خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباغربت میں جکڑا بچپن
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

غربت میں جکڑا بچپن

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 25, 2025
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 25, 2025 0 تبصرے 63 مناظر
64

پاکستان کے گلی کوچوں میں کھیلنے کی بجائے مزدوری کرنے والے بچے ہماری اجتماعی ناکامی کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ ننھے ہاتھ جن میں کھلونے یا کتابیں ہونی چاہئیں، وہ یا تو ورکشاپ کے اوزار تھامے ہیں، یا بھٹّوں کی اینٹیں ڈھو رہے ہیں، یا گھروں میں جھاڑو اور برتن سنبھال رہے ہیں۔ یہ منظر محض غربت کی کہانی نہیں بلکہ ہمارے معاشی نظام، تعلیمی کمزوریوں، سماجی بے حسی اور قانونی ناکامیوں کا مشترکہ نتیجہ ہے۔ ہر بچہ مزدور دراصل یہ سوال پوچھتا ہے کہ ہم نے اپنی آنے والی نسل کے خواب کتنے سستے بیچ ڈالے ہیں۔ اگر ہم نے ابھی فیصلہ نہ کیا تو یہ زخم صرف ان معصوموں کو نہیں بلکہ پوری قوم کے مستقبل کو گہرا کر دیں گے۔

چائلڈ لیبر: معاشرتی المیہ

چائلڈ لیبر صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں کی عکاسی ہے۔ پاکستان کی گلیوں، بازاروں اور گھروں میں لاکھوں بچے مختلف شکلوں میں مزدوری کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ منظر ہمارے لیے اب اجنبی نہیں رہا۔ صبح سویرے چھوٹے بچے اخبار بیچتے ہیں، شام ڈھلے ٹریفک سگنل پر معصوم ہاتھ گاڑیوں کے شیشے صاف کرتے ہیں، ہوٹلوں میں کم سن لڑکے وزنی دیگیں اٹھاتے ہیں، اور گھروں میں ننھی بچیاں فرش دھوتی یا برتن مانجتی ہیں۔
یونیسف کے مطابق پاکستان میں اندازاً ایک کروڑ سے زائد بچے مزدوری کر رہے ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو کھیلنے، پڑھنے اور خواب دیکھنے کے بجائے اپنی عمر کے سب سے خوبصورت دن مشقت کے بوجھ تلے گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ محض چند خاندانوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ایسا المیہ ہے جو ہماری آنے والی نسل کے مستقبل کو نگل رہا ہے۔

معیشت اور مجبوری

غربت چائلڈ لیبر کی سب سے بڑی جڑ ہے۔ پاکستان میں مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ عام گھرانے کا بجٹ آٹا، دال، چاول، سبزی اور بجلی کے بل میں ہی ختم ہو جاتا ہے۔ ایسے میں اسکول کی فیس، کتابیں، یونیفارم اور روزانہ کا جیب خرچ والدین کو اضافی بوجھ لگتا ہے۔
والدین کے سامنے ایک کڑا سوال کھڑا ہوتا ہے: کیا بچہ تعلیم حاصل کرے یا کچن کے اخراجات میں ہاتھ بٹائے؟ زیادہ تر گھرانے "حال” کی ضرورتوں کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اگر آج کھانا نہ ملے تو "مستقبل” کا خواب بیکار ہو جاتا ہے۔ یہی مجبوری بچوں کو تعلیم سے دور اور مزدوری کے قریب کر دیتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ غربت صرف پیسے کی کمی کا نام نہیں بلکہ امکانات کی کمی کا نام ہے۔ جب کسی ماں کے سامنے انتخاب یہ ہو کہ بچہ اسکول جائے یا شام کو گھر میں چولہا جلانے کے لیے مزدوری کرے، تو اس کی مجبوری کو "لاپروائی” کہنا زیادتی ہوگی۔

بے روزگاری اور ڈگری کی ناکامی

پاکستان میں لاکھوں نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے نوکریوں کی تلاش میں دربدر پھرتے ہیں۔ پچھلے چند برسوں کی رپورٹوں کے مطابق بیروزگاری کی شرح نوجوانوں میں 10 فیصد سے زیادہ ہے۔ والدین جب دیکھتے ہیں کہ تعلیم یافتہ نوجوان بھی بے روزگار ہیں تو ان کے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ "اگر ڈگری کے بعد بھی نوکری نہیں ملنی تو بچے کو ابھی سے ہنر کیوں نہ سکھایا جائے؟”
اسی سوچ کے تحت بچے ورکشاپس، کھیتوں اور ہوٹلوں میں بھیجے جاتے ہیں۔ والدین سمجھتے ہیں کہ کم از کم بچہ ایک عملی ہنر سیکھ لے گا، چاہے اسکول کی تعلیم ادھوری ہی رہ جائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بچپن میں مزدوری شروع کرنے والے بچے اکثر ایک محدود اور غیر محفوظ پیشے تک ہی محدود رہ جاتے ہیں۔

یہ سوچ کہ "ڈگری کا کوئی فائدہ نہیں” دراصل ہمارے نظامِ تعلیم اور معیشت کی کمزوری کا ثبوت ہے۔ اگر ڈگری کے ساتھ ہنر اور روزگار کے مواقع مہیا کیے جائیں تو والدین کبھی بچوں کو مزدوری پر مجبور نہ کریں۔

تعلیم کی کمزور بنیادیں

پاکستان کا تعلیمی نظام چائلڈ لیبر کے مسئلے کو کم کرنے کے بجائے کئی بار بڑھا دیتا ہے۔ یونیسف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں، جو دنیا میں سب سے زیادہ تعداد میں سے ایک ہے۔
سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے: اساتذہ کی کمی، عمارتوں کی خستہ حالی، بجلی اور پینے کے پانی کا مسئلہ، اور کئی دیہی علاقوں میں میلوں دور اسکول جانا۔ جب اسکول کا ماحول بچوں کو متوجہ کرنے کے بجائے انہیں خوفزدہ کرے، تو وہ تعلیم کے بجائے مزدوری کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔

مزید یہ کہ ہمارے اسکولوں کا نصاب اکثر غیر دلچسپ اور پرانا ہے۔ رٹہ سسٹم اور سزا پر مبنی تدریسی انداز بچوں میں بیزاری پیدا کرتا ہے۔ والدین یہ دیکھ کر سوچتے ہیں کہ اتنے اخراجات اور قربانیوں کے باوجود اگر تعلیم بچے کو بہتر مستقبل نہیں دیتی تو پھر مزدوری ہی بہتر ہے۔

مزدور بچے: خطرات کی دنیا

چائلڈ لیبر کے ساتھ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ بچے انتہائی خطرناک ماحول میں کام کرتے ہیں۔ ورکشاپ میں ننگی تاریں، تیز دھار اوزار اور بھاری مشینیں معصوم ہاتھوں کے لیے مہلک ہیں۔ بھٹّوں پر دھوپ اور آگ کی تپش بچوں کے جسم کو جھلسا دیتی ہے۔ کھیتوں میں کیمیائی ادویات کے استعمال سے ان کی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ ہوٹلوں اور ریستورانوں میں دیگوں کا وزن اور گرما گرم تیل ان کے لیے ہر لمحہ خطرہ ہے۔

ان کاموں کے نتیجے میں اکثر بچے مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں: سانس کی بیماریاں، جلدی امراض، غذائی قلت، ہڈیوں کی کمزوری اور نظر کی خرابیاں۔ لیکن ان سب سے بڑھ کر، یہ بچے ایک مستقل خوف اور تحقیر کے ماحول میں پلتے ہیں جس سے ان کی شخصیت اور اعتماد مجروح ہو جاتا ہے۔

جنسی استحصال کا سیاہ پہلو

چائلڈ لیبر کے مسئلے کا سب سے دردناک پہلو جنسی استحصال ہے۔ گھریلو ملازمت کرنے والی بچیاں سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔ بند گھروں میں ان پر تشدد، ہراسانی اور استحصال کے واقعات ہوتے ہیں مگر زیادہ تر کیسز منظرِ عام پر نہیں آتے۔ خوفِ بدنامی اور انصاف تک رسائی کی مشکلات انہیں خاموش رکھتی ہیں۔
یہ المیہ ہمارے سماج کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے کہ ہم ان معصوم بچوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔

قانون اور نفاذ کی ناکامی

پاکستان میں چائلڈ لیبر کے خلاف قوانین موجود ہیں۔ آئین میں جبری مشقت پر پابندی ہے اور مختلف ایکٹ بچوں کی کم عمری میں مزدوری روکنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ لیکن ان قوانین کا نفاذ کمزور ہے۔ لیبر انسپیکشن کے ادارے محدود ہیں، عدالتی عمل سست ہے اور جرمانے اتنے کم ہیں کہ مالکان انہیں ہنس کر ادا کر دیتے ہیں۔

اس طرح قوانین صرف کاغذ پر رہ جاتے ہیں جبکہ عملی طور پر لاکھوں بچے روزانہ مزدوری کرتے ہیں۔ قانون اگر طاقت ور ہو اور اس پر سختی سے عمل ہو تو چائلڈ لیبر کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

ممکنہ حل اور عملی اقدامات

1. فوری ریلیف

ایسے خاندانوں کو مالی امداد دینا ضروری ہے جن کے بچے اسکول جانے کے بجائے مزدوری پر مجبور ہیں۔ اگر حکومت اسکول جانے والے ہر بچے کو ماہانہ وظیفہ دے، کتابیں اور یونیفارم مفت فراہم کرے اور اسکول میں کھانے کا انتظام کرے تو والدین کے معاشی خدشات کم ہو سکتے ہیں۔

2. تعلیم کو کارآمد بنانا

تعلیم کو جدید اور عملی بنانا ہوگا۔ نصاب میں ڈیجیٹل لٹریسی، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، اور زندگی کے ہنر شامل کیے جائیں۔ اساتذہ کو تربیت دی جائے تاکہ وہ بچوں کو محبت اور ہمدردی سے پڑھائیں، سزا اور ڈانٹ کے ذریعے نہیں۔ اگر اسکول ایک محفوظ اور خوشگوار جگہ ہوگا تو والدین بھی بچوں کو وہاں بھیجنے میں دلچسپی لیں گے۔

3. ہنر اور روزگار کا ربط

ہمارے تعلیمی اداروں کو صنعت اور مارکیٹ کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ اگر بچے یہ دیکھیں کہ تعلیم کے بعد انہیں بہتر روزگار ملے گا تو وہ اسکول سے جڑے رہیں گے۔ ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کو جدید بنانا اس سلسلے میں ناگزیر ہے۔

4. قانون کا سخت نفاذ

قانون کو صرف کاغذ پر نہیں بلکہ گلی، فیکٹری اور گھر تک پہنچنا ہوگا۔ چائلڈ لیبر کروانے والے مالکان پر سخت کارروائی، بھاری جرمانے اور سزائیں ضروری ہیں۔ گھریلو ملازمت میں کم سن بچوں پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔

5. سماجی شعور

میڈیا، دینی قیادت اور سماجی تنظیمیں یہ پیغام عام کریں کہ "بچہ مزدور نہیں، متعلم ہے”۔ اگر سماجی دباؤ بڑھے تو لوگ بھی بچوں کو ملازمت دینے سے ہچکچائیں گے۔

والدین اور معاشرتی ذمہ داری

والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بچے کی مزدوری وقتی سہارا ہے مگر مستقل نقصان۔ کمیونٹی کی سطح پر اسکول کے بعد تعلیمی مراکز، والدین کی آگاہی کلاسز، اور بچوں کے لیے محفوظ کھیلنے کی جگہیں اس سوچ کو بدل سکتی ہیں۔ اسی طرح گھریلو ملازمت دینے والوں پر بھی لازم ہونا چاہیے کہ وہ کم سن بچوں کو ملازمت نہ دیں اور اگر ملازمت دیں تو باضابطہ معاہدہ اور اوقات کار کے اصول طے کریں۔

کاروباری شعبہ اور عالمی منڈی

چائلڈ لیبر صرف سماجی نہیں بلکہ معاشی مسئلہ بھی ہے۔ دنیا کی بڑی مارکیٹیں "چائلڈ لیبر فری” مصنوعات کو ترجیح دیتی ہیں۔ اگر ہمارے کارخانے اور صنعتیں چائلڈ لیبر کا سہارا لیں گی تو عالمی مارکیٹ میں ہماری برآمدات متاثر ہوں گی۔ لہٰذا نجی شعبے کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ ذمہ دار کاروبار صرف منافع نہیں دیکھتا بلکہ اپنے کارکن اور ان کے بچوں کی خوشحالی کو بھی اہمیت دیتا ہے۔

حرف آخر
چائلڈ لیبر صرف ایک قانونی جرم نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر کا امتحان ہے۔ وہ معاشرہ جو اپنے بچوں کو تعلیم اور کھیل کے حق سے محروم کرے، وہ اپنے مستقبل کو خود ہی برباد کرتا ہے۔
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے:
کیا ہم اپنے بچوں کو سستا مزدور سمجھ کر ان کے بچپن کا سودا کریں گے یا انہیں قیمتی سرمایہ مان کر تعلیم اور تحفظ دیں گے؟ اگر ریاست، سماج، والدین اور کاروباری طبقہ ایک ساتھ قدم اٹھائے تو غربت میں جکڑا بچپن بھی ایک روشن مستقبل میں بدل سکتا ہے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • رشید حسرت کی شاعری کا تجزیاتی مطالعہ
  • لوگو! مُجھے اِس شہر کے آداب سکھا دو
  • بھلے لوگوں میں ہوں تو میں بھلی ہوں
  • جوہرِ طین
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
حالی اور اردو
پچھلی پوسٹ
پاک افغان تعلقات

متعلقہ پوسٹس

دیپ جلتا ہوا دامن سے بجھایا ہم نے

جولائی 15, 2020

میرے دامن پہ عجب داغ لگا کر سائیاں

مئی 31, 2020

نظروں کی گفتگو کہیں تحریر تو نہیں

مارچ 12, 2020

مرے وجود کی جاگیر اس نے مانگی ہے

نومبر 30, 2019

اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے

جولائی 4, 2020

ماورا وقت سے اور سود و زیاں سے آگے

اکتوبر 16, 2025

یہ لوگ کسی سے بھی رعایت نہیں کرتے

اکتوبر 24, 2025

آنکھیں

دسمبر 9, 2019

کیا پاکستان میں تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں؟

اپریل 26, 2026

غزل گائیکی کی 110 سال کی ہوشربا داستان

نومبر 6, 2017

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

طمانچہ

نومبر 29, 2019

موذی

جنوری 3, 2020

چاکِ خیال جوڑ کے کچھ اور...

فروری 24, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں