107
لہو کی لہر میں اک خواب دل شکن بھی گیا
پھر اس کے ساتھ ہی آنکھیں گئیں بدن بھی گیا
بدلتے وقت نے بدلے مزاج بھی کیسے
تری ادا بھی گئی میرا بانکپن بھی گیا
بس ایک بار وہ آیا تھا سیر کرنے کو
پھر اس کے ساتھ ہی خوشبو گئی چمن بھی گیا
بس اک تعلق بے نام ٹوٹنے کے بعد
سخن تمام ہوا رشتۂ سخن بھی گیا
فہیم شناس کاظمی
