309
اس سے پہلے ترے کوچے میں تماشا ہوتا
یہ مناسب تھا مرے واسطے رستہ ہوتا
عمر بھر میری یہ کوشش تجھے جی بھر دیکھوں
تیرے چہرے پہ کھلا رنگ مجھ ایسا ہوتا
میں بہت تیز چلا اپنے کناروں سے پرے
میں اگر دشت نہ ہوتا ترا دریا ہوتا
آگ سگرٹ کو لگاتا میں تری یادوں میں
اور بے چین دھویں میں ترا سایہ ہوتا
بن گیا آئنہ دیوار مری تنہائی کی
ہر طرف میرے لیے تیرا ہی چہرہ ہوتا
جانتا ہوں تجھے ،تُو میری نہیں ہو سکتی
زندگی تو نے مری طرف تو دیکھا ہوتا
تو نے جس خاک سے الفت کو بنایا مولا
اسی مٹی سے مرا جسم تراشا ہوتا
پھول کھلنے سے ذرا پہلے کسی خوشبو سا
ہر طرف تیرے مرے عشق کا چرچا ہوتا
حسیب بشر
