106
اس راہ محبت میں تو آزار ملے ہیں
پھولوں کی تمنا تھی مگر خار ملے ہیں
انمول جو انساں تھا وہ کوڑی میں بکا ہے
دنیا کے کئی ایسے بھی بازار ملے ہیں
جس نے بھی مجھے دیکھا ہے پتھر سے نوازا
وہ کون ہیں پھولوں کے جنہیں ہار ملے ہیں
مالک یہ دیا آج ہواؤں سے بچانا
موسم ہے عجب آندھی کے آثار ملے ہیں
دنیا میں فقط ایک زلیخا ہی نہیں تھی
ہر یوسف ثانی کے خریدار ملے ہیں
اب ان کے نہ ملنے کی شکایت نہ گلہ ہے
ہم جب بھی ملے خود سے تو بے زار ملے ہیں
ناصرؔ یہ تمنا تھی محبت سے ملیں گے
وہ جب بھی ملے بر سر پیکار ملے ہیں
حکیم ناصر
