832
دل دکھوں کے حصار میں آیا
جبر کب اختیار میں آیا
دے اسے بھی فروغ حسن کی بھیک
دل بھی لگ کر قطار میں آیا
خوب ہے یہ اکائی بھی لیکن
جو مزہ انتشار میں آیا
دیکھتا ہے نہ پوچھنا ہے کوئی
اجنبی کس دیار میں آیا
یہ تو جانیں مقدروں والے
کون کس کے مدار میں آیا
شاخ پر ایک پھول بھی تابشؔ
مجھ سے ملنے بہار میں آیا
عباس تابش
