925
اتنا آساں نہیں مسند پہ بٹھایا گیا میں
شہر تہمت تری گلیوں میں پھرایا گیا میں
میرے ہونے سے یہاں آئی ہے پانی کی بہار
شاخ گریہ تھا سر دشت لگایا گیا میں
یہ تو اب عشق میں جی لگنے لگا ہے کچھ کچھ
اس طرف پہلے پہل گھیر کے لایا گیا میں
خوب اتنا تھا کہ دیوار پکڑ کر نکلا
اس سے ملنے کے لیے صورت سایہ گیا میں
تجھ سے کچھ کہنے کی ہمت ہی نہیں تھی ورنہ
ایک مدت تری دہلیز تک آیا گیا میں
خلوت خاص میں بلوانے سے پہلے تابشؔ
عام لوگوں میں بہت دیر بٹھایا گیا میں
عباس تابش
