خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاممخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزپیر انتظار حسین مصور

مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال

از سائیٹ ایڈمن اگست 19, 2026
از سائیٹ ایڈمن اگست 19, 2026 0 تبصرے 3 مناظر
4

​ہم ایک ایسے تاریک سیاسی اور سماجی عہد میں سانس لے رہے ہیں جہاں ظرف، رواداری اور سچائی کا قحط پڑ چکا ہے۔ ہماری موجودہ سیاست اور صحافت کی منڈی میں اخلاقیات کا جنازہ اس قدر دھوم دھام سے نکالا جا چکا ہے کہ اب مخالف کی ذات پر کیچڑ اچھالنا، اس کی عزتوں کی دھجیاں اڑانا اور اس کی بیماری یا مصیبت پر جشن بنانا ہی کامیابی کا معیار قرار پایا ہے۔ کوئی موقع ایسا نہیں بچا جسے ہم ایک دوسرے کو نیچا دکھانے، گالیاں دینے اور اخلاق کی آخری حدیں پار کرنے کے لیے استعمال نہ کریں۔ ایسے گندے اور دم گھٹتے ہوئے ماحول میں جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں، تو ہمیں اپنے اسلاف اور ان کے مخالفین کے رویے دیکھ کر شدید شرمندگی اور ندامت کا احساس ہوتا ہے کہ ہم کس قدر پستی میں گر چکے ہیں۔

​تاریخ کے آئینے میں ذرا اس دور پر نگاہ ڈالیے جب برصغیر میں آزادی کی جنگ لڑی جا رہی تھی۔ سیاسی اور نظریاتی اختلافات اتنے شدید تھے کہ ایک طرف ہندو مسلمانوں کے جداگانہ وجود کو تسلیم کرنے سے انکاری تھے، تو دوسری طرف فرنگی حاکم اپنی سامراجی چالوں سے تفرقہ پھیلا رہا تھا۔ مگر اس تمام تر سیاسی مخالفت اور نظریاتی جنگ کے باوجود، اس دور کے رہنماؤں کا ظرف اور قلم کا معیار کتنا بلند تھا۔ جب 1921ء میں تحریکِ خلافت کے دوران مولانا محمد علی جوہر کو انگریز نے قید خانے میں ڈالا، تو ان کی زوجہ امجدی بانو بیگم نے آہ و زاری کے بجائے جدوجہد کی باگ ڈور سنبھالی۔ انہوں نے پردے کی پابندی کے ساتھ ساتھ پورے ہندوستان کا دورہ کیا اور فرنگی تسلط کے خلاف عوامی شعور کو بیدار کیا۔

​اس دور کے سب سے بڑے سیاسی حریف اور کانگریس کے قائد موہن داس کرم چند گاندھی، جن سے مسلمانوں کے شدید سیاسی اختلافات تھے، انہوں نے امجدی بانو بیگم کی اس جرات اور حریت پسندی کو دیکھ کر آنکھیں نہیں چرائیں۔ گاندھی نے سیاسی مخالفت کو ایک طرف رکھ کر 29 نومبر 1921ء کو اپنے جریدے ‘ینگ انڈیا’ میں ‘ایک بہادر عورت’ کے عنوان سے ایک مکمل مضمون تحریر کیا۔ گاندھی نے ان کے اعتراف میں لکھا:

​”بے شمار خواتین مجھ سے پوچھتی ہیں کہ جب ان کے شوہر یا بھائی قید کر لیے جائیں تو وہ کیا کریں۔ مگر جب میں بیگم محمد علی کو دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے تمام سوالوں کے جواب مل جاتے ہیں۔ انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ سچائی کے لیے کھڑی پردہ نشین خاتون کے سامنے طاقتور سامراج نہیں ٹھہر سکتا، اور وہ مردوں کے مردہ دلوں میں بھی زندگی کی روح پھونکنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔”

​یہ تھا وہ ظرف جہاں مخالف کی قابلیت، جرات اور ایثار کا اعتراف برسرِ عام اور کھلے دل سے قلم کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ قلم اس دور میں ذاتی بغض، کینہ اور ارزاں شہرت کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ سچائی کی گواہی کا نام تھا۔ مخالف کی شجاعت پر اسے داد دینا اور اس کے سچے جذبے کو تسلیم کرنا زندہ قوموں اور باظرف لوگوں کی پہچان ہوا کرتا تھا۔ قلم کار اور سیاست دان اتنے گرے ہوئے نہیں تھے کہ وہ محض اپنے سیاسی مفاد کے لیے حقائق کا گلا گھونٹ دیتے یا کسی کی عزت پر حملے کرتے۔

​اب ذرا اپنے آج کی طرف لوٹ کر دیکھیے اور ہماری موجودہ سیاست اور میڈیا کا موازنہ اس دور سے کیجیے! آج کا منظر نامہ کیا ہے؟ آج ہماری سیاست کا کل اثاثہ بہتان تراشی، بدکلامی اور ایک دوسرے کو ذلیل کرنا رہ گیا ہے۔ اگر کوئی سیاسی مخالف کسی مصیبت، بیماری یا قید و بند کا شکار ہو جائے، تو ہماری صفوں میں ہمدردی یا ظرف کا مظاہرہ کرنے کے بجائے طنز کے تیر چلائے جاتے ہیں اور جشن منایا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے نظریے پر قائم رہتے ہوئے جرات کا مظاہرہ کرے، تو اس کی تعریف کرنا تو درکنار، اس پر غداری اور لفافے کے تمغے چسپاں کر دیے جاتے ہیں۔

​ہماری صحافت اور سیاست نے مل کر ایک ایسا زہریلا کلچر پروان چڑھایا ہے جہاں سچائی کو مسخ کرنا اور اپنے حریف کو نیچا دکھانے کے لیے کسی بھی حد تک گر جانا عام بات بن چکی ہے۔ کوئی بھی واقعہ ہو، کوئی بھی سانحہ ہو، ہمارے سیاست دان اور تجزیہ نگار اسے فوراً اپنے ذاتی یا جماعتی فائدے کے لیے استعمال کرنے کی تگ و دو میں لگ جاتے ہیں۔ سچ کی تلاش اور اصولوں کی پاسداری کا دور دور تک نام و نشان نہیں ملتا۔ جو قلم کبھی حق کی گواہی اور مخالف کے اخلاق کو سراہنے کے لیے اٹھتا تھا، آج وہ قلم صرف اپنے آقا کی خوشامد اور مخالف کی تذلیل کے لیے سیاہی اگلتا ہے۔

​یہ موازنہ ہمارے ضمیر پر ایک تازیانہ ہے۔ امجدی بانو بیگم کا ایثار اور گاندھی کا اعتراف ہمیں یہ بتاتا ہے کہ جنگیں اور سیاسی معرکے صرف ہتھیاروں یا تعداد سے نہیں، بلکہ اعلیٰ اخلاقی قدروں اور ظرف سے جیتے جاتے ہیں۔ جس قوم کی سیاست سے ظرف ختم ہو جائے اور جس کے قلم سے سچائی کی رمق نکل جائے، وہ قومیں بظاہر جتنے بھی نعرے لگا لیں، اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی اپنے گریبانوں میں جھانک کر اپنے رویوں کی اصلاح نہ کی، اور مخالفت کو دشمنی اور قلم کو گالی بنائے رکھا، تو تاریخ ہمیں ایک ایسے بے ہنگم اور بے اصول ہجوم کے طور پر یاد رکھے گی جس نے اپنے اسلاف کی تمام تر اخلاقی و سیاسی میراث کو اپنے ہاتھوں سے تباہ کر دیا۔

​​پیر انتظار حسین مصور

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • شیخ رشیدسے گزارش ہے
  • دلچسپ و عجیب
  • گریہ زاری کے لیے اور دہائی کے لیے
  • گم نام شاعر مشہور شعر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف
پچھلی پوسٹ
میں مقتول قاتل ہوں

متعلقہ پوسٹس

بےجسم

مئی 23, 2023

زندگی کے مسئلوں کا حل نکلنا چاہیے

اپریل 24, 2020

موجودہ حالات اور بڑھتا ہوا ذہنی دباؤ

جون 5, 2020

سال 2025

دسمبر 29, 2025

پھاہا

جنوری 24, 2020

قدرتی ٹانک آم کے کرشمے

نومبر 2, 2021

مریم نواز ہیلتھ کلینک

جون 6, 2025

روشنی کے اندر زندگی

نومبر 24, 2024

وقت کو پر لگے ہوئے ہیں !

مئی 30, 2020

تعلیم کا مقصد: شعور یا روزگار؟

نومبر 3, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • میں مقتول قاتل ہوں

    اگست 19, 2026
  • مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال

    اگست 19, 2026
  • میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف

    اگست 19, 2026
  • نوحہ ایک دھرتی کا

    اگست 17, 2026
  • اسیرِ بے زباں

    اگست 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

میں مقتول قاتل ہوں

اگست 19, 2026

نوحہ ایک دھرتی کا

اگست 17, 2026

اسیرِ بے زباں

اگست 17, 2026

اتر آئی ہے رحمت کی

اگست 17, 2026

زمانے میں رفاقت کی جو یہ رِیت و...

اگست 17, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا...

اگست 19, 2026

میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف

اگست 19, 2026

کم عمر بچے کے ہاتھ میں اسمارٹ فون...

اگست 14, 2026

مشینوں کے عہد میں انسان

اگست 13, 2026

14 آگست اور ایک عام آدمی

اگست 13, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • میں مقتول قاتل ہوں

    اگست 19, 2026
  • مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال

    اگست 19, 2026
  • میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف

    اگست 19, 2026
  • نوحہ ایک دھرتی کا

    اگست 17, 2026
  • اسیرِ بے زباں

    اگست 17, 2026
  • اتر آئی ہے رحمت کی

    اگست 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے...

مارچ 17, 2026

کشتی مافیا اور ڈوبتی انسانیت کا...

ستمبر 13, 2025

سرخ ٹوپی کا رازدار

دسمبر 10, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں