115
اک حسیں دشت میں پر نور نظارہ دیکھا
ہم نے افلاک پہ خوش بخت ستارا دیکھا
ہیں بہت اعلی و ارفع بھی ملائک لیکن
سایہ ہم نے یہاں انسان کا اونچا دیکھا
جن کو ہوتا ہے بہت شوق بلندی کا انہیں
شوق پرواز ہمالہ پہ ہے رسوا دیکھا
جا کوئی کر لے تدارک مرے وجدان نے تو
ایک ہنگامہ تری بزم میں برپا دیکھا
اور تو کچھ نہ ملا تیرے عناصر سے مجھے
اک ترا دل ہی تو ہمدوش ثریا دیکھا
ڈوب جاتے ہیں کناروں پہ شناور سیمیں
میری آنکھوں نے تو اکثر یہ تماشا دیکھا
نسیم شاہانہ
