108
ایک ہی رہتا ہے الم صاحب
گر نہ جائے کہیں علم صاحب
جو بھی چاہیں کریں رقم صاحب
آپ کے ہاتھ ہے قلم صاحب
تیرے قدموں کی چاپ جیسا ہے
دل کی دھڑکن کا زیر و بم صاحب
آئو جلدی سے دیکھ لو دنیا
ٹوٹ جائے نہ جام جم صاحب
آنکھوں آنکھوں میں بات بڑھتی ہے
دل اٹھاتا ہے سارے غم صاحب
آنکھیں سب صاف صاف کہتی ہیں
کس کی مٹی ہے کتنی نم صاحب
ہجر کی آنکھ میں بھی آنسو ہیں
ایسے بچھڑے ہیں اب کے ہم صاحب
محمد رضا نقشبندی
