خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرتنقید نگاری سے توبہ
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریر

تنقید نگاری سے توبہ

تحریر: محمد خالد اختر

از روبی جہاں دسمبر 15, 2019
از روبی جہاں دسمبر 15, 2019 0 تبصرے 469 مناظر
470

تنقید نگاری سے توبہ
تحریر: محمد خالد اختر

مجھے کتابوں پر ریویو لکھنے میں ملکہ حاصل ہے۔اور میں انہیں پڑھے بغیر ہی ریویو لکھ سکتا ہوں۔ یہ خدا کی دین ہے۔جس طرح بعض لوگ شاعر یا پیدائشی مختصر افسانہ نویس ہوتے ہیں۔ غالباً میں ایک پیدائشی تبصرہ نگار ہوں۔
پچھلے دو تین سال کے عرصہ میں میں نے ادیب سازی کے سلسلہ میں جو کام کیا ہے۔وہ آپ سے پوشیدہ نہ ہوگا میرا ریویو کرنے کا طریقہ یہ ہے ۔
’خیال نو‘کا ایڈیٹر جو میرا دوست ہے مجھے کتابیں ریویو کرانے کے لیے بھیجتا ہے۔میں ان کو ادھر ادھر سے الٹ کر کسی صفحہ کو کھول کر دو تین سطریں پڑھتا ہوں۔ مثلاً
اس نے کہا۔’چائے کی پیالی پیو!‘
بھورے خاں نے کہا۔’شکریہ میں ابھی ابھی لیمن پی کر آیا ہوں۔‘
اور پھر کتاب کو بند کرکے اس پر تین چار صفحے کا ریویو گھسیٹ دیتا ہوں۔اگر کتاب ذرا اہم ہوئی تو میں اسے اپنے بھانجے کو (جو آٹھویں جماعت میں تعلیم پارہا ہے)پڑھنے کے لیے دے دیتا ہوں۔اور رات کو سوتے وقت اس سے کہتا ہوں۔کہ مجھے اس کا پلاٹ سنائے۔اگر اس کے پلے کچھ نہ پڑا تو سمجھ لیتا ہوں کہ کتاب فی الواقعی ہائی برو ہے۔اور اپنے ریویو میں اسے وقیع اور عالمانہ بتاتا ہوں اب تک یہ طریقہ بہت کامیاب رہا تھا۔کتنا کامیاب، یہ آپ کو اس شہرت سے اندازہ ہوسکتا ہے، جو اس سلسلے میں مجھے حاصل ہے۔خود میرے ریویوں پر ریویو لکھے جاچکے ہیں اور مجھے ادب کا ہونہار ترین نوجوان نقاد تسلیم کیا جاچکا ہے۔’خیال نو‘جو اس وقت اردو ادب کی آواز ہے۔اپنے ہر شمارے میں میری تصویر کے نیچے یہ چھاپتا ہے’مسٹر شدادپشمی‘۔اردو کے ہونہار ترین نوجوان نقاد، وغیرہ وغیرہ۔
لیکن چند دنوں سے اسی تنقید نگاری کی بدولت میں ایک عجیب مصیبت میں پھنس گیا ہوں مجھے معلوم نہ تھا کہ ریویوئنگ اتنی پرخطر بھی ہوسکتی ہے۔میرا خیال تھا کہ یہ سب گلابوں کی سیج ہے۔ اب اس کے خطرات مجھ پر کھلے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ اس مصیبت کی وجہ سے حالات اس قدرنازک صورت اختیار کرچکے ہیں کہ کتابیں ریویو کرنا تو رہا ایک طرف۔میں نے گھر سے باہر نکلنا بھی ترک کردیا ہے۔اور اب کراچی چھوڑ کر کسی اور جگہ کوچ کرنے کا ارادہ کررہا ہوں۔ وہ جگہ ہے نا جہاں ، وہ کیا مصرعہ ہے۔۔۔۔ہم زباں کوئی نہ ہو۔۔۔اور میزباں کوئی نہ ہو۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔ٹھیک اسی جگہ میں جانا چاہتا ہوں۔صرف وہ جگہ اب مجھے راس آسکتی ہے۔کیا کوئی صاحب مجھے اس کا اتہ پتہ بتلا سکتے ہیں کہ وہ کہاں ہے!
مصیبت کا آغاز یوں ہوا کہ’خیال نو‘کے ایڈیٹر نے مجھے ایک ناول ریویو کرنے کے لیے دیا۔میرا بھانجا کہیں باہر گیا ہوا تھا۔اور پھر میں، سمجھا کہ ناول اتنا اہم بھی نہیں ہے (اس کا مصنف کوئی غیر معروف شخص تھا)میں نے درمیان سے ایک صفحہ کھولا۔ اور پڑھنے لگا۔
’میں پاگل ہوں۔۔۔میں پاگل ہوں۔۔میں پاگل ہوں‘۔عبدالشکور نے اپنے کپڑے پھاڑنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔اس کے دوست حکیم عبدالعلی نے اس کو اس سے باز رکھنے کے کشمکش کی۔
’کپڑے مت پھاڑو میاں عبدالشکور‘میاں عبدالعلی نے کہا۔’یہ قمیص جو تم پہنے ہوئے ہو میری ہے‘
میں نے کتاب کو ایک اور جگہ سے الٹا۔یہاں اس قسم کے نادر جواہرات جڑے تھے۔
’اگر عبدالشکور اپنے تحت الشعور کو کسی طرح اپنے لاشعور میں مدغم کرسکتا تو اس کی نفسیاتی الجھنوں کا خاتمہ ہوجاتا۔اس کو خود بخود ملازمت مل جاتی۔اور اس کے دفتر کا سپرٹنڈنٹ خود بنفس نفیس ملازمت کو طشت پر رکھے اس کے پاس حاضر ہوتا اس کے مکان کے پچھلے دو ماہ کا کرایہ خود بخود ادا ہوجاتا۔اور اس کے قرض خواہ اس کی خوش طبعی سے متاثر ہوکر اپنے پچھلے قرضے مانگنے کی بجائے اسے اور قرضہ دینے پر اصرار کرتے۔مگر افسوس کہ عبدالشکور محض دس جماعتوں تک پڑھا تھا۔افسوس اس نے ڈاکٹر سگمنڈ فرائڈ کی کتاب ’سائیکالوجی آف نیوروسس‘نہیں پڑھی تھی۔افسوس اس نے آندرے ژید نہیں پڑھا تھا۔افسوس وہ بصد کوشش جیمز جائس کی ’اولیسس‘کو ایک صفحے سے آگے پڑھنے میں کامیاب نہ ہوا تھا۔اگر وہ کم از کم اولیسس ہی آدھی تک مطالعہ کرلیتا تو اس وقت اس کی نفسیاتی اور جسمانی حالت اس قدر قابل رحم نہ ہوتی۔اور چاننان اس سے یوں بے وفائی نہ کرتی۔اب وہ اس طرح محسوس کررہا تھا جیسے وہ پاگل ہوجائے گا۔جیسے اس کے لیے پاگل ہوجانے کے سوا اور کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔۔۔۔۔‘
یہ کافی تھا۔اور میں کتاب کو بند کرکے اس پر ریویو لکھنے بیٹھ گیا۔
پندرہ منٹ میں میں نے ریویو لکھ ڈالا۔چھ صفحے کا ریویو۔اس میں میں نے لکھا کہ اس ناول میں مصنف محترم ذوالفقار خاں نے ایک بے کار تعلیم یافتہ نوجوان کے جذبات کی فرائڈین نقطۂ نظر سے تجزیۂ نفسی کرنے کی کوشش کی ہے۔مگر وہ اس میں زیادہ کامیاب نظر نہیں آتے۔پھر بھی ان کی اس کوشش کونا کامیاب بھی نہیں کہا جاسکتا۔وہ زندگی کی تلخ حقیقتوں کی ہوبہو عکاسی کرتے ہیں مگر ان کی رومانیت پرستی سب کیے کرائے پر پانی پھیر دیتی ہے۔ان کی کردار نگاری کی تکنیک خارجی نہیں بلکہ داخلی ہے۔یعنی وہ اپنے کرداروں کے چھپے چھدرے تحت الشعور میں گھس کر ان کی زبان سے بولتے ہیں۔اور جب اس شان دار اور بے حد رقت انگیز سین میں عبدالشکور جو اس ناول کا ہیرو ہے۔اپنے کپڑے پھاڑ کر چلاتا ہے۔’میں پاگل ہوں،میں پاگل ہوں‘تو ہمیں صاف طور پر اس میں مصنف خود بولتا ہوا نظر آتا ہے۔محترم ذوالفقار خاں میں ایک عیب یہ ہے کہ وہ کرداروں کو باہر سے ٹٹولتے ہیں۔اور ان کے بارے میں گہرائی سے نہیں لکھتے۔لیکن امید ہے کہ اپنی اگلی کتاب میں وہ اس کے بالکل برعکس تکنیک استعمال کریں گے۔ان کی پہلی کتاب سے سب کی آنکھیں کھل گئی ہیں اور ادبی دنیا میں ایک ہنگامہ برپا ہوگیا ہے۔سب نے محسوس کیا ہے کہ ایک نیا ادیب منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوچکا ہے جس کی ادبی کاوشوں سے اردو ادب کو چار چاند لگنے کی توقع ہے۔مگر ذوالفقار خاں کو سنبھل سنبھل کر بڑھنا ہوگا۔ابھی انہیں مغل نگارش کے متعلق بہت کچھ سیکھنا ہے اورنفسیات کی سب کتابوں کا مطالعہ کرنا ہے۔ان کے ناول سے گمان ہوتا ہے کہ عبدالشکور نے (جو غالباً مصنف خود ہی ہے)ابھی تک سائیکالوجی آف نیوروسس نہیں پڑھی۔آندرے ژید نہیں پڑھا۔میں محترم ذوالفقار خاں سے پوچھنے کی جسارت کروں گا کہ اگر انہوں نے خود اپنے اقرار کے مطابق نہ فرائڈ کو پڑھا ہے نہ آندرے ژید کو اور نہ جائس کو۔تو پھر انہوں نے پڑھا کیا ہے۔ان کتابوں کے مطالعہ کے بغیر وہ ہمیں کیسے کوئی ٹھوس یا جامد تخلیق دے سکتے ہیں۔راقم الحروف نے خود ان تینوں مصنفوں کو ہائی اسکول ہی میں پڑھ ڈالا تھا۔اس زمانے میں شاید ذوالفقار خاں پتنگ اڑاتے ہوں گے یا بہرام ڈاکو عرف بے وفا مجاہد کی قسم کے ناولوں سے اپنی راتوں کی نیند حرام کرتے ہوں گے۔۔۔محترام ذوالفقار خاں چینی کلاسیکل مصنف چنگ پھنگ پھوں سے بے حد متاثر معلوم ہوتے ہیں(یہ نام میں نے اسی وقت فرضی گڑھ لیا تھا)اور انہوں نے اپنے ناول کے پلاٹ کے سلسلہ میں مسٹر چنگ پھنگ پھوں کے ناول چیکو چیکو سے کسی حد تک استفادہ کیا ہے۔
کچھ اس قسم کے الفاظ تھے میرے ریویو کے۔لفظوں کے کچھ ہیر پھیر کے ساتھ میں اس موضوع پر متعدد ریویو پہلے کرچکا تھا اور ایڈیٹر خیال نو کو یہ ریویو حوالے کردینے کے بعد میں اس کے اور محترم ذوالفقار خاں کے متعلق سب کچھ بھول گیا۔
جب یہ ریویو ’خیال نو ‘میں چھپا تو اس سے تین چار روز بعد مجھے محترم ذوالفقار خاں کا خط موصول ہوا۔جس میں انہوں نے میرے حوصلہ افزا ریویو کا شکریہ ادا کیا تھا۔اور مجھے یقین دلایا تھا کہ انہوں نے چنگ پھنگ پھوں کی کوئی کتاب نہیں پڑھی اور اگر ان کے ناول کی مسٹر چنگ پھنگ پھوں کے ناول سے کچھ مشابہت ہے تو اسے محض اتفاق پر محمول کیا جاسکتا ہے۔آگے چل کر انہوں نے مجھ سے درخواست کی تھی کہ آیا میں ان کومسٹر چنگ پھنگ پھوں کے پبلشر کے پتے سے آگاہ کرسکتا ہوں۔جس سے عظیم چینی مصنف کے ناول ’چیکو چیکو‘کا انگریزی زبان کا ایڈیشن دستیاب ہوسکے۔
میں نے جواباً لکھ بھیجا۔’چیکو چیکو ‘تو میں نے اصل چینی زبان میں پڑھا تھا۔جہاں تک مجھے علم ہے ابھی ناول کا انگریزی زبان میں ترجمہ نہیں ہوا۔
میرا خیال تھا معاملہ یہیں پر ختم ہوجائے گا۔دوسرے دن میں ابھی بستر سے نکل کر شیو ہی کررہا تھا کہ کسی نے دروازے پر دستک دی۔میں سمجھا شاید دودھ والا ہوگا۔منہ صابن کے جھاگ میں لتھڑا ہوا ہاتھ میں برش۔۔۔اس حلیہ میں میں نے دروازے کو تھوڑا سا کھول کر محتاط انداز میں باہر سر نکالا۔
’کیا آپ ہی شداد پشمی ہیں؟‘ایک کھپے دار مونچھوں والا خطرناک شکل کا انسان دروازے کے پاس کھڑا تھا۔
’ہاں مجھے یہی کہا جاتا ہے۔۔۔دوست احباب صرف پشمی کہتے ہیں‘میں نے مسکرانے اور خرخرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔۔’آپ کی تعریف؟ کیسے آنا ہوا؟‘
’میں ذوالفقار خاں ہوں ۔۔اور آپ کے حوصلہ افزا ریویو کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں۔‘
میں اس کو اچھے اخلاق میں شمار نہیں کرتا کہ مصنف لوگ بالکل ہی تبصرہ نگار کے پیچھے پنجے جھاڑ کر پڑجائیں۔اور خط و کتابت پر اکتفا نہ کرکے اس کے گھر کا کھوج نکالیں۔میں ذاتی تجربے کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ صبح ہی صبح ذوالفقار خاں کی قسم کے مصنف کو اپنے دروازے کے باہر کھڑا دیکھنا کسی تبصرہ نگار کے دلی سکون میں اضافہ کا موجب نہیں بن سکتا۔میں نے صابن کی جھاگ میں سے اپنے جبڑے چیر کر اس پر یہ ظاہر کیا کہ میں اسے دیکھ کر بہت خوش ہوا ہوں۔
میں نے کہا’اخاہ ذوالفقار صاحب۔آئیے آئیے اندر تشریف لائیے۔آپ کی کتاب۔کئی حیثیت سے غیر معمولی تھی۔۔
وہ اندر آکر کرسی پر بیٹھ گیا۔اور میں ہاتھ میں برش پکڑے اس کے سامنے والے صوفے پر۔
’ہاں تو وہ آپ کی کتاب خوب تھی۔‘
’آپ شیو تو کرلیجیے۔‘اس نےمسکراتے ہوئے کہا۔
میں جانتا تھا کہ اس شخص کی موجودگی میں میرے لیے شیو کرنا ناممکنات میں سے ہے! شیو کرنے کے لیے دلی سکون اور روحانی اطمینان ضروری ہے۔۔۔پھر میرا خیال تھا کہ اس طرح شاید مجھے اس سے جلد چھٹکارا حاصل ہوجائے۔
’شیو کرلوں گا۔۔۔آپ فرمائیے۔اتنے سویرے سویرے۔۔۔۔‘
’ہاں،چینی کتاب چیکو چیکو، آپ کے پاس ضرور ہوگی۔آپ نے اپنے ریویو میں اس کا حوالہ دیا ہے۔وہ نہیں تو چنگ پھنگ پھوں کا کوئی دوسرا شاہکار۔‘
’وہ کتاب چیکو چیکو! ہاں! مجھے یاد آیا ، میں کل ہی تو اسے پڑھ رہا تھا ۔مسٹر چنگ پھنگ پھوں۔یہی نام ہے نا۔۔۔اس وقت چین کے کلاسیکی روایت میں لکھنے والوں میں سب سے زیادہ ممتاز ہے۔وہ جو میں نے آپ کی کتاب پر اپنے ریویو میں لکھا تھا کہ اس کی چنگ پھنگ پھوں کی کتاب سے مشابہت ہے۔۔۔تو۔۔۔‘
’آپ نے چینی زبان کب سیکھی تھی۔مسٹر ذوالفقار نے بات کاٹتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔‘غالباً اس وقت جب میں لکڑی کے گھوڑے پر سیر کیا کرتا ہوں گا۔‘
میں نے اس سوال میں نیش زنی کو نظر انداز کرکے اتنی ہی سنجیدگی سے دور ایک مفکرانہ طور پر دیکھتے ہوئے جواب دیا۔غالباً ۱۹۲۸ میں۔۔۔میں اس وقت آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا۔‘
مسٹر ذوالفقار نے قطع کلامی کرکے مجھے مزید دروغ گوئی سے بچاتے ہوئے پوچھا۔
’آپ نے لن یو ٹانگ کی کتابیں پڑھی ہیں۔وہ سب تو انگریزی میں بھی ترجمہ ہوچکی ہیں۔‘
میں نے جواب دیا۔’ہاں اچھا لکھتا ہے مگرخارجی اسکول کا مصنف ہے۔میرا مطلب ہے اس میں داخلیت نہیں۔پھر بھی برا نہیں۔میں نے تو اس کی کتابیں اصلی چینی زبان میں پڑھی ہیں۔ترجمہ میں دراصل وہ بات نہیں رہتی۔
‘اور پنگ پانگ کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟‘ذوالفقار خاں نے پوچھا
’اچھا لکھتا ہے‘میں نے جواب دیا۔’اگرچہ میں نے اس کا نام کبھی نہیں سنا تھا۔چین کی عوامی زندگی کا اس وقت وہ واحد عکاس ہے مگر رومانیت پسندی اس کی تخلیقات میں جو خارجیت۔۔اور۔۔۔رومانیت کا رنگ لے آتی ہے وہ میری رائے میں اس کی اصلی خوبیوں میں سے بہت کچھ منفی کرلیتا ہے۔پھر بھی وہ اس وقت چینی ادب کا آندرے ژید ہے۔‘
’معاف کیجیے۔‘مسٹر ذوالفقار خاں نے یک لخت اٹھتے ہوئے کہا۔
’آٹھ بجے مجھے ایک ضروری کام پر جانا ہے۔اب اجازت چاہتا ہوں۔پنگ پانگ کے متعلق آپ کے ان ارشادات کو میں یہاں کے ہر ادیب تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔خاطر جمع رکھیے اور ویسے جاتے جاتے یہ عرض کردوں کہ پنگ پانگ ایک کھیل کا نا م ہے۔ جو گیند سے میز پر کھیلا جاتا ہے۔‘
’میرا مطلب طریقہ ٔفکر کی مشابہت سے تھا۔۔۔آپ سمجھتے ہیں نا۔۔۔سبجیکٹو طریقہ نہ کہ آبجیکٹو۔۔آپ سمجھتے ہیں نا‘میں نے بازو ہلا کر اسے اپنا مطلب سمجھانے کی کوشش کی اور اس کوشش میں برش سے اپنی ناک پر سفیدی کرنے میں کامیاب ہوگیا۔
’وہ کتاب تو آپ کے پاس ہوگی ہی۔۔۔بات یہ ہے کہ ہم نئے ادیبوں کو چینی فن کاروں کے شاہکار پڑھنے چاہییں، نیئپر روڈ پر ایک چینی دندان ساز آہ فنگ میرا دوست ہے۔میں اس سے اگلے ہی روز دوداڑھیں نکلوا چکا ہوں‘مسٹر ذوالفقار خاں نے حلق کھول کر اور انگلی اندر ڈال کر مجھے نکلی ہوئی ڈاڑھوں کی جائے وقوع دکھانے کی کوشش کی۔’میرا ارادہ ہے کہ آہ فنگ کی مدد سے میں چیکو چیکو کا اردو ترجمہ کروں۔ورنہ آپ تو ہیں ہی۔‘
’ہاں ضرور کیجیے۔ہمیں اردو داں طبقے کو چینی ادب سے روشناس کرانا چاہیے۔ضرور کیجیے۔۔۔‘میں نے کہا۔
’اچھا تو مجھے وہ کتاب ایک دو دن کے لیے عنایت کردیجیے!‘
کون سی کتاب‘
میں اس کتاب کے متعلق بھول گیا تھا۔
’وہی چیکو چیکو۔۔۔چنگ پھنگ پھوں کا شاہکار۔۔‘
’وہ کتاب۔۔۔۔ہاں! میں نے خدا جانے اس کو کہاں رکھ دیا ہے۔‘میں نے کہا۔’پرسوں بھی تو وہ میرے پاس ہی تھی۔۔دراصل میرا بھانجہ ہے نا۔۔۔عجیب نامعقول لڑکا ہے۔۔میری کتابیں یہاں سے اٹھا کر لے جاتا ہے اور بھینس کے آگے ڈال دیتا ہے۔‘
’بھینس کے آگے؟‘مسٹر ذوالفقار نے کرسی پر سے ہڑبڑا کر اٹھتے ہوئے احتجاج کیا۔
’ہاں بھیینس کے آگے۔۔یہ اس کی ہابیوں میں سے ایک ہے‘
’مگر پنگ پانگ ایک چینی مصنف بھی تو ہے۔۔۔آپ مذاق تو نہیں کررہے۔۔ذوالفقار صاحب ٹھہریے، چائے تو پیتے جائیے۔۔‘مگر میرا ملاقاتی دروازہ کھول کر باہر جاچکا تھا۔۔۔
صابن میرے گالوں پر سوکھ چکا تھا۔۔اور ذوالفقار خاں کے چلے جانے کے بعد مجھے ایک مبہم سااحسا س ہوا کہ ریویوٹری کی حیثیت سے میرا کیریر اب ختم ہوگیا ہے۔
مسٹر ذوالفقار خاں اپنے وعدے کا پکا ثابت ہوا۔۔۔قابل سے قابل ڈھنڈورچی بھی اس خوبی سے اس کام کو سرانجام نہ دے سکتا ۔جس خوبی سے اسے ذوالفقار خاں نے کیا۔ایک ہفتے کے اندر اندر شہر کا ہر ادنیٰ آدمی کافی ہائوس کا ہر جرنلسٹ اس قصہ کو جانتا تھا۔اور ’پنگ پانگ ‘کے متعلق میری رائے کو قہقہوں کے درمیان ادبی محفلوں میں دہرایا جاتا تھا۔کم از کم اردو کے دو ماہناموں ’صبح‘اور ’سکرین‘کے تنقید نگاروں نے طویل مقالوں میں میری خوب خبرلی۔۔۔(تنقید نگاروں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔کاش ہم لوگوں میں یونین اسپرٹ ہوتا)۔مہینے کے اندر اندر ساری ادبی دنیا اس مذاق سے واقف ہوگئی تھی۔اور اب جب کہ تین ماہ بعد بھی جب لوگ مجھے دیکھتے ہیں۔تو ان کی باچھیں چرنے لگتی ہیں اور وہ مجھ سے پوچھتے ہیں۔’پنگ پانگ ‘کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟۔۔۔۔۔
میرے لیے گھر سے باہر نکلنا دوبھر ہوگیا ہے۔
میرا دوست’خیا ل نو‘ کا ایڈیٹر اب مجھے اپنے رسالے کے لیے ریویو لکھنے کی دعوت نہیں دیتا۔میں اب اس جگہ سے کوچ کرنے کا ارادہ کررہا ہوں۔اس جگہ جہاں ہم زباں کوئی نہ ہو اور مہماں کوئی نہ ہو وغیرہ وغیرہ۔۔۔اور جہاں ذوالفقار خاں بھی نہ ہو۔۔۔۔!

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بنام مولوی منشی حبیب اللہ خاں المتخلص بہ ذکاؔ
  • کایا پلٹ
  • پانی کا درخت
  • ماں کی مامتا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
روبی جہاں

اگلی پوسٹ
مجھے میرے بزرگوں سے بچاؤ
پچھلی پوسٹ
گزر چکا ہے جو لمحہ وہ ارتقا میں ہے

متعلقہ پوسٹس

فیجی – چڑھتے سورج کا پہلا سلام

اکتوبر 9, 2022

صوفی محمد برکت علی لدھیانوی رح

مارچ 9, 2025

میڈم – ناولٹ (قسط نمبر 2)

نومبر 3, 2025

مسز ڈی کوسٹا

جنوری 16, 2013

گرہن

مارچ 30, 2020

خواتین کا عالمی دن

مارچ 14, 2021

کفن میں ایک سو ایک سال

جون 14, 2020

دوسرا بوسہ

مئی 14, 2024

خاموشی کا شور

مارچ 24, 2026

خدا کی قسم

فروری 1, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

‫ایرانی پلاؤ

جنوری 27, 2020

سفرنامہ بھارت – آخری قسط

نومبر 2, 2019

قرةالعین حیدر – احوال وکوائف

جنوری 5, 2017
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں