خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباپاک چائنہ اقتصادی راہداری
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد خان لودھی

پاک چائنہ اقتصادی راہداری

عابد خان لودھی کا ایک اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن اپریل 14, 2020
از سائیٹ ایڈمن اپریل 14, 2020 0 تبصرے 470 مناظر
471

پاک چائنہ اقتصادی راہداری

پاکستان کو قدرتی طور پر ملا جغرافیائی محل وقوع اس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ کہ پاکستان پوری دنیا کی تیل گیس زراعت صنعتی اور معدنی پیداوار اور بیرونی منڈیوں کے درمیان پل بن سکتا ہے۔ اس قدرتی محل وقوع کی اہمیت و افادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے۔ پاکستان اور چین نے مل کر پاک چین راہداری منصوبہ بنانے کا فیصلہ کیا۔جو کاشغر سے شروع ہو کر گلگت،بلتستان اور خیبر پختون خواہ سے ہو کر بلوچستان سے گذرے گا۔

واضح رہے کہ پاک چائنہ اقتصادی راہداری کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا معاشی منصوبہ ہے۔ یہ ہزاروں کلو میٹر ریلویز،موٹر ویز لوجسٹک سائٹس اور بندر گا ہوں کا ایک مربوط نظام ہے۔ چین یومیہ 100.12لاکھ بیرل تیل بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے۔ جس کا کل سفر 13595کلو میٹر بنتا ہے۔ جبکہ یہی سفر سی پیک کی تکمیل کے بعد سمٹ کاشغر سے گوادر تقریباً 3 ہزار کلو میٹر رہ جائے گا۔اور چینی بندر گاہ mawei port تک یہ 4146کلو میٹر بنتا ہے۔۔جس کے باعث چین کو تیل کی سالانہ درآمدات پر 33ارب ڈالر کی بچت ہو گی۔جبکہ پاکستان تیل کی راہداری کی مد میں 7.5ارب ڈالر وصول کرے گا۔سی پیک صرف چین کے لئے نہیں بلکہ روس کے لئے بھی انتہائی سود مند ہے۔ کیونکہ وہ بھی اپنی تجارت اسی راستے سے کرنا چاہتا ہے۔

اس کے لئے روس کے پاس صرف دو ہی راستے ہیں۔ ایک ایران کی چاہ مار بندر گاہ ہے, وسطی ایشیا کی اور دنیا کی تیسری بڑی بندر گاہ گوادر ہے۔ وسطی ایشیاء کی ریاستیں دنیا کا دوسرا سب سے بڑا تیل اور گیس کا ذخیرہ رکھتی ہیں۔ جن کو وہ ان ممالک تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ روس اور وسطی ایشیاء ممالک گوادر کی بدولت بہت جلد پاکستان پر انخصار کریں گئے۔ ایک اندازے کے مطابق 80ہزار ٹرک روزانہ چین،روس اور وسطی ایشیاء کے ممالک سے گوادر کی طرف آمدورفت کریں گے۔ پاکستان کو صرف ٹول پلازے کی مد میں 20سے 25ارب کی بچت ہو گی۔ سی پیک منصوبوں کا پہلا مرحلہ 2017کے آخر یا 2018کے آغاز میں مکمل ہو جائے گا۔ جبکہ دوسرے مرحلے کے منصوبے2020اور تیسرے مرحلے کے پراجیکٹ 2030تک مکمل ہو جائیں گے۔ تاہم سی پیک منصوبے کے ثمرات پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد پاکستانی عوام تک ملنے شروع ہو جائیں گے۔

سی پیک منصوبے کے وقت گوادر پورٹ میں توسیع و اپ گریڈیشن گوادر شہر میں ائیر پورٹ سمیت بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی،انڈسٹریل پارک کا قیام، مغربی اور مشرقی روٹس پر گوادر سے لے کر چینی سرحد تک موٹر وے نیٹ ورک، بڑے شہروں کے لئے رابطہ سڑکیں، ریلوے ٹریکس میں توسیع و انقلابی اپ گریڈیشن اور تیل کی پائپ لائنز شامل ہیں۔ ان منصوبوں سے لا محالہ متعلقہ علاقوں میں معاشی و اقتصادی اثرات مرتب ہو ں گے۔ سرمایہ کاری اور انفرا سٹرکچر کی تعمیر ان علاقوں میں صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور ترقی کے نئے دور کے آغاز کا سنگ میل ثابت ہو ں گے۔ غربت کے خاتمے کے لئے یہ مواقع لاکھوں خاندانون کو غربت کی بیڑیوں سے آذاد کر سکیں گئے۔ اگر تمام منصوبے پروگرام کے مطابق مکمل ہو گے تو زیادہ تر علاقوں میں کاروبار صنعت اور تجارت کا روائیتی انداز طرز ہمیشہ کے لئے بدل جائے گا۔ سی پیک کا اصل مقصد اہم یورپی اور ایشیائی معیشتوں کو انفراسٹرکچر،تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعے ایک دوسرے سے مربوط کرنا ہے۔

اس منصوبے کے تحت دو طرح کے عالمی رابطے قائم کرنا مقصود ہے۔ ایک جانب سلک روڈ کے ذریعے اقتصادی رابطہ یعنی سلک روڈ اکنامک روڈ جبکہ دوسری جانب زمینی راستے کے منصوبوں میں سڑکیں، ریلوے ٹریکس، پل اورگیس پائپ لائنز اور اس سے منسلک کئی دیگر منصوبے ہیں۔ جن کے ذریعے وسطی چین کے علاقے زن جیانگ کو ابتداء میں وسطی ایشیاء سے مربوط کرنے کا پلان ہے۔ بعد میں اس انفرا سٹرکچر کو پھیلا کر روس کے شہر ماسکو، ہالینڈ کے شہر روٹر ڈیم اور اٹلی کے شہر وینس تک لے جانے کا ارادہ ہے۔ ان منصوبوں کے لئے ایک خاص سڑک کی بجائے اس بیلٹ یا کوریڈور کو پہلے سے موجود زمینی راستوں یعنی سڑکوں اور پلوں کے ساتھ جوڑا جائے گا۔ یوں چین، منگولیا، روس،وسطی چین اور مغربی ایشیاء، انڈو چائنہ کا علاقہ، پاکستان، بنگلہ دیش، انڈیا اور میانمار کو آپس میں لانے کی بنیاد رکھ دی جائے گی۔ دوسری طرف سمندری نیٹ ورک کے ذریعے بندرگاہوں اور سمندری ساحلی علاقوں میں انفراسٹرکچر منصوبوں کو زمینی راستوں سے مربوط کرنے کا پروگرام ہے۔ تا کہ جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیاء سے لے کر مشرقی افریقہ تک اور بحیرہ قلزم تک تجارتی راستوں کا وسیع اور مربوط نظام قائم کر دیا جائے۔cpec اس منصوبے میں 65ملکوں کی شمولیت متوقع ہے۔آبادی کے اعتبار سے دیکھیں تو ساڑھے چار ارب افراد اس سے مستفید ہوں گے۔ ان ممالک اور آبادی کی مجموعی قومی آمدنی کو جوڑ لیں تو یہ عالمی GDPکا چالیس فی صد بنتا ہے۔اس وسیع و عریض منصوبے کے لئے وسائل کی فراہمی کی ذمہ داری چین نے اُٹھا ئی ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے لئے چین نے نیو سلک روڈ فنڈ کے نام سے 40ارب ڈالرمختص کئے ہیں۔اس فنڈ کے لئے چین اپنے زر مبادلہ کا کچھ حصہ صرف کرے گا۔

جبکہ حکومت کے دیگر سرکاری اور مالیاتی ادارے بقیہ وسائل فراہم کریں گے۔ اس فنڈ کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سرمایہ کاری بھی متوقع ہے۔اس کے علاوہ حال ہی میں قائم ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بنک مذید ایک سو ارب ڈالر کے قرضے فراہم کرے گا۔ انفراسٹرکچر کے ان منصوبوں سے منسلک نو سو سے زائد صنعتی اور تجارتی منصوبوں کے لئے چائنہ ڈویلپمنٹ بنک نو سو ارب ڈالر کے وسائل فراہم کرے گا۔ یوں اپنی وضع اور نوعیت کے اعتبار سے یہ ایک منفرد اور کئی ملکوں کے درمیان مربوط منصو بہ ہے ا ب اگر پاکستان کی بات کی جائے۔ تو سی پیک منصوبے کی صورت میں پاکستان کے لئے انتہائی نادر اور سنہری موقع ہے۔ کہ اس سے اپنے بہترین معاشی مفاد ات اور متناسب علاقائی ترقی کے مطابق اس سے فائدہ اُٹھائے۔ خیبر پختونخواہ اور گلگت بلتستان براہِ راست اس منصوبے کا حصہ ہو ں گے جبکہ دوسرے صوبے روڈ نیٹ ورک کے ذریعے منسلک ہو نگے۔ منصوبوں کی تیاری میں مقامی صنعتوں کی شمولیت مقامی لیبر اور افرادی قوت کی کھپت سمیت بہت سے حساس اور دور رس اہمیت کے معاملا ت اس پراجیکٹ کے حصول میں اہم کردار ادا کریں گے۔ بین الاقوامی اداروں کے مطابق سی پیک کے ذریعے 150ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اس میگا منصوبے کے ذریعے رابطوں کو بڑھانے سے پاکستان کو تجارتی مواقع میسر ہوں گے اور دنیا کی 70فی صد سمندری تجارت پاکستان میں دو بڑی بندر گاہوں کراچی اور گوادر کے ذریعے ہو گی۔

گوادر متحدہ عرب امارات، خلیجی ممالک، سعودی عرب اور ملحقہ خطوں کے ساتھ درآمدات اور برآمدات کا بہترین اور تیز ترین ذریعہ بن جائے گا۔ مختصر یہ کہ سی پیک کے ذریعے پاکستان دنیا میں ایک مستحکم اقتصادی قوت کا حامل ملک بن کر ابھرے گا۔ اسی وجہ سے پاکستان مخالف طاقتوں اور گروہوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں۔ جو کہ پاکستان کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتیں۔جب کہ سی پیک منصوبے پر سب سے زیادہ مخاصمت بھارت کو ہے۔جس نے سی پیک منصوبے کی ابتداء سے ہی سازشوں کا جال بُننا شروع کر دیا تھا۔ بلوچستان میں بد امنی اور علیحدگی پسند تحریکیں کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ، بارڈر پر سر جیکل اسٹرائیک کا ڈھونگ رچائے سمیت دیگر ہتھکنڈے اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی گھناؤنی سازش ہے۔ بھارت اس منصوبے کو روکنے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ مختلف صوبوں میں سی پیک کی مخالفت میں اُٹھنے والی انتہائی خفیف آوازوں کے پیچھے بھی بھارت کا مکروہ چہرہ نمایاں ہے۔واضع رہے کہ مختلف سیاسی اور قوم پرست جماعتیں سی پیک کے خلاف آوازیں بلند کر رہی ہیں۔جس کے لئے وفاق اور عسکری قیادت کو چاہیئے کہ انہیں آن بورڈ لے کر ان کے جائز مطالبات کو پورا کریں۔ مگر تمام سیاسی اور قوم پرست جماعتون کو چاہیئے کہ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد۔ سا لمیت اور خوشحالی کے ذریعے اس عظیم منصوبے کے خلاف صرف اپنے ذاتی مفاد ات کے لئے ہرزہ سرائی سے گریز کریں۔ پاکستان کی ترقی و سا لمیت اور خوشحالی کے ضامن سی پیک منصوبے کی تکمیل کے لئے قوم کا ہر فرد خواہ اس کی وابستگی کسی بھی سیاسی جماعت سے ہے۔ یا کسی بھی علاقے یا قوم سے ہے کو چاہیئے کہ مل کر ملک کی ترقی میں حائل رکاوٹوں کو مشترکہ جدو جہد کر کے اس عظیم ترین منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچاکر ترقی کے نہ ختم ہونے والے سفر پر گامزن کریں۔

عابد خان لودھی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سفر نامہ بھارت – تیسری قسط
  • اعصاب پر گھوڑا ہے سوار
  • ہے کسی اور ہی مٹی پہ کفِ پا میرا
  • توبۃ النصوح – فصل ہفتم
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
فاخرہ بتول – تعارف
پچھلی پوسٹ
کسی کی بات کے زیرِ اثر نہیں آیا

متعلقہ پوسٹس

فیڈ آؤٹ فیڈاِن

جنوری 2, 2022

عشق و عاجزی کا ڈھب ہے

مئی 29, 2024

فسوں گر لمحہ

نومبر 6, 2020

سنو اے شاہِ دل میرے

فروری 21, 2021

ہلچل

مئی 11, 2020

طمانچہ

نومبر 29, 2019

شہزاد نیر ایک آفاقی شاعر

جنوری 21, 2020

شعور بہت بڑی نعمت ھے

اگست 22, 2025

حد درجہ تیرا معاملہ

مارچ 4, 2025

عاداتاً ہم تو وفا کرتے ہیں

دسمبر 12, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

فسوں گر لمحہ

نومبر 6, 2020

اب زمانوں سے ہٹ کے بات...

مئی 14, 2024

چلتے ہو تو سوات کو چلئے

مارچ 2, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں