خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامسرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ
آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریرپیر انتظار حسین مصور

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

از سائیٹ ایڈمن اگست 9, 2026
از سائیٹ ایڈمن اگست 9, 2026 0 تبصرے 60 مناظر
61

​شہرِ لاہور کی چمکتی ہوئی سڑکوں اور بلند و بالا عمارتوں کی دلفریبی کے بالکل پیچھے، ایک بدبو دار گندے نالے کے کنارے پیوند لگے پرانے کپڑوں اور بوسیدہ ترپالوں کا بنا ہوا ایک خستہ حال خیمہ تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں نالے کے زہریلے پانی کا تعفن ہوا میں گھلا رہتا تھا، اور جہاں سے گزرتے ہوئے چمکتی گاڑیوں میں بیٹھے لوگ اپنے شیشے چڑھا لیا کرتے تھے۔

​اسی خستہ حال خیمے کی چھاؤں میں دو شادی شدہ بہنیں اپنے بچوں اور خاندان کے ساتھ رہتی تھیں۔ گھر میں نہ راشن کا ایک دانہ تھا اور نہ چولہا جلانے کی توفیق۔ نالے کے پاس اس کپڑے کے سائے تلے جب چھوٹے بچوں کا بھوک سے بلبلانا برداشت نہ ہوا، تو ان دونوں بہنوں نے غیرت کا دامن نہیں چھوڑا؛ وہ شہر کی بڑی سڑک کے کنارے بیٹھ کر چند روپے کی پینسلیں اور چھوٹی موٹی اشیاء بیچنے لگیں تاکہ شام کو بچوں کے لیے سوکھی روٹی کا انتظام ہو سکے۔

​ایک سرد شام، دونوں معمول کے مطابق فٹ پاتھ پر بیٹھی ہاتھ میں سرخ اور نیلی پینسلیں لہراتی جا رہی تھیں۔ اچانک سڑک کے کنارے ایک چمکتی ہوئی قیمتی گاڑی آ کر رکی۔ شیشہ نیچے ہوا اور ایک صاحبِ حیثیت شخص نے غصے اور نفرت سے بھری نظروں سے ان دونوں کی طرف دیکھا۔ یہ وہی شخص تھا جس کی کوٹھی میں گزشتہ رات چوری کی ایک بڑی واردات ہوئی تھی۔ اس نے ان عورتوں کا غربت زدہ حلیہ، پھٹے پرانے کپڑے اور بے بسی دیکھی اور ایک پل ضائع کیے بغیر موبائل نکال کر پولیس کو فون گھما دیا۔

​”انسپکٹر صاحب! میری کوٹھی میں چوری کرنے والی چور مل گئی ہیں۔ یہ سڑک پر پینسلیں بیچنے کا ڈھونگ رچا رہی ہیں۔ فوراً آ کر اٹھائیں انہیں!”

​چند ہی منٹوں میں سائرن بجاتی پولیس کی گاڑی آئی۔ بغیر کسی ثبوت، بغیر کسی قانونی تفتیش کے، محض ایک صاحبِ ثروت شخص کے ایک اشارے پر، پینسلیں بیچتی ہوئی ان دو ماؤں کو سڑک کے بیچوں بیچ سے زبردستی گاڑی میں پھینک دیا گیا۔

​بڑی بہن نے تڑپ کر التجا کی، "صاحب! خدا کا خوف کریں۔ ہم تو سڑک پر پینسلیں بیچ کر بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ نالے کے پاس ہمارا خستہ حال خیمہ ہے جہاں چھوٹے بچے بھوکے بیٹھے ہیں، ہم چور نہیں ہیں!”

​مگر قانون کا ڈنڈا امیر کے اشارے کا پابند تھا۔ تھانے کے لوہے کے بھاری دروازے بند ہو گئے اور قانون نے غریب کی صفائی سننے سے صاف انکار کر دیا۔

​گندے نالے کے پاس پرانے کپڑوں کے اس خیمے میں بچے رات بھر بھوک اور ماں کی ممتا کو پکارتے رہے۔ ان کے شوہر اور بوڑھا باپ تھانے کے چکر کاٹتے رہے، اپنے برتن اور کپڑے بیچ کر وکیل اور پولیس کی منتیں کرتے رہے، مگر غریب کی بات سننے والا کوئی نہ تھا۔

​صبح کی پہلی کرن کے ساتھ ہی، اینٹوں کی اس بے حس عمارت سے ایک سرد اور بے رحم پیغام آیا:

"تمہاری عورتوں کی حالت بگڑ گئی تھی… وہ اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔”

​خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی، لیکن مظلومیت کی داستانیں ابھی ختم نہیں ہوئی تھیں۔ ہسپتال ہی سے ان کی میتوں کو غسل دیا گیا اور پھر پولیس کی بھاری نفری اپنی نگرانی میں ان کی لاشوں کو ان کے دور دراز آبائی گاؤں لے گئی۔

​گاؤں پہنچ کر نہ رشتہ داروں کو بین کرنے کا موقع دیا گیا، نہ کوئی صف بچھی۔ پولیس کے سخت پہرے میں صرف چند لمحوں کے لیے لرزتے ہوئے باپ اور بچوں کو زبردستی صرف چہرہ دکھایا گیا، اور پھر قانون کے پہرے داروں نے زبردستی اپنی ہی نگرانی میں دونوں کو مٹی تلے دفن کروا دیا۔ جیسے لاشیں نہیں، بلکہ اپنے ہی کیے گئے ظلم کے ثبوت دفنائے جا رہے ہوں۔

​کچھ دن بعد، جب پولیس کی ٹیم اس بدبو دار نالے کے پاس سے پرانے کپڑوں سے بنا وہ خستہ حال خیمہ اکھاڑنے آئی، تو نیچے مٹی میں ایک ٹوٹا ہوا ڈبہ اور دو سرخ پینسلیں پڑی ملیں۔

​اس غریب شوہر نے وہ پینسلیں اٹھائیں، اپنے روتے ہوئے بچے کے لرزتے ہاتھوں میں دیں اور بوجھل، ویران لہجے میں کہا:

​”بیٹا! اس شہر میں غریب ہونا ہی سب سے بڑا جرم اور چوری ہے۔ تمہاری ماؤں کا قصور یہ تھا کہ وہ چور نہیں تھیں… کاش وہ اس ظالم نظام کی آنکھوں میں لگی قانون کی پٹی کو پڑھ سکتیں!”

​شہر کی بڑی سڑکوں پر چمکتی گاڑیاں ویسے ہی دوڑ رہی تھیں، اور گندے نالے کا بدبو دار پانی خاموشی سے بہتا رہا—جیسے اس نے غریب کی آبرو، اس کے خواب اور خون سب کچھ اپنے اندر نگل لیا ہو۔

​نوٹ: یہ ایک اصلاحی اور فرضی افسانوی تحریر ہے جس کا مقصد معاشرتی ناہمواری، بے حسی اور غریب کے ساتھ ہونے والے رویوں کی عکاسی کرنا ہے۔ اس کا کسی حقیقی فرد یا ادارے سے کوئی تعلق نہیں۔

پیر انتظار حسین مصور

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • فضائل صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ
  • جھوٹا ہے جانتا ہوں مگر اس کے باوجود
  • مجھے وہاں جانا ہے
  • یقیناً کچھ بڑے عشاق کے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ڈاکٹر سلمان علی صاحب
پچھلی پوسٹ
گلہ اگر کوئی تھا عندلیب سے

متعلقہ پوسٹس

مل ناں سکا یہ بات الگ چاہیے تو تھا

اکتوبر 1, 2026

مشکل کو ذرا چھوڑ کے آسان کے بارے

فروری 20, 2026

بہار میں نقاب ہٹانے کا واقعہ اور عالمی ردعمل

دسمبر 18, 2025

بزمِ نشاطِ خاص میں ان کا وقار، زین

اپریل 6, 2026

پاک چائنہ اقتصادی راہداری

اپریل 14, 2020

آغاز آفرینش

جنوری 16, 2026

مکتوب چترالی بنام اقبال

نومبر 9, 2025

اے دل تیرے فسانے

فروری 3, 2020

گنڈاسا

مئی 15, 2017

کھجور ٹانک، دوا اور غذا

اکتوبر 19, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کسٹم کا مشاعرہ

دسمبر 14, 2019

نہ جسم تیرا ۔ نہ مرضی...

مارچ 9, 2020

عجب ٹریک پرستوں سے واسطہ تھا...

جون 3, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں