120
کل بزم کہکشاں میں ستاروں کی بھیڑ تھی
جلوے نظر نظر تھےنظاروں کی بھیڑ تھی
پھولوں کا انتخاب تھا خاروں کی بھیڑ تھی
عشرت کدے میں کرب کے ماروں کی بھیڑ تھی
صحرا نو ہیں وہ فریب نظر کے ساتھ
کل جن گلستاں میں بہاروں کی بھیڑ تھی
ہم کس طرح بچاتے سفینہ حیات کا
طوفاں بدوش موجوں میں دھاروں کی بھیڑ تھی
تنہا ہر ایک شخص تھا میری نگاہ میں
جس انجمن میں رات ہزاروں کی بھیڑ تھی
اس میکدے کا کس نے یہ نقشہ بدل دیا ۔
جس میکدے میں بادہ گساروں کی بھیڑ تھی
بے دست پا ہے آج وہ خود اپنی راہ میں
کل جن کے ہر قدم پہ سہاروں کی بھیڑ تھی
احساس کی تپش سے جھلستی رہی حیات
شعلوں کا رقص تھا نہ شراروں کی بھیڑ تھی
چشمہ نصیب ہوتی ہمیں کس طرح خوشی
محفل میں درد عشق کے ماروں کی بھیڑ تھی
چشمہ فاروقی

1 تبصرہ
Bohot khoob