خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباعمران حکومت کی آختہ کاری مہم
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزسید محمد زاہد

عمران حکومت کی آختہ کاری مہم

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 3, 2020
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 3, 2020 0 تبصرے 55 مناظر
56

عمران حکومت کی آختہ کاری مہم

”وقائع سیرو سیاحت ڈاکٹر برینئر، بعہد شاہ جہان و اورنگ زیب“ میں ایک ایسا قصہ ملتا ہے جس نے مصنف اور اس کے مترجم سید محمد حسین دونوں کو حیرت زدہ کر دیا۔ عنوان ہے ”ایک واقعہ کا ذکر جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خوجوں کو بھی تعشق ہو سکتا ہے۔“ برینئر لکھتے ہیں ”انہیں دنوں ایک ایسا افسوسناک واقعہ دہلی میں ہوا کہ جس کا تمام شہر اور بالتخصیص شاہی محل سرا میں بہت چرچا تھا اور جس سے میری اور لوگوں کی اس رائے کی کہ جو شخص رجولیت سے محروم کر دیا جائے اس کو تعشق نہیں ہو سکتا، غلطی ثابت ہو گئی۔

دیدار خاں نامی ایک ذی رتبہ خواجہ سرا اپنے ہمسائے میں ایک ہندو کی بہن پر عاشق ہو گیا۔ دونوں کے درمیان کچھ عرصہ ناجائز تعلق رہا کسی کو کچھ شبہ نہ ہوا کیونکہ یہ خوجہ تھا اور زنانہ میں آنے جانے سے خوجوں کو کوئی بھی مانع نہیں ہوتا۔ آخر کار ان کا تعشق یہاں تک بڑھ گیا کہ اس ہندو کو بھی اس قسم کی خبریں پہنچ گئیں۔ ایک رات لڑکی کے بھائی نے دونوں کو اکٹھے سوتے دیکھ کر دلدار کی چھاتی میں خنجر گھونپ کر ماردیا۔ اس واردات سے محلسرائے شاہی میں نہایت تہلکہ اور شورو شر پیدا ہوا اور خواجہ سراؤں اور محل کی عورتوں نے باہم ایکا کر لیا کہ جس طرح بنے اس شخص کو قتل کرنا چاہیے۔“

یہ وہ خواجہ سرا تھا جس کا محل میں آنا جانا تھا۔ اس کو اس دور کے مطابق خصی کیا گیا تھا۔ اس کتاب کے مترجم اس واقعہ پر یہ حاشیہ آرائی کرتے ہیں ”مصنف نے باوصف اس قدر قابلیت کے خدا جانے یہ کیا لکھ دیا ہے حالانکہ سیدھی بات ہے کہ اس کے خوجہ بنانے میں کوئی کسر رہ گئی ہو گی۔“

آختہ کاری صدیوں سے جاری ہے۔ یونانی متھالوجی کے مطابق اس کائنات کی ابتدا میں ہی جیا دیوی (زمین) نے یورینس دیوتا (آسمان) کو سزا کے طور پر اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کے ساتھ مل کر خصی کر دیا تھا۔ وہ ہر دفعہ آتا اور جیا پر چھا جاتا جس سے وہ حاملہ ہو جاتی تھی۔ اس نے بارہ ٹائٹنز کو جنم دیا تھا۔ یورینس کا خون جو زمین (جیا دیوی) پر گرا اس سے بھی بچے پیدا ہوتے گئے۔ خصیوں کو جیا نے سمندر میں پھینک دیا اور ان سے افرودیتہ دیوی پیدا ہو گئی۔

پرانے دور میں صرف سرجیکل آختہ کاری ہوتی تھی۔ عام طور پر یہ عمل بچوں پر ہی کر دیا جاتا تھا۔ ان ہیجڑوں کی تین اقسام تھیں۔ 1 صندلی۔ جن کا قضیب اور خصیتین دونوں قطع کر دیے جاتے تھے 2۔ جن کاصرف قضیب اور 3۔ وہ جن کے صرف خصیتین قطع کیے جاتے۔ یورپ کے تاریک دور میں فرانس، وینس، فلورنس اور جنیوا کے شہروں میں غریب ماں باپ کے بچوں کو خرید کر ہیجڑہ بنایا جاتا تھا۔ ان کارخانوں کے زیادہ ترمالک یہودی تھے۔

یہ ہیجڑے محل سرا اور کنیزوں کی حفاظت پر معمور ہوتے تھے۔ یہ نہایت سنگدل اور بے رحم ہوتے تھے اور معمولی سی غلطی پر بھی ان کو کڑی سے کڑی سزا دیتے تھے۔

جب بیگمات کی سواری چلتی ہے تو خاص خاص خواجہ سرا بھاری بھاری پوشاکیں پہنے باد پا نفیس گھوڑوں پر سوار ہاتھوں میں چھڑی لئے ’ہٹو، بچو‘ کی صدائیں لگاتے ہوئے ساتھ چلتے۔ راستہ میں آنے والا کوئی بھی شخص وہ کیسا ہی ذی وقار و ذی رتبہ کیوں نہ ہو ان خواجہ سراؤں سے پٹے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔

ڈاکٹر برینئر لکھتے ہیں ”ہندوستانیوں کی یہ رائے ہے کہ اگرچہ خصی کرنے سے جانورغریب اور سیدھا ہو جاتا ہے مگر آدمی پراس عمل کا اثر برعکس ہوتا ہے اور ان کا قول ہے کہ کیا کوئی خواجہ سرا ایسا بھی ہے جو شریر اور مغرور اور بے رحم نہ ہو۔“

موجودہ دورمیں سرجیکل کے ساتھ کیمیائی آختہ کاری Chemical Castration بھی کی جاتی ہے۔ یہ طریقہ عام طور پر ذہنی مریضوں اور کینسر کے مریضوں میں اپنایا جاتا ہے۔ مختلف قسم کی ہارمونل ادویات اس کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔

پچھلی صدی سے کیمیکل کاسٹریشن ریپ کے ملزموں میں سزا کے طور پر بھی استعمال کی جا رہی ہے۔ مختلف ممالک میں اس طریقہ کو ملزمان کو سزا میں کمی کے متبادل کے طور پر منظور کیا جاتا ہے۔

1952 میں دوسری جنگ عظیم کے ایک ہیرو سائنسدان ایلن ٹیورنگ کو جنسی جرائم میں ملوث پایا گیا۔ وہ ایک عظیم ریاضی دان تھا۔ موجودہ کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت پر اس کا کام بہت ہی اہم تھا۔ اس نے قید کی بجائے کیمیکل کاسٹریشن کی سزا قبول کر لی۔ اس سزا سے وہ ایسی ڈپریشن میں گھر گیا کہ دو سال بعد ہی اس نے خود کشی کرلی۔ برطانوی حکومت کو نصف صدی کے بعد اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ وزیراعظم گورڈن براؤن نے 2009 میں عوام سے اس غلطی کی معافی مانگی۔ 2013 میں جب اس کے خاندان کا کوئی فرد بھی اس دنیا میں موجود نہیں تھا ملکہ نے ایک شاہی فرمان کے ذریعے اس کی سزا معاف کردی۔ ہائے اس زود پشیمان کا پشیماں ہونا۔

ہندوستانیوں کی صدیوں سے یہ رائے ہے کہ ہیجڑے ذہنی مریض ہوتے ہیں۔ یہ ظالم، شریر اور بے رحم بن جاتے ہیں۔ ان کے ضدی پن کی مثال یہ ہے کہ دہلی کے ہندو قاتل کو اورنگ زیب نے اسلام قبول کرنے کی شرط پر معاف کر دیا لیکن مصنف کا کہنا ہے ”خواجہ سراؤں کی عداوت اور ان کے زور کی وجہ سے یہ بے باک شخص زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکے گا۔“ ایک دوسری طرح کے افراد ڈپریشن میں خودکشی تک پہنچ جاتے ہیں۔

اب ہماری عمران حکومت بھی آختہ کاری مہم پر نکلی ہے لیکن یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ سرجیکل کا سٹریشن کے بعد جنسی تعلقات کی مثالیں تاریخ کی کتابوں میں ملتی ہیں اور کیمکل کاسٹریشن تو ویسے ہی قابل واپسی عمل ہے۔ یونانی تہذیب کے ابتدائی نامعلوم مفکر بھی اشار ے کنائے میں بیان کر گئے ہیں کہ درانتی سے خصئیے کاٹ بھی دیے جائیں تو جنسی عمل پھر بھی جاری رہ سکتا ہے۔ ڈاکٹر برینئر کے مترجم کے کہنے کے مطابق اس عمل میں کوئی کمی رہ گئی تھی۔

اس کی بات میں سچائی ہو سکتی ہے اور ڈاکٹربھی سچا ہو سکتا ہے کیونکہ جنسی تعلقات کی بنیاد صرف قضیب اور خصیے ہی نہیں ہوتے۔ پورا جسم اس کام میں شامل ہوتا ہے۔ جسم کا ساتھ دینے کے لئے یہ اعضا اگر موجود نہ ہوں تو بھی کام جاری رہ سکتا ہے۔ بلکہ ان حالات میں معاملات بعض مرتبہ خطرناک بھی ہو جاتے ہیں۔ حیرانی کی بات ہے کہ آختہ کا ایک معنی تیغ بے نیام بھی ہے۔ لگتا ہے کہ اردو ادب والے جانتے تھے کہ یہ ہیجڑے شمشیر برہنہ غارت گر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مجرمان کیمیائی آختہ کاری کے بعد بھی متشدد قسم کے جنسی جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔

انڈین سپریم کورٹ وویمن لائرز ایسوسی ایشن کی صدر مہا لکشمی پاوانی کا کہنا ہے ”مرد کی شہوت ختم کر کے تم اس کی انا کو زخمی کر رہے ہو۔“ اس سے وہ اور زیادہ خطرناک ہو جائے گا۔

جب مدراس ہائیکورٹ نے مرکزکو آختہ کاری کو سزا کے طور پر نافذ کرنے کے بارے میں سوچنے کا کہا تو جسٹس ورما کمیٹی نے 2013 میں اس تجویز کو مستردکر دیا۔ کمیٹی نے فیصلہ دیا ”یہ سزا ریپ کی سماجی وجوہات کا علاج کرنے میں ناکام ہے۔ یہ سزا غیرانسانی اور غیر آئینی بھی ہے۔“

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟
  • گرے مکاں میں دبی کہکشاں
  • عاشورے میں اتنی کشش کیوں ہے؟
  • لائبریری میں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بانو قدسیہ
پچھلی پوسٹ
کوئی شعلہ نُما ہونے لگا ہے

متعلقہ پوسٹس

21 فروری عالمی یوم مادری زبان!

فروری 21, 2021

سندھو کے کنارے سے

مارچ 13, 2025

وجدان کا نکاح

جولائی 31, 2022

جلے ایسی شناسائی

اگست 23, 2020

لہو کی لہر میں

مئی 28, 2024

صدر ٹرمپ کا بھارت کو ایک اور سرپرائز

ستمبر 24, 2025

قید میں اس کو دکھاؤ

فروری 25, 2025

پاک چائنہ اقتصادی راہداری

اپریل 14, 2020

موسموں کی بہار – انشا پردازی پر اثر

جنوری 16, 2026

موتیوں کا دیس قطر

جنوری 29, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بھلا اجڑے گھروندوں سے

نومبر 15, 2025

ایک امید 70سال پرانی

جنوری 10, 2021

امن

اکتوبر 12, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں