114
تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے
محبت سے رہائی کی اجازت ہے
میں تیرے بن جو زندہ رہ رہا ہوں تو
تجھے بھی بے وفائی کی اجازت ہے
وہ تنہائی کے دکھ کو جانتا ہے سو
اسے بھی ہم نوائی کی اجازت ہے
زمانے میں برائی کر رہا ہے جو
اسی کو پارسائی کی اجازت ہے
کوئی پاؤں کو چُھو لے تو ہے مجرم پر
کسی کو تو کلائی کی اجازت ہے
اگر ہو بے وفا تو یار سن لو تم
وفا کو کاروائی کی اجازت ہے
وہ چہرے کو چھپا کر پھر رہا ہے کیوں
وہ جس کو رونمائی کی اجازت ہے
خدا ہم سے خفا ہر گز نہیں ہوگا
ہمیں دوشی خدائی کی اجازت ہے
ایم اے دوشی
