106
ابو جی کے نام
کب سوچا تھا تم سے بچھڑیں
کب چاہا تھا تم کو چھوڑیں
خوں کی ہم یہ زنجیریں
اس جیون میں کیوں کر توڑیں
منزل تو ہماری بھی تھی وہی
ترا زادِ سفر کچھ کم ہی سہی
آنا ہے ہم کو پاس ترے
لیکن ہیں لمبے یہ رستے
یوں تم نے بدل لی رہ اپنی
اب ہم بھی ہمت ہار چلے
تم بن جینا کب سوچا تھا
تم تارا تھے، تم منزل تھے
تم بچھڑے تو ہم ٹوٹ گئے
تم نیّا تھے تم ساحل تھے
ہم تم بِن دیکھو ڈوب گئے
تم بِن وعدہ روپوش ہوئے
ہم کس کا اب رستہ دیکھیں ؟
تم اپنے ہو کے رُلاتے ہو
ہم اور کسی کو کیا جانیں
شازیہ اکبر
