خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباہِلے ہوئے لوگ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعلی عبد اللہ ہاشمی

ہِلے ہوئے لوگ

ایک اردو کالم از علی عبد اللہ ہاشمی

از سائیٹ ایڈمن جنوری 30, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 30, 2020 0 تبصرے 347 مناظر
348

"ہِلے ہوئے لوگ”

جو لوگ عبدالغفار خان (باچا خان)، فاطمہ جناح، ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھُٹو کی ریاستی جبر کیخلاف پامردی کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ نہیں کر سکے، انکے لیئے منظور پشتین اور اسکے کارکنان کی آئینی حقوق کیلئے جنگ میں مندرجہ بالا تمام پیش رویان کو درپیش
مشکلات کی داستان چھُپی ہے۔ محض دو برس قبل 26/27 جنوری 2018 کو قبائلی علاقوں میں سرکاری لینڈ مائنز کیخلاف مارچ کرنے والے 22 افراد میں سے 18 لڑکے وہ تھے جو اس سے قبل کبھی ڈیرہ اسماعیل خان سے باہر نہیں نکلے تھے۔ شہباز ستوریانی کے اصرار پر اسے پشتون مارچ کا نام دیا گیا حالانکہ منظور اس میں تردد سے کام لے رہا تھا کہ بالفرض اگر لوگ باہر نہیں نکلے تو بے عزتی ہو جانے کا احتمال تھا لیکن یہ بائیس لوگ اپنے مقصد کے ساتھ مخلص تھے لہذا اللہ کی مدد شاملِ حال ہو گئی۔ ان سبھی کو کوہاٹ پریس کلب کے باہر قتل کرنے کا سامان کر لیا گیا تھا لیکن عین وقت پر یار لوگوں کو اطلاع مل گئی اور یہ پرامن، نہتے نوجوان بجائے کوہاٹ سیدھے پشاور جا پہنچے۔

ان بائیس شیر دل جوانوں میں منظور پشتون، منظور محسود، شہباز ستوریانی، فصیح اللہ اور احمد وزیر، بختیار محسود، وقار، رضوان، حمزہ، زین، امین شاہ، مصطفیٰ، قدرت اللہ، احمد حسین ، قادر، ثناءاللہ، کلیم اللہ، شیراللہ، بلال، عبدالوحید محسود اور بختیار باغی شامل تھے۔ محسن پشاور جبکہ علی وزیر اسلامآباد سے انکے ساتھ ملا۔ یوں محسود تحفظ موومنٹ اس مارچ کیبعد پشتون تحفظ موومنٹ میں تبدیل ہوئی۔ ایک چھوٹے سے علاقے کو بارودی سرنگوں سے پاک کروانے کیلئے نکلنے والے چند "ہِلے ہوئے لوگ” اسلام آباد پہنچے تو چند سو افراد تھے لیکن جب وہ اسلام آباد سے واپس آئے تو ملک بھر کے پشتونوں کی آنکھ کے تارے تھے۔ چہار سمت سے پڑھے لکھے پشتون نوجوانوں نے ان سے رابطہ کرنا شروع کر دیا اور مئی 2014 میں گومل یونیورسٹی کے 8 لڑکوں کی شروع کردہ تحریک جو جنوری 2018 میں محض 22 لوگوں کو مارچ کیلئے نکال سکی وہ اسلام آباد سے واپسی پر پشتونوں کے حقوق کی ایک موثر آواز بن گئی۔

باچا خان سے لیکر محترمہ بینظیر بھٹو تک جس جس نے انگریز کی باقیات کے استبداد سے عوام کیلئے حقوق چھیننے کی کوشش کی اسے بھارتی، افغانی، امریکی ایجنٹ کے تمغوں کیساتھ ساتھ الزام تراشیوں، قید و بند، جبری گمشدگی، قتل و غارت گری کی اگنی پریکشاء سے گزرنا پڑا۔ گو 2006 میں امریکہ کی

"Akira to Zoltan: Twenty-Six Men, Who Changed The World”

نامی کتاب میں باچا خان کا نام ان 26 لوگوں میں شامل کیا گیا جنکی جدوجہد نے دنیا کو بدل دیا لیکن آج بھی سرکاری پراپوگنڈہ مشین اس عظیم انسان کو ملک دشمنوں میں سرِ فہرست لکھتی پڑھتی ہے۔

مادرِ ملت فاطمہ جناح نے اپنے بھائی کے قتل کے اسباب واضع کرنے کیلئے ایک کتاب "My Brother” لکھی جسے قاتلوں نے اُسی بھائی کے آزاد کردہ ملک میں شائع تک نہیں ہونے دیا۔ الٹا قوم کی ماں کے کردار کی اس طریقے سے دھجیاں اُڑائی گئیں کہ گوجرانوالہ میں قاتلوں کا ایک آلہ کار غلام دستگیر خان مس جناح کے انتخابی نشان لالٹین کو ایک کُتیا کے گلے میں ڈال کر شہر بھر میں پھراتا رہا اور مقتدروں نے قومی اخبارات و ریڈیو سے اسکی بھرپور تشہیر کروا کر داد کے ڈونگرے سمیٹے۔

بھٹو پوری انسانی تاریخ میں اپنی طرح کا ایک ہی تھا۔ ایک راٹھ کے یہاں جنم لیا مگر انتہائی کم عُمری میں اپنی کمتر ذات سے لائی گئی ماں کیساتھ روا بدسلوکی سے متاثر ہو کر دالان میں خیمہ لگایا اور اعلان کر دیا کہ وہ آئیندہ اپنے مخملی بستر پر نہیں سوئے گا۔ اُس نے اس ملک کے غریبوں کیلئے جو کچھ کیا وہ دراصل اپنی ماں کیساتھ ہونے والی بدسلوکی کو ماڑے بندے کی زندگی سے نکالنے کی سعی تھی۔ غریب کو سینے سے لگاتے ہوئے بھٹو کو چاہے مخالفین سیاسی شعبدہ باز سمجھیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ ان سے بھٹو کو اپنی ماں کی خوشبو آتی تھی اور انکی غلامی کی زنجیریں کاٹتے ہوئے وہ درپردہ اپنی ماں کو مبنی بر تعصب رواجات سے آزاد کروا رہا تھا جبکہ خاکی بُتوں اور انکے ہاتھ بندھے پُجاریوں نے بھٹو صاحب کو اُنہی لوگوں میں کہ جنہیں ذات پات اونچ نیچ سے نکالنے کے جُرم میں وہ قلندر پھانسی جھُول گیا، آجدن تک متنازعہ بنا رکھا ہے۔

بی بی صاحبہ اچھی طرح جانتی تھیں کہ انکے باپ کی کمزوری اس ملک کے پِسے ہوئے طبقات تھے۔ وہ جب جب غریبوں سے ملیں تب تب کارکنوں نے انہیں روتے دیکھا، شائید ہی کوئی سمجھ پایا ہو کہ یہ رئیس زادی اس بات کو روتی ہے کہ اسکے باپ کا عشق، اس ملک کا غریب، بھٹو اور اسکے بیٹوں کی قربانی لگنے کے باوجود آزادی حاصل نہیں کرسکا۔ جو کارساز دھماکوں سے ڈرنے کی بجائے کارکنوں کیساتھ صفِ ماتم پر جا بیٹھی وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اگر وہ باز نہ آئی تو اسے بھی چُپ کرا دیا جائے گا لیکن وہ ڈٹ گئی لہذا ماری گئی۔

یہ کوئی نارمل لوگ نہیں تھے جنہوں نے اپنی زندگیاں اُن لوگوں کیلئے وقف کر دیں جو اُنکے کچھ نہیں لگتے تھے۔ باچا خان کو ڈرانے کیلئے اسکے سگے بھائی کو قتل کیا گیا، فاطمہ جناح، بھٹو صاحب اور محترمہ کو انکے کارکنوں، عزیز و اقرباء کے جنازے دکھا کر ڈرا ناں پائے تو قتل کر دیا گیا اور آج اسی آگ سے منظور پشتین اور اسکے ساتھیوں کو گزارا جا رہا ہے۔ افغانی یا بھارتی ایجنٹی کا روائیتی الزام ایکطرف، پروفیسر ارمان لونی سمیت وانا بازار اور خرکمر کی 26 لاشیں اور سینکڑوں کی ماورائے عدالت گرفتاریاں، جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنا ماضی ہوا، کل رات منظور پشتین کو اٹھا کر اس نظام نے اپنے گلے سڑے جسم کی سرانڈ سے ماحول کو آلودہ کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کارکن جو کسی وجہ سے غیر متحرک بیٹھا تھا اسے لڑنے کی وجہ دیدی گئی ہے۔ باچا خانی فلسفے کے امانتدار افراسیاب خٹک اور بھٹو خاندان کے وفادار فرحت اللہ بابر کی پہلے باقاعدہ احتجاج میں موجودگی اس بات کا اعلان ہے کہ اس ملک کے اصل مالک جاگ رہے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب انہی تین قوتوں کا اتحاد بدماشیہ اور اسکے نئے پرانے چٹے بٹوں کی بیخ کنی کرے گا۔ افسوس کہ فاطمہ جناح کی مسلم لیگ کی نمائیندگی وہاں موجود نہیں تھی وہ شائید اسلیئے کہ آج اُسی غلام دستگیر خان کا بیٹا مس جناح کی مسلم لیگ میں ٹھیکیدار لگا ہوا ہے۔

یہ لڑائی ایکدن اپنے منطقی انجام کو ضرور پہنچے گی اور اسمیں عوامی حقوق کی بات کرنے والوں کی حتمی فتح یقینی ہے صرف تھوڑی سی جہالت اور یاوا گوئی سے پیچھا چھڑانے کی ضرورت ہے۔ اگر آپکو منظور کی پشتو تقریر سمجھ نہیں آتی تو اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ کسی دوسرے ملک کا نمائیندہ ہے۔ پشتین اُتنا ہی افغانی یا بھارتی ایجنٹ ہے جتنا کبھی باچا خان تھا یا فاطمہ جناح یا پھر ذوالفقار علی بھٹو اور اسکی بیٹی تھے۔ اس ملک میں ملاں مسلم لیگ اتحاد نے روزِ اول سے بدماشیہ کی چوکھٹ پر سر رکھا ہوا ہے اور وہ ہر اس آواز کیخلاف آلہ کار بنتے آئے ہیں جس نے بدماشیہ کے حقِ حکمرانی کو چیلنج کیا ہے۔ آج اگر دائیں بازو سے مولانا فضل الرحمٰن، شاہ اویس نورانی اور نواز شریف قدرے بجانب حق کھڑے ہیں تو اس موقع کو ضائع کرنا حماقت ہوگی۔ باچا خان مرکز پشتون سیادت کی جلن میں اگر منظور پشتین اور ساتھیوں سے فاصلہ رکھتا ہے تو کوئی اسفندیار ولی کو سمجھاتا کیوں نہیں کہ یہ نوجوان اُسی مقام پر کھڑے ہیں جہاں چالیس برس قبل اسکا باپ اور ستر سال پہلے اسکا دادا موجود تھے اور افسوس وہ اُس جگہ کھڑا ہو گیا ہے جہاں پچھلے زمانوں کے ابن الوقت کھڑے تھے اور جنکی مسابقتی سوچ نے بدماشیہ کے ناگ کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا۔

پشتون، بلوچ، کشمیری اور سندھی پچھلے بہتر سالوں سے انسانی حقوق کی جو لڑائی لڑتے آئے ہیں آج اسکی مشعل پشتین کے ہاتھ میں ہے اور یہ مشعل اس نے کسی حقدار سے چھینی نہیں بلکہ انقلابی تاریخ رکھنے والوں نے مشعالِ حُریت جس چوبی طاقچے کو سونپ کر سٹیٹس کو سیاست کی راہداریوں میں قدم رکھا تھا وہ انقلابیوں کا پیچھا کرتے کرتے اتفاق سے اُسی طاقچے تک آ گیا ہے۔ آگے پیچھے اندھیرا تھا سو اس نے یہ مشعل لپک لی ہے۔ اب حقداران پلٹ آئیں یا منظور بھٹو اور باچا خان کے لہو سے روشن یہ شمع لیکر ان کو جا ملے بحر صورت روشنی کا سفر جاری رہنا ہے۔ بدماشیہ نام کا منہ ذور جانور صرف اسی مشعل سے بِدکتا ہے اور ویسے بھی منظور پشتین پیشے کے اعتبار سے جانوروں کا ڈاکٹر ہے اور اس بدمعاش جانور کا علاج کرنے کیلئے بلاول بھٹو اور ایمل ولی خان کو ڈاکٹر منظور پشتین کی اشد ضرورت ہے۔۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تیری تصویر اگر بناتے ہم
  • خالی کوزے جھانک رہی ہو
  • دو پیروں والی ماں
  • یہی نہیں کہ ترا ضبط آزمانا تھا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پُھولوں کی سازش
پچھلی پوسٹ
ہوئی اک عُمر ترکِ التجا کو

متعلقہ پوسٹس

تنقید نگاری سے توبہ

دسمبر 15, 2019

شہر کے دوسرے کنارے سے

اگست 24, 2026

سالار کی شادی

جنوری 5, 2022

پرانی شراب نئی بوتل

جنوری 17, 2020

تقابل

اکتوبر 12, 2025

اکیسویں صدی کا عشق

دسمبر 30, 2019

پھوار کا موسم

جولائی 5, 2024

پیکرِ خاک کب مکمل ہے

مئی 9, 2020

گلِ سرخ پوشیدہ

دسمبر 13, 2024

لب پر کوئی شکوہ نہ گلہ

اگست 8, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جلے ایسی شناسائی

اگست 23, 2020

آخری الوداعی خدشے میں

اپریل 23, 2022

واسطہ پڑ گیا اذیت سے

مئی 9, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں