304
شہر سے جب بھی کوئی شہر جدا ہوتا ھے
سارے نقشے پہ ہی کہرام بپا ہوتا ھے
روز اک باغ گزرتا ھے اِسی رستے سے
روز کشکول میں اک پھول گِرا ہوتا ھے
زخم اور پیڑ نے اک ساتھ دعا مانگی ھے
دیکھیے پہلے یہاں کون ہرا ہوتا ھے
ایک دوجے کو کبھی جان نہیں پائے ہم
میں نیا ہوتا ہوں،یا خواب نیا ہوتا ھے
میں سنا آیا ہوں کل رات اسے اپنی کتھا
جانے اب یار کی دیوار کا کیا ہوتا ھے
عابد ملک
