106
فلک کے رنگ زمیں پر اتارتا ہوا میں
تمام خلق کو حیرت سے مارتا ہوا میں
دو چار سانس میں جیتا ہوں ایک عرصے تک
ذرا سے وقت میں صدیاں گزارتا ہوا میں
جو میرے سامنے ہے اور دل و دماغ میں بھی
چہار سمت اسی کو پکارتا ہوا میں
مرے نقوش پہ کاری گری رکی ہوئی ہے
شکستہ چاک سے خود کو اتارتا ہوا میں
تمہاری جیت میں پنہاں ہے میری جیت کہیں
احمد خیال
