102
بے یقینی تبھی ہے وعدے پر
میرا ایماں نہیں ہے دھوکے پر
یوں معانی سمجھ اذیت کے
اک نظر ڈال مسخ چہرے پر
بدقماشوں کو فکر لاحق ہے
داغ کوئی نہیں دوپٹے پر
ٹوٹ بھی جائے گا تو ناچے گا
ترس آتا ہے اک کھلونے پر
یاد آئیگا، مسکراتے تھے
جب لکیریں پڑیں گی چہرے پر
تحفے میں بددعائیں بھیجوں گی
میں تجھے ہر خوشی کے موقعے پر
موت پر شعر لازمی کہنا
کام آتا ہے اپنے کتبے پر
گرچہ منزل کو چھو کے آئی ہوں
خوش نہیں واپسی کے رستے پر
بندشیں ڈوبنے ابھرنے کی
اتنی پابندیاں جزیرے پر
زندگی کچھ خفا خفا سی ہے
شاعری اوڑھنے بچھونے پر
خود کو کتنی تسلیاں دیں تھیں
جی اچانک اچاٹ ہونے پر
چاہے جتنا بھی ہو خفا مجھ سے
مسکرا دے گا، پھر سے ملنے پر
شہلا خان
