430
بھڑکے ہوئے شعلوں کو ہوائیں نہیں دیتے
جاتے ہوئے لمحوں کو صدائیں نہیں دیتے
مانا یہی فطرت ہے مگر اس کو بدل دو
بدلے میں وفاؤں کے جفائیں نہیں دیتے
گر پھول نہیں دیتے تو کاٹتے بھی تو مت دو
مُسکان نہ دینی ہو تو آہیں نہیں دیتے
تم نے جو کیا، اچھا کیا، ہاں یہ گلا ہے
منزل نہ ہو جس کی تو وہ راہیں نہیں دیتے
یہ بار کہیں خود ہی اُٹھانا نہ پڑے کل
اوروں کو بچھڑنے کی دعائیں نہیں دیتے
فاخرہ بتول
