111
کس طرح کی دل لگی یہ کس طرح کا پیار ہے
بے رخی بیگانگی انکار پر انکار ہے
آپ نے اب چھوڑنے کا فیصلہ جو کر لیا
کون ہوتے ہیں ہمیں کیا حجت و تکرار ہے
میں تو اک آوارہ پنچھی جس کا کوئی گھر نہیں
آپ کو تو زندگی میں مال و زر درکار ہے
درد دل کس سے بیاں کرتے ہمارا کون ہے
ہر کسی سے درد دل کہنا بھی تو بے کار ہے
آپ کی چاہ ہے کہ پہلے سا یقیں ہم پھر کریں
ٹوٹ کر پہلے سا شیشہ چھوڑنا دشوار ہے
تجھ سے واعظ ہے فقط اتنا گلہ ناچیز کو
تو سراپا علم ہے نہ صاحبِ کردار ہے
آپ کی یہ گفتگو یہ بات کرنے کا ہنر
حامی محفل میں رقیبوں کے لیے تلوار ہے
سردار حمادؔ منیر
