی ایک تو لاتعلقی کا اعلان کرتے ہچکچاتے بھی نہیں تو پھر ووٹ کس چکر میں پیپلزپارٹی کو ڈالتے ہیں؟ تو انکی اکثریت بھٹو صاحب یا شہید رانی کی بابت اپنی کمٹمنٹ کا بہانہ کرتی ہے۔ ذرا سا ذور ڈالیں تو انکو آصف علی زرداری پر غصہ نکل آتا ہے کہ "زرداری نے پارٹی کو تباہ کر دیا” ہے۔ بس یہی وہ جگہ ہے جہاں سُننے والے اپنی طرف سے کہا ان کہا سب سمجھ جاتے ہیں اور ناراض کارکن سے "کیسے؟” یعنی کیسے زرداری نے پارٹی کو تباہ کیا ہے؟ پوچھے بنا ہی فتویٰ صادر فرما دیتے ہیں کہ پیپلز پارٹی ختم ہو گئی ہے۔

کل رات ایسے ہی ایک ناراض جیالے سے شرفِ ملاقات ہوا اور میں نے اپنے آپ کو سیانا سمجھنے کی بجائے ناراض دوست ہی سے پوچھ لیا کہ”آصف زرداری نے کیسے پارٹی کو تباہ کیا؟” خلافِ توقع جواب سے گفتگو کا جو سلسلہ نکلا وہی آج کی تحریر کی اساس ہے۔

ملک صاحب (ناراض جیالا) بولے، "آصف زرداری نے پیپلز پارٹی سے اُسکی روح، مزاحمتی_سیاست نکال کر پارٹی کو بے رُوح کر دیا ہے” جواب کا لُطف لیکر میں کہا، "اگر آپ آصف زرداری جیسے کاروباری شخص سے بی بی شہید یا پھر بھُٹو جیسی لیڈرشپ یا وژن کی توقع رکھتے ہیں تو قصور تو کس کا ہے؟ میرا آصف زرداری کو بے نظریہ کاروباری شخص کہنا تھا کہ ملک صاحب کی آنکھوں نے مجھے کسی نوزائیدہ جیالے کیطرح دیکھا مگر میری مونچھوں میں سفید بالوں کا احترام کرتے ہوئے بولے، "آپ آصف زرداری کو بالکل بھی نہیں جانتے۔ 1990/91 میں جب بطور MNA زرداری صاحب پہلی مرتبہ پروڈکشن آرڈر پر جیل سے باہر آئے تو ہم لاہور یوتھ کے لڑکے ان سے اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں ملے۔ دعا سلام کے بعد جب ہم نے انہیں بی بی صاحبہ کی کرسی پر بیٹھنے کی درخواست کی تو انہوں نے ہاتھ باندھ کر اس سے معذرت کی اور بغلی کرسی جو غالباً ناہید خان کیلئے تھی پر براجمان ہو گئے۔ انہوں نے ساڑھے چار گھنٹے کی طویل ملاقات میں نظریہ، تنظیم اور تنظیم سازی پر ہمیں ایک طویل لیکچر دیا۔” میں نے پوچھا کونسا نظریہ؟ تو جھٹ سے بولے "سوشلزم.. بالخصوص تنظیم سازی پر زرداری صاحب نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے لگا کر ہمیں سمجھایا کہ ملک کے کس کس خطے میں کن کن امور پر کام کر کے مضبوط ترین تنظیم سازی کی جا سکتی ہے۔۔”

میں حیران ہوا تو ملک صاحب مسکرائے مگر یہ مسکراہٹ انکے ماتھے پر اُبھرنے والی لکیروں میں ہی گُم ہو گئی اور متفکر چہرے کیساتھ بولے، "بی بی صاحبہ کی شہادت کے بعد آصف زرداری کی مفاحمتی پالیسی نے پارٹی سے اسکی مزاحمتی روح چھین لی۔” میں نے لقمہ دیا کہ میرے نزدیک تو بی بی صاحبہ کی زندگی میں ہم لوگ انکے عورت ہونے کیوجہ سے بار بار بند گلی میں جا کھڑے ہوتے تھے جو زرداری کیساتھ نہیں ہوا۔ (سلمان تاثیر کے قتل سے لیکر میمو گیٹ تک اور وہاں سے لیکر اتحادیوں کی مسلسل بلیک میلنگ تک آصف زرداری نے پارٹی کو بند گلی میں کھڑا نہیں ہونے دیا بلکہ انتہائی زیرک طریقے سے معاملات کو آگے بڑھایا)۔ تو ملک صاحب بولے "یہ وہ آصف علی زرداری نہیں ہے جسے ہم ایک زمانے میں جانتے تھے, ان دنوں پارٹی لیڈرشپ میں بھی یہ مشہور تھا کہ زرداری صاحب "اُونٹ صفت” ہیں، کبھی اپنے دشمن کو نہیں بھولتے، کبھی معاف نہیں کرتے۔ جب زرداری صاحب 1993 کے عبوری سیٹ اپ میں وفاقی وزیر ماحولیات بنے تو کراچی یا نوابشاہ کی بجائے سیدھے لاہور آئے۔ پیپلز یوتھ کے لڑکوں نے لاہور ائرپورٹ ہینگرز تک جانا چاہا تو ائرپورٹ سیکیورٹی فورس سے ہماری لڑائی ہو گئی۔ لڑائی اتنی بڑھی کہ جہاز کی سیڑھیوں تک چلی گئی۔ اعتزاز احسن اور زرداری صاحب نیچے اترے تو بجائے یہ کہ وہ چلے جاتے، دونوں عین لڑائی کے درمیان آن دھمکے، میری اسوقت ایک افسر کیساتھ اونچی آواز میں تکرار جاری تھی کہ اعتزاز احسن ہم دونوں کے بیچ میں آ گئے۔۔ دونوں ہاتھوں سے میرا چہرہ اپنی طرف کیا اور بولے، "بس کر دے پُتر، پِچھے مالک آگیا اے” اُسی وقت زرداری صاحب نے پیچھے سے میرا داہنا کندھا دبا دیا اور ہم سب کچھ بھول گئے۔۔” ملک صاحب کا اتنا کہنا تھا کہ میری آنکھیں سُکڑ کر اُبھریں۔ دل و دماغ میں جھماکا ہوا اور میں نے کہا، ملک صاحب، آپکا مسئلہ تو نِجی ہے، آپکا مسئلہ (کندھا دباتے ہوئے) تو لمس کا ہے، آپکی لڑائی تو اونرشپ کی ہے” تو وہ بیساخستہ بولے کہ "بالکل، مجھے وہی آصف زرداری واپس چاہیے جسے میں جانتا ہوں، مجھے میری اونرشِپ واپس چاہیئے، انہوں نے قیادت کے آگے فلٹر لگا دیئے ہیں جنہیں میں تسلیم نہیں کر سکتا۔ میں بی بی صاحبہ سے پہلی بار لاہور کے کُوفے(ریواز گارڈن) میں ملا۔ کُوفہ اسلیئے کہ یہ نواز شریف کا اپنا حلقہ تھا اور اسکے ہر گھر میں نواز شریف نے سرکاری نوکریاں دروازے پر دستک دیکر بانٹی تھیں۔ میں میرے گھر میں واحد پِپلیا تھا اور بوجہ رشتہ داری کلثوم نواز میاں صاحب جب بھی حلقے میں آتے ہمارے گھر ضرور آتے اور اُس گھر میں آتے جسکی چھت پر پی پی کا جھنڈا بزورِ بازو لگا ہوا تھا۔ صبح 1990 کا الیکشن تھا، کوئی فجر کے پاس ہمارے الیکشن بوتھ کے پاس پجارو آکر رُکی، شیشہ اترا تو جہانگیر بدر کو دیکھ کر میں پرچیاں لکھنا چھوڑ گاڑی کیطرف لپکا۔ پاس آنے پر مجھے بی بی صاحبہ نظر آئیں جنہوں نے مجھ سے میرا نام، تعلیم اور اس وقت تک ہال پر ہونے کیوجہ دریافت کی۔ جاتے ہوئے انہوں نے مجھے جلدی سوجانے اور اگلے دن الیکشن کیلئے نیک تمنائیں دیں اور پجارو ساندھے کیجانب چلی گئی۔ اسکے بعد بی بی صاحبہ سے جب جب سامنا ہوا انہوں نے مجھے میرے نام سے پکارا، میری تعلیم کا پوچھا اور کئی دفعہ تعلیم مکمل ہونے سے پہلے سیاست کرنے پر کان کھینچے۔ مجھے آجتک یاد ہے کہ بی بی صاحبہ اپوزیشن لیڈر تھیں تو کامونکی کے ایک یوتھ کوٹے پر ایم این اے بنے لیڈر کے گھر پر میں باہر لان میں سگریٹ سلگا کر بیٹھا تھا کہ بی بی صاحبہ اکیلی باہر نکل آئیں، میں نے فوراً سگریٹ پھینکا، سلام کر کے نکلنے لگا تو انہوں نے منع کر دیا اور بولیں۔۔

"No, No, come on, walk with me”

اس دن انہوں نے مجھ سے میرے گھر بار، تعلیم، خاندان کی سیاسی استواری حتہ کہ یہ بھی پوچھا کہ میں پیپلزپارٹی میں کیسے ہوں؟ تو میں نے ان سے کہا

"I am in PPP by choice”

جس پر بی بی صاحبہ بہت خوش ہوئیں۔
ملک صاحب بظاہر تو واقعہ سنا رہے تھے مگر وہ شائد خود بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ بدنی طور پر اس میں سے دوبارہ گُزر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بی بی کیساتھ چلتے ہوئے انکے رونگٹے کھڑے ہو گئے جبکہ میں دیکھ رہا تھا کہ عین اُس وقت جب واقع سناتے انھوں نے کہا کہ "دروازہ کھُلا اور بی بی صاحبہ اکیلی باہر نکل آئیں” اُس وقت اُنکی آنکھوں سے میں نے سٹپٹا کر اُنہی کو کھڑے ہوتے دیکھا۔ باقی سارے واقعے میں انکے رونگٹے آج تیس برس بعد بھی کھڑے رہے۔۔

ایک زمانے میں میرے ابا جی کہا کرتے تھے کہ "پیپلز پارٹی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک مذہب ہے” اور میں نے اپنے بڑوں (جیالوں) کو بھٹو خاندان کی پُوجا کرتے دیکھا ہے۔ سچے پُچاری کیلئے اسکی شردھا اُسکی مُورتی سے جُڑی ہوتی ہے۔ اگر اُس مُورتی کو ہٹا دیں تو پجاری کا من مائل ہونے میں سمے

لگتا ہے لیکن اگر ہم اسکی مورتی تو زبردستی اس سے چھین لیں تو پہلے تو وہ اسے ڈھونڈے گا اور ناں ملی تو دوبارہ اس مندر میں پیر نہیں رکھے گا اور یہی پیپلزپارٹی کے ناراض کارکنان کیساتھ ہوا ہے۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مزاحمتی سیاست اور آصف زرداری جدا نہیں رہ سکتے لیکن اگر کوئی اسکی

قیادت، اسکی اونرشپ یا انکے لمس کے درمیان حائل ہوگا تو بھلے وہ اپنی فطرت پر پارٹی کو ووٹ دیتا رہے مگر کہلائے گا ناراض جیالا۔۔
ناراض جیالے ملک احمد اعوان  کو آصف زرداری کو مزاحمتی سیاست کرتے ہوئے دیکھنے کی جتنی خواہش ہے اس سے کہیں زیادہ وہ اسکے ہاتھوں کے لمس کو اپنے

کاندھے پر محسوس کرنا چاہتا ہے اور پجاریوں کی جات میں یہ ایک لاعلاج مرض ہے۔ وہ حسن محمود چودھری  جو چھ وقت کا نمازی اور کٹر محمدی ہے اپنے سے آدھی عمر کے  کے سامنے یونہی سر جھُکا کر کھڑا نہیں ہوتا۔۔ یہ بھی اسکی عبادت ہے۔ آج پارٹی قیادت اگر ناراض

کارکنان کی بابت فکرمند ہے تو اسے انکا بلاول، انکا آصف زرداری واپس کرنا پڑے گا نہیں یقین آتا تو ناراض پجاری کے سامنے اسکی مورتی رکھ کر ٹیسٹ کر لیں۔۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خسارے کی اجازت
  • حسن کی تخلیق
  • نظام مملکت، موکلین اور جھاڑ پھونک
  • فیض صاحب کے دو اشعار (آنجناب کی فرمائش پر )
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
جگر مراد آبادی
پچھلی پوسٹ
قوال پارٹی

متعلقہ پوسٹس

راشد الخیری : حیات اور کارنامے

مئی 19, 2024

آلنا

فروری 5, 2022

تبدیلی کہاں پہنچی!

جولائی 2, 2021

سفر نامہ بھارت – چوتھی قسط

نومبر 2, 2019

حکمرانی صرف اکثریت پر موقوف نہیں ہوتی!!!

اپریل 4, 2026

محبت اور ماضی و حال

جولائی 26, 2020

اُڑان

جنوری 24, 2020

روشنی کی سفارت ”آبجوئے نور”

مارچ 23, 2025

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

اور بنسری بجتی رہی

جون 14, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ذرا اعتبار کر لے

نومبر 30, 2019

احترام کا رشتہ

اپریل 1, 2023

ایک تھا بجو کا

نومبر 27, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں