خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامسرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ
آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریرپیر انتظار حسین مصور

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

از سائیٹ ایڈمن اگست 9, 2026
از سائیٹ ایڈمن اگست 9, 2026 0 تبصرے 35 مناظر
36

​شہرِ لاہور کی چمکتی ہوئی سڑکوں اور بلند و بالا عمارتوں کی دلفریبی کے بالکل پیچھے، ایک بدبو دار گندے نالے کے کنارے پیوند لگے پرانے کپڑوں اور بوسیدہ ترپالوں کا بنا ہوا ایک خستہ حال خیمہ تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں نالے کے زہریلے پانی کا تعفن ہوا میں گھلا رہتا تھا، اور جہاں سے گزرتے ہوئے چمکتی گاڑیوں میں بیٹھے لوگ اپنے شیشے چڑھا لیا کرتے تھے۔

​اسی خستہ حال خیمے کی چھاؤں میں دو شادی شدہ بہنیں اپنے بچوں اور خاندان کے ساتھ رہتی تھیں۔ گھر میں نہ راشن کا ایک دانہ تھا اور نہ چولہا جلانے کی توفیق۔ نالے کے پاس اس کپڑے کے سائے تلے جب چھوٹے بچوں کا بھوک سے بلبلانا برداشت نہ ہوا، تو ان دونوں بہنوں نے غیرت کا دامن نہیں چھوڑا؛ وہ شہر کی بڑی سڑک کے کنارے بیٹھ کر چند روپے کی پینسلیں اور چھوٹی موٹی اشیاء بیچنے لگیں تاکہ شام کو بچوں کے لیے سوکھی روٹی کا انتظام ہو سکے۔

​ایک سرد شام، دونوں معمول کے مطابق فٹ پاتھ پر بیٹھی ہاتھ میں سرخ اور نیلی پینسلیں لہراتی جا رہی تھیں۔ اچانک سڑک کے کنارے ایک چمکتی ہوئی قیمتی گاڑی آ کر رکی۔ شیشہ نیچے ہوا اور ایک صاحبِ حیثیت شخص نے غصے اور نفرت سے بھری نظروں سے ان دونوں کی طرف دیکھا۔ یہ وہی شخص تھا جس کی کوٹھی میں گزشتہ رات چوری کی ایک بڑی واردات ہوئی تھی۔ اس نے ان عورتوں کا غربت زدہ حلیہ، پھٹے پرانے کپڑے اور بے بسی دیکھی اور ایک پل ضائع کیے بغیر موبائل نکال کر پولیس کو فون گھما دیا۔

​”انسپکٹر صاحب! میری کوٹھی میں چوری کرنے والی چور مل گئی ہیں۔ یہ سڑک پر پینسلیں بیچنے کا ڈھونگ رچا رہی ہیں۔ فوراً آ کر اٹھائیں انہیں!”

​چند ہی منٹوں میں سائرن بجاتی پولیس کی گاڑی آئی۔ بغیر کسی ثبوت، بغیر کسی قانونی تفتیش کے، محض ایک صاحبِ ثروت شخص کے ایک اشارے پر، پینسلیں بیچتی ہوئی ان دو ماؤں کو سڑک کے بیچوں بیچ سے زبردستی گاڑی میں پھینک دیا گیا۔

​بڑی بہن نے تڑپ کر التجا کی، "صاحب! خدا کا خوف کریں۔ ہم تو سڑک پر پینسلیں بیچ کر بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ نالے کے پاس ہمارا خستہ حال خیمہ ہے جہاں چھوٹے بچے بھوکے بیٹھے ہیں، ہم چور نہیں ہیں!”

​مگر قانون کا ڈنڈا امیر کے اشارے کا پابند تھا۔ تھانے کے لوہے کے بھاری دروازے بند ہو گئے اور قانون نے غریب کی صفائی سننے سے صاف انکار کر دیا۔

​گندے نالے کے پاس پرانے کپڑوں کے اس خیمے میں بچے رات بھر بھوک اور ماں کی ممتا کو پکارتے رہے۔ ان کے شوہر اور بوڑھا باپ تھانے کے چکر کاٹتے رہے، اپنے برتن اور کپڑے بیچ کر وکیل اور پولیس کی منتیں کرتے رہے، مگر غریب کی بات سننے والا کوئی نہ تھا۔

​صبح کی پہلی کرن کے ساتھ ہی، اینٹوں کی اس بے حس عمارت سے ایک سرد اور بے رحم پیغام آیا:

"تمہاری عورتوں کی حالت بگڑ گئی تھی… وہ اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔”

​خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی، لیکن مظلومیت کی داستانیں ابھی ختم نہیں ہوئی تھیں۔ ہسپتال ہی سے ان کی میتوں کو غسل دیا گیا اور پھر پولیس کی بھاری نفری اپنی نگرانی میں ان کی لاشوں کو ان کے دور دراز آبائی گاؤں لے گئی۔

​گاؤں پہنچ کر نہ رشتہ داروں کو بین کرنے کا موقع دیا گیا، نہ کوئی صف بچھی۔ پولیس کے سخت پہرے میں صرف چند لمحوں کے لیے لرزتے ہوئے باپ اور بچوں کو زبردستی صرف چہرہ دکھایا گیا، اور پھر قانون کے پہرے داروں نے زبردستی اپنی ہی نگرانی میں دونوں کو مٹی تلے دفن کروا دیا۔ جیسے لاشیں نہیں، بلکہ اپنے ہی کیے گئے ظلم کے ثبوت دفنائے جا رہے ہوں۔

​کچھ دن بعد، جب پولیس کی ٹیم اس بدبو دار نالے کے پاس سے پرانے کپڑوں سے بنا وہ خستہ حال خیمہ اکھاڑنے آئی، تو نیچے مٹی میں ایک ٹوٹا ہوا ڈبہ اور دو سرخ پینسلیں پڑی ملیں۔

​اس غریب شوہر نے وہ پینسلیں اٹھائیں، اپنے روتے ہوئے بچے کے لرزتے ہاتھوں میں دیں اور بوجھل، ویران لہجے میں کہا:

​”بیٹا! اس شہر میں غریب ہونا ہی سب سے بڑا جرم اور چوری ہے۔ تمہاری ماؤں کا قصور یہ تھا کہ وہ چور نہیں تھیں… کاش وہ اس ظالم نظام کی آنکھوں میں لگی قانون کی پٹی کو پڑھ سکتیں!”

​شہر کی بڑی سڑکوں پر چمکتی گاڑیاں ویسے ہی دوڑ رہی تھیں، اور گندے نالے کا بدبو دار پانی خاموشی سے بہتا رہا—جیسے اس نے غریب کی آبرو، اس کے خواب اور خون سب کچھ اپنے اندر نگل لیا ہو۔

​نوٹ: یہ ایک اصلاحی اور فرضی افسانوی تحریر ہے جس کا مقصد معاشرتی ناہمواری، بے حسی اور غریب کے ساتھ ہونے والے رویوں کی عکاسی کرنا ہے۔ اس کا کسی حقیقی فرد یا ادارے سے کوئی تعلق نہیں۔

پیر انتظار حسین مصور

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تعلیمی پالیسیوں میں عدم تسلسل کا نقصان
  • ہماری تہذیب اور مرحوم عامر
  • توبۃ النصوح – فصل ششم
  • جو اب بھی نہ تکلیف فرمائیے گا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ڈاکٹر سلمان علی صاحب
پچھلی پوسٹ
گلہ اگر کوئی تھا عندلیب سے

متعلقہ پوسٹس

کتاب بازار

جون 5, 2024

ہم رہے چپ چپ ہماری بے زبانی

فروری 8, 2026

برطانیہ کا فلسطین کو تسلیم کرنا

ستمبر 24, 2025

آرزو

مئی 20, 2020

خود کی پہچان

جنوری 24, 2020

کتبہ

دسمبر 6, 2019

ستاروں تلے

دسمبر 7, 2024

گاؤں کی رانی​

دسمبر 12, 2019

ان کا کیا مقابلہ

جنوری 24, 2020

کھجور ٹانک، دوا اور غذا

اکتوبر 19, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تفسیری مناہج

جنوری 17, 2026

ٹیکنالوجی کی ترقی

نومبر 8, 2025

ڈیجیٹل معیشت اور فری لانسنگ

اکتوبر 29, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں