خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباغربت میں جکڑا بچپن
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

غربت میں جکڑا بچپن

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 25, 2025
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 25, 2025 0 تبصرے 72 مناظر
73

پاکستان کے گلی کوچوں میں کھیلنے کی بجائے مزدوری کرنے والے بچے ہماری اجتماعی ناکامی کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ ننھے ہاتھ جن میں کھلونے یا کتابیں ہونی چاہئیں، وہ یا تو ورکشاپ کے اوزار تھامے ہیں، یا بھٹّوں کی اینٹیں ڈھو رہے ہیں، یا گھروں میں جھاڑو اور برتن سنبھال رہے ہیں۔ یہ منظر محض غربت کی کہانی نہیں بلکہ ہمارے معاشی نظام، تعلیمی کمزوریوں، سماجی بے حسی اور قانونی ناکامیوں کا مشترکہ نتیجہ ہے۔ ہر بچہ مزدور دراصل یہ سوال پوچھتا ہے کہ ہم نے اپنی آنے والی نسل کے خواب کتنے سستے بیچ ڈالے ہیں۔ اگر ہم نے ابھی فیصلہ نہ کیا تو یہ زخم صرف ان معصوموں کو نہیں بلکہ پوری قوم کے مستقبل کو گہرا کر دیں گے۔

چائلڈ لیبر: معاشرتی المیہ

چائلڈ لیبر صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں کی عکاسی ہے۔ پاکستان کی گلیوں، بازاروں اور گھروں میں لاکھوں بچے مختلف شکلوں میں مزدوری کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ منظر ہمارے لیے اب اجنبی نہیں رہا۔ صبح سویرے چھوٹے بچے اخبار بیچتے ہیں، شام ڈھلے ٹریفک سگنل پر معصوم ہاتھ گاڑیوں کے شیشے صاف کرتے ہیں، ہوٹلوں میں کم سن لڑکے وزنی دیگیں اٹھاتے ہیں، اور گھروں میں ننھی بچیاں فرش دھوتی یا برتن مانجتی ہیں۔
یونیسف کے مطابق پاکستان میں اندازاً ایک کروڑ سے زائد بچے مزدوری کر رہے ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو کھیلنے، پڑھنے اور خواب دیکھنے کے بجائے اپنی عمر کے سب سے خوبصورت دن مشقت کے بوجھ تلے گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ محض چند خاندانوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ایسا المیہ ہے جو ہماری آنے والی نسل کے مستقبل کو نگل رہا ہے۔

معیشت اور مجبوری

غربت چائلڈ لیبر کی سب سے بڑی جڑ ہے۔ پاکستان میں مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ عام گھرانے کا بجٹ آٹا، دال، چاول، سبزی اور بجلی کے بل میں ہی ختم ہو جاتا ہے۔ ایسے میں اسکول کی فیس، کتابیں، یونیفارم اور روزانہ کا جیب خرچ والدین کو اضافی بوجھ لگتا ہے۔
والدین کے سامنے ایک کڑا سوال کھڑا ہوتا ہے: کیا بچہ تعلیم حاصل کرے یا کچن کے اخراجات میں ہاتھ بٹائے؟ زیادہ تر گھرانے "حال” کی ضرورتوں کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اگر آج کھانا نہ ملے تو "مستقبل” کا خواب بیکار ہو جاتا ہے۔ یہی مجبوری بچوں کو تعلیم سے دور اور مزدوری کے قریب کر دیتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ غربت صرف پیسے کی کمی کا نام نہیں بلکہ امکانات کی کمی کا نام ہے۔ جب کسی ماں کے سامنے انتخاب یہ ہو کہ بچہ اسکول جائے یا شام کو گھر میں چولہا جلانے کے لیے مزدوری کرے، تو اس کی مجبوری کو "لاپروائی” کہنا زیادتی ہوگی۔

بے روزگاری اور ڈگری کی ناکامی

پاکستان میں لاکھوں نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے نوکریوں کی تلاش میں دربدر پھرتے ہیں۔ پچھلے چند برسوں کی رپورٹوں کے مطابق بیروزگاری کی شرح نوجوانوں میں 10 فیصد سے زیادہ ہے۔ والدین جب دیکھتے ہیں کہ تعلیم یافتہ نوجوان بھی بے روزگار ہیں تو ان کے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ "اگر ڈگری کے بعد بھی نوکری نہیں ملنی تو بچے کو ابھی سے ہنر کیوں نہ سکھایا جائے؟”
اسی سوچ کے تحت بچے ورکشاپس، کھیتوں اور ہوٹلوں میں بھیجے جاتے ہیں۔ والدین سمجھتے ہیں کہ کم از کم بچہ ایک عملی ہنر سیکھ لے گا، چاہے اسکول کی تعلیم ادھوری ہی رہ جائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بچپن میں مزدوری شروع کرنے والے بچے اکثر ایک محدود اور غیر محفوظ پیشے تک ہی محدود رہ جاتے ہیں۔

یہ سوچ کہ "ڈگری کا کوئی فائدہ نہیں” دراصل ہمارے نظامِ تعلیم اور معیشت کی کمزوری کا ثبوت ہے۔ اگر ڈگری کے ساتھ ہنر اور روزگار کے مواقع مہیا کیے جائیں تو والدین کبھی بچوں کو مزدوری پر مجبور نہ کریں۔

تعلیم کی کمزور بنیادیں

پاکستان کا تعلیمی نظام چائلڈ لیبر کے مسئلے کو کم کرنے کے بجائے کئی بار بڑھا دیتا ہے۔ یونیسف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں، جو دنیا میں سب سے زیادہ تعداد میں سے ایک ہے۔
سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے: اساتذہ کی کمی، عمارتوں کی خستہ حالی، بجلی اور پینے کے پانی کا مسئلہ، اور کئی دیہی علاقوں میں میلوں دور اسکول جانا۔ جب اسکول کا ماحول بچوں کو متوجہ کرنے کے بجائے انہیں خوفزدہ کرے، تو وہ تعلیم کے بجائے مزدوری کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔

مزید یہ کہ ہمارے اسکولوں کا نصاب اکثر غیر دلچسپ اور پرانا ہے۔ رٹہ سسٹم اور سزا پر مبنی تدریسی انداز بچوں میں بیزاری پیدا کرتا ہے۔ والدین یہ دیکھ کر سوچتے ہیں کہ اتنے اخراجات اور قربانیوں کے باوجود اگر تعلیم بچے کو بہتر مستقبل نہیں دیتی تو پھر مزدوری ہی بہتر ہے۔

مزدور بچے: خطرات کی دنیا

چائلڈ لیبر کے ساتھ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ بچے انتہائی خطرناک ماحول میں کام کرتے ہیں۔ ورکشاپ میں ننگی تاریں، تیز دھار اوزار اور بھاری مشینیں معصوم ہاتھوں کے لیے مہلک ہیں۔ بھٹّوں پر دھوپ اور آگ کی تپش بچوں کے جسم کو جھلسا دیتی ہے۔ کھیتوں میں کیمیائی ادویات کے استعمال سے ان کی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ ہوٹلوں اور ریستورانوں میں دیگوں کا وزن اور گرما گرم تیل ان کے لیے ہر لمحہ خطرہ ہے۔

ان کاموں کے نتیجے میں اکثر بچے مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں: سانس کی بیماریاں، جلدی امراض، غذائی قلت، ہڈیوں کی کمزوری اور نظر کی خرابیاں۔ لیکن ان سب سے بڑھ کر، یہ بچے ایک مستقل خوف اور تحقیر کے ماحول میں پلتے ہیں جس سے ان کی شخصیت اور اعتماد مجروح ہو جاتا ہے۔

جنسی استحصال کا سیاہ پہلو

چائلڈ لیبر کے مسئلے کا سب سے دردناک پہلو جنسی استحصال ہے۔ گھریلو ملازمت کرنے والی بچیاں سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔ بند گھروں میں ان پر تشدد، ہراسانی اور استحصال کے واقعات ہوتے ہیں مگر زیادہ تر کیسز منظرِ عام پر نہیں آتے۔ خوفِ بدنامی اور انصاف تک رسائی کی مشکلات انہیں خاموش رکھتی ہیں۔
یہ المیہ ہمارے سماج کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے کہ ہم ان معصوم بچوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔

قانون اور نفاذ کی ناکامی

پاکستان میں چائلڈ لیبر کے خلاف قوانین موجود ہیں۔ آئین میں جبری مشقت پر پابندی ہے اور مختلف ایکٹ بچوں کی کم عمری میں مزدوری روکنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ لیکن ان قوانین کا نفاذ کمزور ہے۔ لیبر انسپیکشن کے ادارے محدود ہیں، عدالتی عمل سست ہے اور جرمانے اتنے کم ہیں کہ مالکان انہیں ہنس کر ادا کر دیتے ہیں۔

اس طرح قوانین صرف کاغذ پر رہ جاتے ہیں جبکہ عملی طور پر لاکھوں بچے روزانہ مزدوری کرتے ہیں۔ قانون اگر طاقت ور ہو اور اس پر سختی سے عمل ہو تو چائلڈ لیبر کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

ممکنہ حل اور عملی اقدامات

1. فوری ریلیف

ایسے خاندانوں کو مالی امداد دینا ضروری ہے جن کے بچے اسکول جانے کے بجائے مزدوری پر مجبور ہیں۔ اگر حکومت اسکول جانے والے ہر بچے کو ماہانہ وظیفہ دے، کتابیں اور یونیفارم مفت فراہم کرے اور اسکول میں کھانے کا انتظام کرے تو والدین کے معاشی خدشات کم ہو سکتے ہیں۔

2. تعلیم کو کارآمد بنانا

تعلیم کو جدید اور عملی بنانا ہوگا۔ نصاب میں ڈیجیٹل لٹریسی، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، اور زندگی کے ہنر شامل کیے جائیں۔ اساتذہ کو تربیت دی جائے تاکہ وہ بچوں کو محبت اور ہمدردی سے پڑھائیں، سزا اور ڈانٹ کے ذریعے نہیں۔ اگر اسکول ایک محفوظ اور خوشگوار جگہ ہوگا تو والدین بھی بچوں کو وہاں بھیجنے میں دلچسپی لیں گے۔

3. ہنر اور روزگار کا ربط

ہمارے تعلیمی اداروں کو صنعت اور مارکیٹ کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ اگر بچے یہ دیکھیں کہ تعلیم کے بعد انہیں بہتر روزگار ملے گا تو وہ اسکول سے جڑے رہیں گے۔ ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کو جدید بنانا اس سلسلے میں ناگزیر ہے۔

4. قانون کا سخت نفاذ

قانون کو صرف کاغذ پر نہیں بلکہ گلی، فیکٹری اور گھر تک پہنچنا ہوگا۔ چائلڈ لیبر کروانے والے مالکان پر سخت کارروائی، بھاری جرمانے اور سزائیں ضروری ہیں۔ گھریلو ملازمت میں کم سن بچوں پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔

5. سماجی شعور

میڈیا، دینی قیادت اور سماجی تنظیمیں یہ پیغام عام کریں کہ "بچہ مزدور نہیں، متعلم ہے”۔ اگر سماجی دباؤ بڑھے تو لوگ بھی بچوں کو ملازمت دینے سے ہچکچائیں گے۔

والدین اور معاشرتی ذمہ داری

والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بچے کی مزدوری وقتی سہارا ہے مگر مستقل نقصان۔ کمیونٹی کی سطح پر اسکول کے بعد تعلیمی مراکز، والدین کی آگاہی کلاسز، اور بچوں کے لیے محفوظ کھیلنے کی جگہیں اس سوچ کو بدل سکتی ہیں۔ اسی طرح گھریلو ملازمت دینے والوں پر بھی لازم ہونا چاہیے کہ وہ کم سن بچوں کو ملازمت نہ دیں اور اگر ملازمت دیں تو باضابطہ معاہدہ اور اوقات کار کے اصول طے کریں۔

کاروباری شعبہ اور عالمی منڈی

چائلڈ لیبر صرف سماجی نہیں بلکہ معاشی مسئلہ بھی ہے۔ دنیا کی بڑی مارکیٹیں "چائلڈ لیبر فری” مصنوعات کو ترجیح دیتی ہیں۔ اگر ہمارے کارخانے اور صنعتیں چائلڈ لیبر کا سہارا لیں گی تو عالمی مارکیٹ میں ہماری برآمدات متاثر ہوں گی۔ لہٰذا نجی شعبے کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ ذمہ دار کاروبار صرف منافع نہیں دیکھتا بلکہ اپنے کارکن اور ان کے بچوں کی خوشحالی کو بھی اہمیت دیتا ہے۔

حرف آخر
چائلڈ لیبر صرف ایک قانونی جرم نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر کا امتحان ہے۔ وہ معاشرہ جو اپنے بچوں کو تعلیم اور کھیل کے حق سے محروم کرے، وہ اپنے مستقبل کو خود ہی برباد کرتا ہے۔
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے:
کیا ہم اپنے بچوں کو سستا مزدور سمجھ کر ان کے بچپن کا سودا کریں گے یا انہیں قیمتی سرمایہ مان کر تعلیم اور تحفظ دیں گے؟ اگر ریاست، سماج، والدین اور کاروباری طبقہ ایک ساتھ قدم اٹھائے تو غربت میں جکڑا بچپن بھی ایک روشن مستقبل میں بدل سکتا ہے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کہا ہے تجھ سے بارہا وجودیت
  • وحشتوں کا نصاب تھوڑی ہے
  • سمندر کے نام ایک غنائیہ
  • لگ کے دیـوار سـے ہــے کـھڑا آئنـہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
حالی اور اردو
پچھلی پوسٹ
پاک افغان تعلقات

متعلقہ پوسٹس

دیودار کے درخت

دسمبر 29, 2019

مجھ کو دے دے خوشی محبت کی

مارچ 3, 2020

سفرنامہ بھارت – آخری قسط

نومبر 2, 2019

توبۃ النصوح – فصل پنجم

اکتوبر 30, 2020

تہذیبِ تنہائی

جنوری 8, 2025

کوئی یقین نہ رکھتا فقط گماں رکھتا

نومبر 11, 2025

الف لیلہ کی ایک رات

مئی 20, 2020

درد ہونٹوں میں جو دبا رہے گا

اکتوبر 28, 2020

درد بے لگام ہو گئے

دسمبر 11, 2022

عورت اور ماں

مئی 21, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اسلامی اِنقلاب اور ادب

دسمبر 15, 2019

عطار کے مسکن میں یہ کیسی...

مئی 3, 2020

خسارے کی اجازت

اکتوبر 24, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں