100
پگڑیاں بیچ کے انسان کماتا کیا ہے
سب کو معلوم ہے اوقات دکھاتا کیا ہے
جس نے تنہائی کی بانہوں میں گزاری ہو حیات
تو اسے چھوڑ کے جانے سے ڈراتا کیا ہے
بوجھ رکھا یا کہیں کوئی سہارا مانگا ؟
ساتھ چلنے سے مرے ، آپکا جاتا کیا ہے ؟
میری جیبوں میں محبت کے ہیں سکے لیکن
آج کے دور میں ان سکوں سے آتا کیا ہے
باتوں باتوں میں وہ اک بات کیا کرتا تھا
میں بڑی دیر سے سمجھی کہ سناتا کیا ہے۔
اس کو سو بار بچھڑ کر بھی پکارا دل نے
اس سے معلوم نہیں روح کا ناتا کیا ہے
فوزیہ شیخ
