102
کیسا تارا ٹوٹا مجھ میں
جھانک رہی ہے دنیا مجھ میں
کوئی پرانا شہر ہے جس کا
کھلتا ہے دروازہ مجھ میں
دیا جلا کے چھوڑ گیا ہے
کوئی اپنا سایا مجھ میں
بند ہوئی جاتی ہیں آنکھیں
کیسا منظر جاگا مجھ میں
آوازیں دیتا ہے مجھ کو
کوئی میرؔ کے جیسا مجھ میں
کوئی مجھ کو ڈھونڈھنے والا
بھول گیا ہے رستہ مجھ میں
خالی تھی گلدان میں ٹہنی
کھلا ہوا تھا شعلہ مجھ میں
برس رہی تھی بارش باہر
اور وہ بھیگ رہا تھا مجھ میں
اڑتا رہتا ہے راتوں کو
قیصرکوئی پرندہ مجھ میں
نذیر قیصر
