101
دیپ جلتا ہوا دامن سے بجھایا ہم نے
رات کو رقص کیا ہجر منایا ہم نے
گھر بنانے کی تمنا تھی ادھوری ہی رہی
ایک نقشہ تو بہر حال بنایا ہم نے
روٹھنے والا کسی طور بھی مانا ہی نہیں
اس کو اک گیت کا مکھڑا بھی سنایا ہم نے
ایک دو چار سہی جھیل میں کنکر پھینکے
اپنے ہونے کا تو احساس دلایا ہم نے
یہ جو منصور ہیں ، تبریز ہیں مرتے ہی نہیں
کھال کھینچی بھی ، کبھی دار چڑھایا ہم نے
کتنا مشکل تھا فرشتے بھی گریزاں ہی رہے
یہ ترا بارِ امانت بھی اٹھایا ہم نے
افتخار شاھد
