407
بڑے اصول بڑے ضابطے سے ملتا ہے
وہ جب بھی ملتا ہے اک فاصلے سے ملتا ہے
ترے خیال سے غزلیں کشید کرتا ہوں
ترا جمال مرے قافیے سے ملتا ہے
مرید بن کے عقیدت سے پیش آتا ہوں
مجھے جو شخص ترے واسطے سے ملتا ہے
کبھی جو ملتا تو بانہوں میں قید کر لیتا
ابھی ملے تو زرا فاصلے سے ملتا ہے
یہی بچا ہے تعلق بھی درمیاں اپنے
کہ تیرا رستہ مرے راستے سے ملتا ہے
دکاں کی جیسے کمائی مرمتوں میں لگے
مجھے خسارہ مرے فائدے سے ملتا ہے
لرزتے ہاتھ سے لکھا گیا سخن ہوں میں
مرا وجود کسی حاشیے سے ملتا ہے
جو سرمہ ڈال کر آتی ہے تیرے گھر میں کرن
اُسے وہ سرمہ مرے طاقچے سے ملتا ہے
نہیں ہے کوئی ضرورت کسی دوا کی مجھے
مجھے سکون مرے عارضے سے ملتا ہے
غزل سرائی کہاں سیکھنے سے آتی ہے
یہ وہ شعور ہے جو حادثے سے ملتا ہے
احمد آشنا
