107
نجانے عشق میں ایسی ہے کیا کمی باقی
سخن تمام ہوا اور خامشی باقی
زمانہ پھر ترے نقشِ قدم کو چومے گا
تری دهمال میں گر ہے قلندری باقی
ہمارے اشک ہیں آبِ فرات کی صورت
رہے گی حشر تک ان میں بھی تشنگی باقی
ہمارے شہر میں گونجا ہے اک نیا نوحہ
مگر رہا نہ کوئی اب کے ماتمی باقی
تڑپتے رہ گئے دیدارِ مصطفیٰ ﷺ کو اویس ( رضہ )
جو دل میں چاہ تھی ملنے کی وہ رہی باقی
ڈاکٹر اسد نقوی
