خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابازندگی کی بقاء کیلئے!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

زندگی کی بقاء کیلئے!

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 31, 2021
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 31, 2021 0 تبصرے 82 مناظر
83

زندگی کی بقاء کیلئے!

ہ میں بھلا کیسے پتہ چلے گا کہ ہم کون ہیں اور کن مقاصد کو بروئے کار لانے کیلئے زمین پر بھیجے گئے ہیں ، کہیں تو معاملات اتنے واضح ہوتے ہیں کہ عمر کی پختگی سے قبل ہی سمجھ آناشروع ہوجاتی ہے کہ کو ن سے راستے کے مسافر ہیں لیکن ایسا شاذو نادر ہوا کرتا ہے (دورِ حاضر میں کہا جاتا ہے کہ آج سب کچھ قبل از وقت عیاں ہوتا جا رہا ہے لیکن یہ سب مادیت نہیں جو ہمیشہ سے ہی مٹ جانے کیلئے عیاں ہوتا ہے ) اکثر اوقات یہ جاننا بہت مشکل ہوتا ہے کہ جس راستے کا مسافر ہوں کیا یہی راستہ میری منزل کی طرف جاتا ہے ، دھیان دیں تو یہ ایک انتہائی گھمبیر صورتحال ہے جس کا سامنا تقریباً ہم سب ہی کو کرنا پڑتا ہے (جو دھیان دیتے ہیں ) ۔ راستے میں زاد راہ کی قلت اور موسموں کی شدت ،کبھی ٹہر جانے ،آرام کرنے پر اکساتی ہے اور کتنے ہی اس اکسانے میں آکر ایسا کر بیٹھتے ہیں ، چند ہی ایسے ہوتے ہیں جو سفر جاری رکھتے ہیں لیکن انہیں اس بات کا یقین تب بھی نہیں ہوتا کہ یہ راستہ ہی انکی منزل کی جانب جا رہا ہے ۔ دوسری طرف معاشروں کی تقسیم در تقسیم در تقسیم ایک جگہ کھڑے رہنے کی اجازت نہیں دیتی ،کہیں زبان کی تفریق اجنبی بنا کر کھڑا کردیتی ہے اور کہیں مذاہب اپنا کردار نبہاتے دیکھائی دیتے ہیں ، غرض یہ کہ منزل پر دھیان کا مرکوز ہونا ایک انتہائی مشکل کام ہوکر رہ جاتا ہے ۔ یہ کہانی کم از کم ان لوگوں کیلئے ہے جو راستے پر آجاتے ہیں یعنی کسی منزل کی چاہ میں سفر کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ سفر کا سہل ہونا ہ میں اکساتا ہے کہ جتنی تیز ہوسکے چلا جائے لیکن توازن کو برقرار رکھنے کیلئے اور اچانک سے کسی راستے میں کسی گڑھے کا آجانا یا پھر کسی اور قسم کی رکاوٹ سے محفوظ رہتے ہوئے سفر کو منزل کی جانب رواں دواں رکھنے کیلئے ضروری ہے اعتدال اختیار کیا جائے رفتار میں بھی دھیان میں بھی تاکہ منزل پر بحفاظت پہنچا جاسکے ۔

یہ ایک ا تہائی مشکل عمل ہے کہ آپ جو چاہتے ہیں وہ کر نے کیلئے کم از کم کھڑے ہوجائیں (حالات و واقعات اکثر کھڑے ہونے سے روک دیتے ہیں )، عمومی طور پر ا یسا کرنا آپکی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہوکر ہوتا ہے اور چاہتے ہوئے بھی آپ کے اردگرد لوگوں کی نظروں سے خوفزدہ ہوتے ہوئے ،الغرض کہ کتنے لوگ آپکی موجودگی کو کتنی اہمیت دیتے ہیں اور کتنے آپکے ہو نے یا نہ ہو نے سے ماورا گزرتے چلے جاتے ہیں ۔ موجودہ دور میں جب تہذیبیں تخریب کاروں کے ہاتھوں میں آچکی ہیں ، سمتوں کا فرق خاطر سے بالا ہوتا جا رہا ہے، تہذیب و اخلاق کی گفتار اپنے آپ کیلئے جیسے شرمندگی کا باعث بنتی جا رہی ہے ۔ یوں سمجھ لیجئے لرزتے ہوئے ہاتھوں میں اب یہ ٹمٹماتے ہوئے چراغ دیکھائی دیتے ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہاتھوں کی لرزش یا پھر سانسوں کی بندش کا انتظار کیا جا رہا ہے اور پھر ٹمٹماتے ہوئے چراغ کو خود ہی بجھا دیا جائے گا ۔ انسان نئی نئی جہتوں میں مگن کہاں سے کہاں پہنچ رہا ہے اور سمجھ رہا ہے کے جیسے کوئی یہاں تک اس سے قبل پہنچا ہی نہیں یہ خیال اسے نہال کئے دیتا ہے تشکر کی بجائے تکبر کئے جاتا ہے پھر کیا وہ وقت آجاتا ہے کہ اسے دنیا سے رخصت ہونا پڑتا ہے لقمہ اجل بننا پڑتا ہے پھر شائد اس پر یہ راز عیاں ہوتا ہو کہ جس راز پر اسے گھمنڈ تھا وہ تو خالق کائنات نے مجھ پر بطور احسان عیاں کیا تھا اور میں اسکے تشکر کی بجائے تکبر میں مبتلاء ہوکر اپنا سب کچھ خراب کر بیٹھا ۔

انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے تخلیق کار کی طرف رجوع کرلے اور یہ کوشش کرے کے کیا اسکا کیا ہوا د نیا دیکھاوے کیلئے ہے یا پھر اپنے خالق حقیقی کی رضا کیلئے ۔ آج دنیا کی سب سے اہم ضرورت طب کی ترقی ہے ، انسانی سوچ کی بدولت انسان اپنے جسد خاکی کو بدیر صرف طب کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ اس دنیا کی رنگینیوں میں رنگنے کیلئے رکھ سکتا ہے ۔ ایک طرف انسان نے کینسر جیسے موضی مرض کا علاج کسی حدتک نکال لیا تھا اور انسان کی یہ کامیابی اس بات کی ضمانت سمجھی جا رہی تھی کے کچھ بھی لاعلاج نہیں رہا ، ابھی حضرت انسان اس خوشی سے پوری طرح سے محظوظ بھی نہیں ہوسکے تھے ایک ایسے غیر مرئی مرض نے انسانیت کو بغیر کسی سرحد و مذہب و زبان و رنگ و نسل کی تفریق کے ایسے آدبوچا کے سانسسوں کی ڈوریں یکے بعد دیگرے ٹوٹتی ہی چلی گئیں (ایسا تاریخ میں کئی بارہوچکا ہے یعنی زمین کا سفر ہے یہ اسکی روک تھام کیلئے بنائے جانے والے قدرتی گڑھے ہوں گویا) ۔ کورونا نے دنیا کو ایک نئی تہذیب کی طرف دھکیل دیا ایک نئی فکر و سوچ کے زاوئیے فراہم کردئیے ۔ غرض یہ کہ ترقی یافتہ ملک ، ترقی پذیر ملک تھا یا پھر تیسری دنیا کے ممالک ،کورونا نے کوئی تفریق نہیں کی اور انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ تم تخلیق کار کی تخلیقات کو پہچاننے سے تاحال قاصر ہو بھلے ہی بڑی بڑی کتابیں پڑھ لو لکھ لو بھلے ہی ساری ساری زندگی تجرباگاہوں میں گزار لو تم سمجھ ہی نہیں سکتے کے اگلے لمحے میں تمھارے لئے کیا حیرت چھپی ہوئی لیکن جو اپنے تخلیق کار کو پہچانتے ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ کبھی بھی کہیں بھی کچھ بھی ہوناخوب ممکن ہے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کتنے انسان اپنی دوڑ دھوپ سے واقف ہوتے ہیں وہ کس لئے جدوجہد کر رہے ہیں ، انکا اس دوڑ دھوپ کے پیچھے بھاگنے کا مقصد ان پر واضح بھی ہے یا نہیں ۔ ایک طرف تو حالات کے پیش نظر زندگی انتہائی تھکا دینے والی ہوتی جا رہی ہے جس کے پیچھے بہت سارے عوامل اپنی اپنی جگہ کارفرما ہیں ۔ یہاں کسی فرد کا کسی بھی پیشے سے وابستہ ہونا شائد حادثاتی تصور کیا جاسکتا ہے ، کہیں بڑوں کی بنائی ہوئی راہداری پر چلنا حادثہ اور کہیں اس راہداری سے بغاوت حادثہ ، بغاوت کیبعد نئی جہتیں تلاش کرنا اس میں مایوسی اور باغیانہ روئیے کی مرہون منت اپنے دعاءوں کرنے والوں سے نالاں ہوجانا ،طرح طرح کے وسوسوں کے ساتھ چلنا انتہائی دشوار ٹہرتا ہے ، اکثریت تو ہار جاتی ہے اور کسی ایسی لت کا شکار ہوجاتی ہے جو اسکی تباہی کا سبب بن جاتی ہے جبکہ گنتی کے لوگ ان تمام مسائل کا مقابلہ کرتے ہیں اور انکی بدولت ہی حل وجود میں آتے ہیں ۔

ہمارے گھر کے ایک دروازے کا تالا کچھ ایسے خرا ب ہوا کہ جب تالا لگانا ہوتب لگتا نہیں اور بے وجہ لگ جاتا ہے جو کہ گھر میں ایک گھمبیر صورتحال کا سبب بنا ہوا ہے ہماری چھوٹی صاحبزادی اس ساری پریشانی سے بیخبر آتے جاتے دروازے کو بند کرتی ہیں اور پھر چابی کی تلاش کیساتھ صورتحال خراب ہوجاتی ہے ، یہ سلسلہ جاری ہے لیکن اس صورتحال کو سوچتے ہوئے ذہن نے ایک جواز پیش کیا کیونکہ تالا ابھی کچھ عرصہ قبل ہی تبدیل کرایا گیا ہے اس لئے تالے کی تبدیلی کو برملا خارج از ذہن رکھا گیا ہے اب جس بات نے ہ میں کسی حد تک تسلی دی وہ یہ کہ ہماری تربیت کیلئے اس تالے کی ایسی صورت بنادی گئی ہے کے نا نکالے قرار اور نا لگائے سکون ، ہم انسان بھی ایسے ہی ہیں کے اپنے خالق کے بتائے ہوئے اصولوں کی نافرمانی کرتے ہی چلے جاتے ہیں کب کیا کرنا ہے کب کیا نہیں کرنا سب کچھ بتایا گیا ہے لیکن ہم اپنی ہی من مانی سے زندگی کی گاڑی دوڑاتے پھرتے ہیں پھر راستے کی مشکلات کا رونا روتے رہتے ہیں اس طرح ہ میں یہ احساس ہوا کہ تالا ہماری طرح کی جانے والی من مانی کی عملی شکل بن کر ہمارے سامنے آگیا ہے اور ہم سے تقاضا کررہاہے کے واپس لوٹ آئیں بتائے ہوئے راستوں پر سفر شروع کردیں ۔ آپ زندگی سے اس وقت تک کچھ نہیں سیکھ سکتے جب تک آپ یہ سمجھتے رہینگے کے آپکو سب پتہ ہے ۔ زندگی کی تخلیق ہی زندگی کی بقاء کیلئے ہے بس فرق اتنا ہے کہ اکثریت زندگی کے تابع ہوکر بقاء کی دوڑ سے باہر نکل جاتے ہیں کیوں کہ بقاء پانے والے تو دنیا سے کبھی رخصت ہی نہیں ہوتے ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • حضرت محمد ﷺ کی محبت
  • اگرچہ درد کے دل میں
  • کانفیڈینس
  • شام کا سحر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
"فالسہ” موسم گرما کا معالج
پچھلی پوسٹ
ندرتِ افکار کے جوہر دکھاتا ہے قلم!

متعلقہ پوسٹس

پیا سا

جنوری 27, 2020

محبت کے بادل

دسمبر 22, 2024

کیا یہ غور طلب نہیں!

اگست 30, 2024

آدم بو

نومبر 26, 2020

خواب سے حقیقت تک

فروری 13, 2026

مجھے سارے رنج قبول ہیں

ستمبر 27, 2025

بابا نور

اکتوبر 29, 2019

جب ان کو مرے اچھے برے کی

جنوری 12, 2025

قلم

اکتوبر 31, 2020

ارادہ

نومبر 14, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کراچی کا جلتا ہوا سوال

جنوری 21, 2026

کوئی مانے یا نہ مانے

اکتوبر 18, 2019

اک وقت میں پھولوں کے

اکتوبر 12, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں