خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابازندگی کی بقاء کیلئے!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

زندگی کی بقاء کیلئے!

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 31, 2021
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 31, 2021 0 تبصرے 59 مناظر
60

زندگی کی بقاء کیلئے!

ہ میں بھلا کیسے پتہ چلے گا کہ ہم کون ہیں اور کن مقاصد کو بروئے کار لانے کیلئے زمین پر بھیجے گئے ہیں ، کہیں تو معاملات اتنے واضح ہوتے ہیں کہ عمر کی پختگی سے قبل ہی سمجھ آناشروع ہوجاتی ہے کہ کو ن سے راستے کے مسافر ہیں لیکن ایسا شاذو نادر ہوا کرتا ہے (دورِ حاضر میں کہا جاتا ہے کہ آج سب کچھ قبل از وقت عیاں ہوتا جا رہا ہے لیکن یہ سب مادیت نہیں جو ہمیشہ سے ہی مٹ جانے کیلئے عیاں ہوتا ہے ) اکثر اوقات یہ جاننا بہت مشکل ہوتا ہے کہ جس راستے کا مسافر ہوں کیا یہی راستہ میری منزل کی طرف جاتا ہے ، دھیان دیں تو یہ ایک انتہائی گھمبیر صورتحال ہے جس کا سامنا تقریباً ہم سب ہی کو کرنا پڑتا ہے (جو دھیان دیتے ہیں ) ۔ راستے میں زاد راہ کی قلت اور موسموں کی شدت ،کبھی ٹہر جانے ،آرام کرنے پر اکساتی ہے اور کتنے ہی اس اکسانے میں آکر ایسا کر بیٹھتے ہیں ، چند ہی ایسے ہوتے ہیں جو سفر جاری رکھتے ہیں لیکن انہیں اس بات کا یقین تب بھی نہیں ہوتا کہ یہ راستہ ہی انکی منزل کی جانب جا رہا ہے ۔ دوسری طرف معاشروں کی تقسیم در تقسیم در تقسیم ایک جگہ کھڑے رہنے کی اجازت نہیں دیتی ،کہیں زبان کی تفریق اجنبی بنا کر کھڑا کردیتی ہے اور کہیں مذاہب اپنا کردار نبہاتے دیکھائی دیتے ہیں ، غرض یہ کہ منزل پر دھیان کا مرکوز ہونا ایک انتہائی مشکل کام ہوکر رہ جاتا ہے ۔ یہ کہانی کم از کم ان لوگوں کیلئے ہے جو راستے پر آجاتے ہیں یعنی کسی منزل کی چاہ میں سفر کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ سفر کا سہل ہونا ہ میں اکساتا ہے کہ جتنی تیز ہوسکے چلا جائے لیکن توازن کو برقرار رکھنے کیلئے اور اچانک سے کسی راستے میں کسی گڑھے کا آجانا یا پھر کسی اور قسم کی رکاوٹ سے محفوظ رہتے ہوئے سفر کو منزل کی جانب رواں دواں رکھنے کیلئے ضروری ہے اعتدال اختیار کیا جائے رفتار میں بھی دھیان میں بھی تاکہ منزل پر بحفاظت پہنچا جاسکے ۔

یہ ایک ا تہائی مشکل عمل ہے کہ آپ جو چاہتے ہیں وہ کر نے کیلئے کم از کم کھڑے ہوجائیں (حالات و واقعات اکثر کھڑے ہونے سے روک دیتے ہیں )، عمومی طور پر ا یسا کرنا آپکی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہوکر ہوتا ہے اور چاہتے ہوئے بھی آپ کے اردگرد لوگوں کی نظروں سے خوفزدہ ہوتے ہوئے ،الغرض کہ کتنے لوگ آپکی موجودگی کو کتنی اہمیت دیتے ہیں اور کتنے آپکے ہو نے یا نہ ہو نے سے ماورا گزرتے چلے جاتے ہیں ۔ موجودہ دور میں جب تہذیبیں تخریب کاروں کے ہاتھوں میں آچکی ہیں ، سمتوں کا فرق خاطر سے بالا ہوتا جا رہا ہے، تہذیب و اخلاق کی گفتار اپنے آپ کیلئے جیسے شرمندگی کا باعث بنتی جا رہی ہے ۔ یوں سمجھ لیجئے لرزتے ہوئے ہاتھوں میں اب یہ ٹمٹماتے ہوئے چراغ دیکھائی دیتے ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہاتھوں کی لرزش یا پھر سانسوں کی بندش کا انتظار کیا جا رہا ہے اور پھر ٹمٹماتے ہوئے چراغ کو خود ہی بجھا دیا جائے گا ۔ انسان نئی نئی جہتوں میں مگن کہاں سے کہاں پہنچ رہا ہے اور سمجھ رہا ہے کے جیسے کوئی یہاں تک اس سے قبل پہنچا ہی نہیں یہ خیال اسے نہال کئے دیتا ہے تشکر کی بجائے تکبر کئے جاتا ہے پھر کیا وہ وقت آجاتا ہے کہ اسے دنیا سے رخصت ہونا پڑتا ہے لقمہ اجل بننا پڑتا ہے پھر شائد اس پر یہ راز عیاں ہوتا ہو کہ جس راز پر اسے گھمنڈ تھا وہ تو خالق کائنات نے مجھ پر بطور احسان عیاں کیا تھا اور میں اسکے تشکر کی بجائے تکبر میں مبتلاء ہوکر اپنا سب کچھ خراب کر بیٹھا ۔

انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے تخلیق کار کی طرف رجوع کرلے اور یہ کوشش کرے کے کیا اسکا کیا ہوا د نیا دیکھاوے کیلئے ہے یا پھر اپنے خالق حقیقی کی رضا کیلئے ۔ آج دنیا کی سب سے اہم ضرورت طب کی ترقی ہے ، انسانی سوچ کی بدولت انسان اپنے جسد خاکی کو بدیر صرف طب کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ اس دنیا کی رنگینیوں میں رنگنے کیلئے رکھ سکتا ہے ۔ ایک طرف انسان نے کینسر جیسے موضی مرض کا علاج کسی حدتک نکال لیا تھا اور انسان کی یہ کامیابی اس بات کی ضمانت سمجھی جا رہی تھی کے کچھ بھی لاعلاج نہیں رہا ، ابھی حضرت انسان اس خوشی سے پوری طرح سے محظوظ بھی نہیں ہوسکے تھے ایک ایسے غیر مرئی مرض نے انسانیت کو بغیر کسی سرحد و مذہب و زبان و رنگ و نسل کی تفریق کے ایسے آدبوچا کے سانسسوں کی ڈوریں یکے بعد دیگرے ٹوٹتی ہی چلی گئیں (ایسا تاریخ میں کئی بارہوچکا ہے یعنی زمین کا سفر ہے یہ اسکی روک تھام کیلئے بنائے جانے والے قدرتی گڑھے ہوں گویا) ۔ کورونا نے دنیا کو ایک نئی تہذیب کی طرف دھکیل دیا ایک نئی فکر و سوچ کے زاوئیے فراہم کردئیے ۔ غرض یہ کہ ترقی یافتہ ملک ، ترقی پذیر ملک تھا یا پھر تیسری دنیا کے ممالک ،کورونا نے کوئی تفریق نہیں کی اور انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ تم تخلیق کار کی تخلیقات کو پہچاننے سے تاحال قاصر ہو بھلے ہی بڑی بڑی کتابیں پڑھ لو لکھ لو بھلے ہی ساری ساری زندگی تجرباگاہوں میں گزار لو تم سمجھ ہی نہیں سکتے کے اگلے لمحے میں تمھارے لئے کیا حیرت چھپی ہوئی لیکن جو اپنے تخلیق کار کو پہچانتے ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ کبھی بھی کہیں بھی کچھ بھی ہوناخوب ممکن ہے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کتنے انسان اپنی دوڑ دھوپ سے واقف ہوتے ہیں وہ کس لئے جدوجہد کر رہے ہیں ، انکا اس دوڑ دھوپ کے پیچھے بھاگنے کا مقصد ان پر واضح بھی ہے یا نہیں ۔ ایک طرف تو حالات کے پیش نظر زندگی انتہائی تھکا دینے والی ہوتی جا رہی ہے جس کے پیچھے بہت سارے عوامل اپنی اپنی جگہ کارفرما ہیں ۔ یہاں کسی فرد کا کسی بھی پیشے سے وابستہ ہونا شائد حادثاتی تصور کیا جاسکتا ہے ، کہیں بڑوں کی بنائی ہوئی راہداری پر چلنا حادثہ اور کہیں اس راہداری سے بغاوت حادثہ ، بغاوت کیبعد نئی جہتیں تلاش کرنا اس میں مایوسی اور باغیانہ روئیے کی مرہون منت اپنے دعاءوں کرنے والوں سے نالاں ہوجانا ،طرح طرح کے وسوسوں کے ساتھ چلنا انتہائی دشوار ٹہرتا ہے ، اکثریت تو ہار جاتی ہے اور کسی ایسی لت کا شکار ہوجاتی ہے جو اسکی تباہی کا سبب بن جاتی ہے جبکہ گنتی کے لوگ ان تمام مسائل کا مقابلہ کرتے ہیں اور انکی بدولت ہی حل وجود میں آتے ہیں ۔

ہمارے گھر کے ایک دروازے کا تالا کچھ ایسے خرا ب ہوا کہ جب تالا لگانا ہوتب لگتا نہیں اور بے وجہ لگ جاتا ہے جو کہ گھر میں ایک گھمبیر صورتحال کا سبب بنا ہوا ہے ہماری چھوٹی صاحبزادی اس ساری پریشانی سے بیخبر آتے جاتے دروازے کو بند کرتی ہیں اور پھر چابی کی تلاش کیساتھ صورتحال خراب ہوجاتی ہے ، یہ سلسلہ جاری ہے لیکن اس صورتحال کو سوچتے ہوئے ذہن نے ایک جواز پیش کیا کیونکہ تالا ابھی کچھ عرصہ قبل ہی تبدیل کرایا گیا ہے اس لئے تالے کی تبدیلی کو برملا خارج از ذہن رکھا گیا ہے اب جس بات نے ہ میں کسی حد تک تسلی دی وہ یہ کہ ہماری تربیت کیلئے اس تالے کی ایسی صورت بنادی گئی ہے کے نا نکالے قرار اور نا لگائے سکون ، ہم انسان بھی ایسے ہی ہیں کے اپنے خالق کے بتائے ہوئے اصولوں کی نافرمانی کرتے ہی چلے جاتے ہیں کب کیا کرنا ہے کب کیا نہیں کرنا سب کچھ بتایا گیا ہے لیکن ہم اپنی ہی من مانی سے زندگی کی گاڑی دوڑاتے پھرتے ہیں پھر راستے کی مشکلات کا رونا روتے رہتے ہیں اس طرح ہ میں یہ احساس ہوا کہ تالا ہماری طرح کی جانے والی من مانی کی عملی شکل بن کر ہمارے سامنے آگیا ہے اور ہم سے تقاضا کررہاہے کے واپس لوٹ آئیں بتائے ہوئے راستوں پر سفر شروع کردیں ۔ آپ زندگی سے اس وقت تک کچھ نہیں سیکھ سکتے جب تک آپ یہ سمجھتے رہینگے کے آپکو سب پتہ ہے ۔ زندگی کی تخلیق ہی زندگی کی بقاء کیلئے ہے بس فرق اتنا ہے کہ اکثریت زندگی کے تابع ہوکر بقاء کی دوڑ سے باہر نکل جاتے ہیں کیوں کہ بقاء پانے والے تو دنیا سے کبھی رخصت ہی نہیں ہوتے ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بے غرض محسن
  • غبار ابر بن گیا کمال کر دیا گیا
  • ہم کو سماعتوں نے نہ دھوکا کبھی دیا
  • رنگ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
"فالسہ” موسم گرما کا معالج
پچھلی پوسٹ
ندرتِ افکار کے جوہر دکھاتا ہے قلم!

متعلقہ پوسٹس

ہو تیری رضا جو, وہ چاہت میری

جون 28, 2020

نیند جب خواب کی زنبیل میں رکھی جائے

مارچ 19, 2022

اندازِ محبت

نومبر 24, 2024

دیوانہ شاعر

فروری 14, 2020

مرد : درد کا سفیر

مارچ 24, 2026

عید گاہ

نومبر 5, 2019

لگی ڈھلنے ہے پھر سے شام ساقی

جون 18, 2021

لمحوں کے پیچھے چلتا یہ لمحہ لگا ہوا

جنوری 30, 2022

سعادت حسن منٹو

مئی 11, 2020

خطرے کی گھنٹیوں سے بھاگے ہوئے

جون 21, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جنموں کی داستاں ہے

اکتوبر 12, 2025

گندم

مئی 25, 2024

یہ اپنے آپ سے نمٹ نہیں...

مئی 20, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں