خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامپاکستان کی آزادی میں مکالمے کی اہمیت
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

پاکستان کی آزادی میں مکالمے کی اہمیت

از سائیٹ ایڈمن اگست 13, 2026
از سائیٹ ایڈمن اگست 13, 2026 0 تبصرے 4 مناظر
5

الحمداللہ! ہم پاکستانی ہر سال پاکستان کے وجود میں آنے کا جشن پچھلے سال سے زیادہ بڑھ چڑھ کر مناتے ہیں۔پاکستان کے لئے دی گئی قربانیوں کا بڑھ چڑھ کر تذکرہ کرتے ہیں اور ان قربانیوں کوخراج عقیدت پیش کرنے کیساتھ شکریہ بھی کرتے ہیں۔ سماجی ابلاغ پر ملک سے محبت کیے ایسے مظاہرے کرتے ہیں کہ دنیا دنگ رہ جاتی ہے اور انہیں بطور حب الوطنی کے ثبوت پر پیش کرتے ہیں۔ لفظ آزادیpakistan اپنے اندرکس قدر خوبصورتی اور رعنائی چھپائے ہوئے ہے اس کا صحیح اندازہ وہی لگا سکتا ہے جس نے غلامی کی صعوبتیں جھیلی ہوں۔ ہم یہاں اس کی ذرا مختلف وضاحت کر لیتے ہیں، انسان اپنے نفس کی غلامی سے آزاد ہوکر ہی اپنے خالق کی حقیقی قرب کا حقدار کہلانے کے لائق ہوتا ہے۔ دیکھا جائے تو حقیقی آزادی اسے ہی کہا جاسکتا ہے جہاں نا زندگی میں کوئی سزا ر ہے اور ناہی دارِ فانی سے کوچ کرنے کا غم ستاتا ہے بلکہ دوسرے جہاں کا سدھر جانے کا یقین بھی آنے لگتا ہے۔

معاشرہ ایک زبان بولتا ہے، ایک سمت میں سوچتا ہے اور اپنی اجتماعی منزل کا تعین کرتا ہے یعنی حقیقی ترقی اتحاد کے مرہون منت ہوتی ہے۔ہمارے لئے پاکستان کی تحریک آزادی سے بڑا کوئی سبق یکجہتی اور یگانگت کی مثال نہیں ہوسکتا جہاں مسائل مختلف تھے، عقائد مختلف تھے، زبانیں مختلف تھیں، علاقے مختلف تھے لیکن نظریہ ایک تھا اور وہ تھا آزادی کا حصول۔ سب نے سب کچھ بالائے تاق رکھ چھوڑا تھا اور صرف نظریہ کی تکمیل کیلئے سرپر کفن باندھ کر نکل کھڑے ہوئے۔سب نے آزادی تک کسی اور معاملے پر دھیان نا دینے کا مصمم ارادہ کرلیا تھاجس کی تکمیل کیلئے نا مال کی فکر کی، ناجان کی فکر لاحق ہوئی، عزت و آبروبھی لٹا دی گئی،اللہ رب العزت نے اس تحریک کو مقبول کیا اور ہمیں آزادی کی نعمت سے نوازا گیا۔یہ آزادی اپنے آپ میں کسی نعمت سے کم نہیں،ساتھ ہی ایسا خطہ زمین نوازا گیا جو معدنی ذخائر سے مالا مال تھا اورزرخیز تھا۔

پاکستان کا وجود میں آنا انسانی جدوجہد کی تاریخ میں سنہری باب کا اضافہ تھا اور اس تحریک کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہ ایک نظریاتی تحریک تھی جس کی بنیاد دو قومی نظریہ تھا۔ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوں کی سب سے بڑی ہجرت تھی لیکن اس ہجرت میں انسانی جانوں کا بہت بڑا نقصان ہوا، جہاں سوگ زدہ ماحول تھا لیکن خوشی اس بات کی تھی کہ پاکستان بن چکا ہے۔ اس بات کو لکھنے کی ہمت نہیں ہورہی کہ تحریک پاکستان اور اس کے عوامل پاکستان بنتے ہی بکھر گئے، سانحہ کی شدت اتنی شدید تھی کہ لوگوں کا جذبہ بوجھل ہوکر رہ گیااور پھر کبھی بھی سنبھل ہی نہیں سکا۔ زمین کی تقسیم کے ساتھ ہی شائد ہم لوگ بھی تقسیم ہوگئے۔اس تقسیم کا نقصان یہ ہوا کہ سب اپنے اپنے مفاد کی چھتری میں چھپ کر بیٹھ گئے اور اتنا طویل بیٹھنا پڑا کہ پاکستان کے حالات ہی بدل کر رہ گئے۔ دشمن نے پہلے دن سے ہی سازشوں کا جال بننا شروع کردیا اور ہم جانے انجانے اس جال میں پھنستے چلے گئے۔ہم نے دشمن کے ہر ہر ظاہر ی حملے کا بھرپور جواب دیا اور ایسی کاری ضرب لگائیں کہ اس کے ہوش ٹھکانے آگئے لیکن دشمن نے چین سے نا بیٹھنے کی ٹھانی ہوئی تھی اس نے ہمیں مستحکم نا ہونے دینے کی ہر ممکن کوشش کی اور وہ اس میں کسی حد کامیاب بھی رہا۔ ہمارے دفاعی اور عسکری ادارے دشمن کی ہر سازش کا منہ توڑ جواب دیتے رہے ہیں ہماری آزادی کی حفاظت اپنی قیمتی جانوں کا نظرانہ پیش کر کے تاحال کررہے ہیں۔

آج جب ہم اناسیواں (۹۷) جشن آزادی منا رہے ہیں تو آج بھی ہم داخلی اور خارجی سازشوں کی زد میں ہیں، ہم بیک وقت کئی محاذوں پر حالاتِ جنگ میں ہیں۔ ہم نے سماجی ابلاغ کا سہارا لے کر مسائل کو اجاگر کرنا تو سیکھ لیا ہے لیکن ہم حقائق سے پردہ پوشی کر بیٹھے ہیں، آزادی کیلئے دی گئی قربانیوں کو پس پشت چھوڑ آئے ہیں۔تحریک آزادی باقاعدہ کسی میدانِ جنگ میں نہیں لڑی گئی تھی۔تحریک آزادی کے رہنماؤں نے بندوق نہیں اٹھائی ہوئی تھی یہ وہ عظیم لوگ تھے کہ جنہوں نے مکالمے سے عوام تک رسائی حاصل کی تھی ان کا اصل ہتھیار انکی فہم و فراست تھی، معاملہ فہمی تھی۔ ان لوگوں نے یکسوئی کیساتھ اپنی گفتگو سے اپنے قلم سے رائے عامہ ہموار کی اور تحریک کا پیغام ہندوستان کے کونے کونے تک پہنچایا۔آج پاکستان میں پہلی بد نظمی اس بات کا تقاضہ کر رہی ہے کہ مکالمے کو آزاد کیا جائے اور سوچ بچار کرنے والے لوگوں کو پاکستان کی اہمیت کو سمجھنے والے لوگوں کو سامنے لایا جائے تعلیمی اداروں میں طالبعلموں سے مکالمہ کیا جائے اور ویسے ہی رائے عامہ کو ہموار کیا جائے، آزادی کی حقیقت سے آگاہ کیا جائے۔ آج جو کچھ فلسطین میں ہو رہا ہے اس پر آپسی بات چیت کی جائے اور حقیقتوں سے پردہ اٹھایا جائے۔ نئی نسل پر واضح کریں کہ پاکستان ہمارا ملک ہے ہم مسائل کو مل بیٹھ کر بات کر کے حل کرنا چاہتے ہیں۔ آزادی کے جشن کے ساتھ ہر فرد وطن سے حقیقی محبت کا ایک عہد خود سے کرے جو ملک و ملت کی حقیقی تعمیر کا سبب بنے۔

ہر قسم کے امتیاز کوپسِ پشت رکھ دیجئے بلکہ دفن کردیجئے اور مکالمے کو عام کیجئے ہر مسلئے کا حل نکل سکتا ہے ہر مشکل کو آسان کیا جاسکتا ہے اپنے ہر دشمن کو زیر کیا جاسکتا ہے اگر ہم سب ایک نظرئیے پر کاربند ہوجائیں۔تعلیم یافتہ اور مہذب قومیں مکالمے کی بنیاد پر اپنی نسلوں کی پرورش کرتی ہیں۔ آج ہمارہ معاشرہ اخلاقی پاسماندگی کے درپہ ہے، لوگ بے حسی کی منہ بولتی تصویر بنتے جارہے ہیں، ہم ایک نوجوان کی موت کا معمہ حل نہیں کر پارہے۔ معاشرے میں ہیجانی کیفیات بڑھتی جارہی ہیں، برداشت نایاب ہوتی جارہی ہے۔ آج میرے کانوں میں حضرت جون ایلیاء کا کہا گیا وہ جملہ گونج رہا ہے کہ ہم بونوں کے معاشرے میں رہتے ہیں، چلیں حضرت جون کو غلط ثابت کریں اور قدآور قوم بنیں، حقیقت میں ہم قدآور ہی ہیں لیکن اپنی اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو چھپاتے چھپاتے بونے ہوگئے ہیں۔ہماری اقدار،ہمارے اسلاف ہم سے بونوں کے معاشرے کی قطعی توقع نہیں رکھتے تھے، وہ خودکتنے قدآور تھے یہ پاکستان کی صورت میں ہم پر واضح کیا کہ اپنے کئی گناطاقتور مخالفین کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔آج ہماری نوجوان نسل جس نے خود کو دشمن کیلئے تر نوالہ بنالیا ہے، ہم اپنی دنیا ہی نہیں دائمی زندگی بھی خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ مکالمے کو فروغ ملے گا تو برداشت بڑھے گی اور زندگی جو روٹھی ہوئی ہے،لوٹ آئے گی۔

ہم سوچ ہی نہیں رہے کہ آج معاشرے میں خودکشیوں کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے،مایوسیاں ہمارے نوجوانوں کو کیوں نگل رہی ہیں، نشے کا سہارا کیوں لیا جارہا ہے، ہم کیوں ایک دوسرے کو مارنے مرنے کیلئے تیار ہیں، یہ بدعنوانیوں کے الزامات کب تک یونہی ثابت نہیں ہوں گے، انصاف کی بلند و بالا عمارتوں میں انصاف کب ہوگا، کوئی بات نہیں کر رہا کوئی مسائل دور کرنا تو دور ان پر بات نہیں کررہا۔ سماجی ابلاغ اور مصنوعی ذہانت ہم جیسی قوموں کو مزید پستی میں دھکیلنے کی سازشیں ہیں۔پاکستان کی ہر جشن آزادی ہم سے یہی سوال کرتی ہے کہ کیا پاکستان کیلئے دی جانے والی قربانیاں اتنی حقیر ہیں کہ ہم ایک دوسرے سے مکالمہ تک نہیں کرسکتے۔یقین جانئیے آزادی کا حقیقی احساس اسی وقت ہوگا جب مکالمے کو آزادی ملے گی۔ پاکستان کا نوجوان اپنے آباؤ اجداد کے اقدار کا صحیح ترجمان مکالمے سے ہی تیار کیا جاسکتا ہے۔ تمام اہل وطن کوآزادی کے ساتھ آزاد ہوامیں سانس لینے کی دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ اللہ پاکستان کو ہمیشہ شاد و آباد رکھے تاقیامت رکھے۔آمین یا رب العالمین

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • یادوں میں تمہاری رہتا ہوں
  • دلکش لگیں جناب، بلوچی لباس میں
  • نیکی و امانت
  • علمیت اور ذکاوت کے مقابلے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
گلہ اگر کوئی تھا عندلیب سے
پچھلی پوسٹ
جشن آزادی کی شرعی حیثیت

متعلقہ پوسٹس

ہتّک

نومبر 15, 2019

چاندی

جنوری 19, 2023

مریم مختیار

نومبر 25, 2025

بچوں پر تشدد ایک معاشرتی المیہ

جون 19, 2020

بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

جنوری 28, 2026

منتر

مارچ 13, 2013

جنتی بیوی

نومبر 25, 2025

چڑیا گھر والے جانور

جنوری 12, 2022

پراسرار ملاقات

دسمبر 22, 2024

پشاور کی عظمتِ رفتہ کی بحالی کا منصوبہ

نومبر 26, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • میں مقتول قاتل ہوں

    اگست 19, 2026
  • مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال

    اگست 19, 2026
  • میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف

    اگست 19, 2026
  • نوحہ ایک دھرتی کا

    اگست 17, 2026
  • اسیرِ بے زباں

    اگست 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

میں مقتول قاتل ہوں

اگست 19, 2026

نوحہ ایک دھرتی کا

اگست 17, 2026

اسیرِ بے زباں

اگست 17, 2026

اتر آئی ہے رحمت کی

اگست 17, 2026

زمانے میں رفاقت کی جو یہ رِیت و...

اگست 17, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا...

اگست 19, 2026

میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف

اگست 19, 2026

کم عمر بچے کے ہاتھ میں اسمارٹ فون...

اگست 14, 2026

مشینوں کے عہد میں انسان

اگست 13, 2026

14 آگست اور ایک عام آدمی

اگست 13, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • میں مقتول قاتل ہوں

    اگست 19, 2026
  • مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال

    اگست 19, 2026
  • میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف

    اگست 19, 2026
  • نوحہ ایک دھرتی کا

    اگست 17, 2026
  • اسیرِ بے زباں

    اگست 17, 2026
  • اتر آئی ہے رحمت کی

    اگست 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ڈائجسٹ کی کہانیاں

اپریل 1, 2023

ادھیڑ عمر کی عورت

جنوری 4, 2022

ماں تیری ممتا

جون 29, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں