خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابازندگی کے مسئلوں کا حل نکلنا چاہیے
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزحیات عبداللہ

زندگی کے مسئلوں کا حل نکلنا چاہیے

حیات عبداللہ کا ایک اردو کالم

از حیات عبد اللہ اپریل 24, 2020
از حیات عبد اللہ اپریل 24, 2020 0 تبصرے 399 مناظر
400

زندگی کے مسئلوں کا حل نکلنا چاہیے

غربت کے نوکیلے آزار جب کسی گھرانے میں کھب جائیں تو وہ اُس گھر کے غنچوں اور کلیوں کے چہروں کی تروتازگی اور شگفتگی کو نوچ کر اُنھیں رُوکھے اور پھیکے بنا ڈالتے ہیں۔ایسے گھروں کے بچّے بھی رزق کھوجتے مارے مارے پھرتے ہیں۔
چھتوں سے دھوپ تو رکتی ہے، بھوک ٹلتی نہیں
تلاشِ رزق میں گھر سے نکلنا پڑتا ہے
بچّے ہوں یا بڑے، مفلسی کا عفریت نوچ کھاتا ہے چہروں کی شادابی اور آنکھوں کی رعنائی کو۔ناداری کے جھکّڑ چہروں کو مسخ کر کے لبوں کی مسکراہٹ اور تبسّم کے نکھار اور وقار تک کو مسموم کر ڈالتے ہیں۔کتنی ہی بار آپ نے خوب صورت اور حسین وجمیل بچّوں کو مَیل میں اٹے ہاتھوں اور پھٹے پرانے کپڑے پہنے کوڑے کے ڈھیر پر ردّی کاغذ اور پلاسٹک کی بوتلیں اکٹھی کرتے دیکھا ہو گا۔آپ نے کتنی ہی مرتبہ ننّھے منّے ہاتھوں کو کسی ورکشاپ کی سیاہی میں لتھڑے اور استاد کی جھڑکیاں سنتے دیکھا ہو گا۔آپ نے سیکڑوں مرتبہ آنکھوں میں اداسیاں سمیٹے ایسے بچّوں کو جوتے پالش کروانے کے لیے مِنتیں سماجتیں کرتے بھی دیکھا ہو گا۔آپ ہسپتالوں میں چلے جائیں یا کسی ریلوے سٹیشن پر، آپ کو غربت کی چوکھٹ پر سر پٹختے درجنوں بچّے دکھائی دیں گے۔ان بچّوں کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں محنت اور مشقت کے باعث دراڑیں پڑ چکی ہوں گی۔ایسے کتنے ہی بچّے ہوں گے جو سخت جانی کے باعث تھکے ہارے کسی فٹ پاتھ یا ریلوے سٹیشن پر سوئے پڑے ہوں گے۔مفلسی بچّوں کو سڑکوں پر لے آئی ہے۔وہ اپنے گھر والوں کے پیٹ پالنے کے لیے در بہ در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔معاشی بدحالی کے باعث ننّھے بچّے ہوٹلوں میں برتن مانجتے اور مالک کی جھڑکیاں برداشت کرتے ہیں۔آپ نے یقیناً بَھٹّا خِشت پر معصوم پھولوں کو اینٹیں تھاپتے بھی دیکھا ہو گا۔ممکن ہے آپ نے ڈینٹنگ اور پینٹنگ کے باعث بچّوں کے پھیپھڑوں میں گَرد گُھستی بھی دیکھی ہو، شاید آپ نے بارہ بارہ گھنٹوں تک پنجوں کے بل بیٹھ کر قالین بافی کرتے بچّوں کے مڑے ہوئے پنجے بھی دیکھے ہوں۔
آج کے دور میں نادار کا جینا یوں ہے
جیسے معذور کا دیوار پہ چلنا مشکل
غربت کے آلام چہروں کی مسکان کو منہدم کر ڈالتے ہیں۔ناداری کے نوکیلے نشتر، تفننِ طبع اور حسِ لطافت تک کو مٹا ڈالتے ہیں۔
مفلسی حسِ لطافت کو مٹا دیتی ہے
بھوک آداب کے سانچوں نہیں ڈھل سکتی
یہ المیہ ساری دنیا کا ہے کہ چودہ سال سے کم عمر کے بچّے مفلسی، غربت اور تنگ دستی کے باعث سخت محنت ومشقّت کرنے پر مجبور ہیں۔ایسے کملائے پھولوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔آئی ایل ڈی کے مطابق دنیا بھر میں 35 کروڑ سے زائد بچّے سخت کوشی پر مجبور ہیں۔ان میں سے 18 کروڑ بچّوں کی حالت انتہائی ابتر اور دگرگوں ہے۔بچّوں کی جبری مشقّت میں بھارت دنیا میں سب سے آگے ہے۔بھارت میں 5 کروڑ 70 لاکھ سے زائد بچّے غذائی قلت اور غربت کے شکار ہیں۔بھارت میں ہر چوتھا آدمی بھوک کا ستایا ہوا ہے۔بھارت کے علاوہ پہلے پانچ ممالک میں بنگلہ دیش، چاڈ، جمہوریہ کانگو اور ایتھوپیا شامل ہیں۔لائبیریا چھٹے، میانمار ساتویں، نائجیریا آٹھویں اور پاکستان نویں نمبر پر ہیں۔صومالیہ کا نمبر دسواں ہے۔دیگر معروف ممالک میں انڈونیشیا اٹھارویں، مصر انتیسویں، فلپائن چونتیسویں اور ویت نام اڑتیسویں نمبر پر ہیں۔افریقی ممالک میں یہ شرح سب سے زیادہ ہے۔ہیومن رائٹس واچ کے مطابق چاڈ، گھانا اور سرالیون میں پچاس فی صد تک بچّے محنت کرنے پر مجبور ہیں۔جب کہ نائجیریا میں چھیاسٹھ فی صد تک بچّے دن رات کام کرتے ہیں۔پاکستان میں پچاس لاکھ کے قریب بچّے در بہ در بھٹکتے معصوم ہاتھوں کے ساتھ محنت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔اکثر جگہوں پر 12 گھنٹے تک ان نازک اندام بچّوں کو کام کرنا پڑتا ہے، مگر معاوضہ بہت کم ملتا ہے۔پشاور میں دس ہزار سے زائد بچّے جسمانی مشقت کرنے پر مجبور ہیں۔ان بچّوں کی اکثریت فرنیچر، آٹو ورکشاپ یا پھر بَھٹّا خِشت پر اینٹیں تھاپتی دکھائی دیتی ہے۔ملک کے صوبائی دارالحکومتوں اور اسلام آباد میں ایک لاکھ تیس ہزار بچّے کوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے اور ہسپتالوں فضلہ جمع کرنے پر مجبور ہیں۔خیبر پی کے میں ایک ہزار سے زائد بچّے کوئلے کی کانوں میں کام کر رہے ہیں جو انتہائی جان لیوا اور اذیت ناک کام ہے۔ان محنت کش بچّوں میں 73 فی صد لڑکے اور 27 فی صد لڑکیاں محنت مزدوری کر کے اپنا اور اہلِ خانہ کا پیٹ پالتے ہیں۔پاکستان میں چائلڈ لیبر پر پابندی ہونے کے باوجود آپ کسی فیکٹری میں چلے جائیں وہاں آپ کو انتہائی کم معاوضے پر کام کرنے والے بچّوں کی کثیر تعداد دکھائی دے گی۔
سوال یہ ہے کہ آخر اس گھمبیر اور سلگتے مسئلے کا حل کیا ہے؟ میں دولت کی منصفانہ اور غیر منصفانہ تقسیم کا رونا بھی نہیں رونا چاہتا اور نہ میں اس بات کا حامی ہوں کہ جن لوگوں کے پاس ان گنت مال واسباب ہیں، وہ ان سے چھین لیے جائیں۔مسئلے کا حل کچھ اور ہے، جو ہے بھی قابلِ عمل اور انتہائی پائدار۔مگر مسئلے کے حل سے قبل آئیے! کچھ امیر ترین لوگوں کی دولت اور خزانوں کے انبار پر ایک طائرانہ سی نظر ڈالیں۔پاکستان کے پہلے چھے امیر ترین لوگوں میں شاہد خان، انور پرویز، میاں منشا، ملک ریاض، آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے نام شامل ہیں۔ان لوگوں کے کُل اثاثے تقریباً 21 ارب ڈالر ہیں۔یہ اثاثے لکھنے کا قطعاً یہ مقصد نہیں کہ یہ رقم ان سے چھین کر غربا میں تقسیم کر دی جائے۔نہیں ایسا ہر گز نہیں ہے اور نہ یہ مسئلے کا حل ہے۔کرنے کا کام یہ ہے کہ ان امرا سے ان کے مال کی زکات کی پوری رقم وصول کر کے ان غریب لوگوں میں تقسیم کر دی جائے تو واللہ! ایک شخص بھی غریب نہیں رہے گا۔پہلے چھے امیر ترین لوگوں کی رقم پر زکات 84 ارب 52 کروڑ 50 لاکھ روپے بنتی ہے جو کہ 5 لاکھ لوگوں میں 1 لاکھ 69 ہزار روپے کے حساب سے تقسیم کی جا سکتی ہے۔یہ تو صرف چھے افراد کی زکات ہے جس سے پانچ لاکھ افراد اپنا کاروبار کر سکتے ہیں۔اگر ہر صاحبِ ثروت اپنا عشر اور زکات ادا کرنا شروع کر دے تو ایک بھی شخص غریب نہیں رہے گا۔ان امیر لوگوں کے اربوں ڈالر ان ہی کو مبارک بس ان سے فقط اتنی زکات لے لی جائے جتنی اللہ نے فرض کی ہے تو غربت کا نام ونشان تک باقی نہیں رہے گا لیکن اگر زکات اور عشر کے نظام کو فعال نہ بنایا گیا تو پھر جیسے مرضی آئے نظام لے آئیں، غربت کو بڑھنے سے کوئی روک ہی نہیں سکتا۔
مسئلے تو زندگی میں روز آتے ہیں مگر
زندگی کے مسئلوں کا حل نکلنا چاہیے

حیات عبداللہ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • شباہت فردوس
  • جاگتا رہتا ہوں اور کھڑکی کھلی رہتی ہے
  • سفیرِ ادب
  • استاد مرحوم
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
حیات عبد اللہ

اگلی پوسٹ
خواب اُس کے ہیں جو چُرا لے جائے
پچھلی پوسٹ
توازن اردو ادب پروگرام نمبر51

متعلقہ پوسٹس

مجھے خبر ہے کہ پلکیں

اکتوبر 7, 2025

زیادتیوں سے نکلیں جنسی زیادتیاں!

اکتوبر 2, 2020

اپنے جذبات کی تدفین کیا کرتا تھا

مئی 14, 2020

پری وش کے پاﺅں

دسمبر 28, 2020

آنکھوں سے میری خواب کے

مارچ 23, 2025

آگ دل میں لگی ھے

جولائی 3, 2025

چراغ تلے خاموشی

دسمبر 22, 2024

ملاوٹ

جنوری 16, 2020

تری عظمت ہے شاہانہ، تری فطرت فقیرانہ

اکتوبر 25, 2025

عیادت کرنامنع ہے

دسمبر 16, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ڈیجیٹل دہشتگردی

جنوری 4, 2026

ممکن نہیں حالات کی سولی

فروری 9, 2020

ہتّک

نومبر 15, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں