363
تیرے ہونے کا یقیں تجھ کو دلایا تھا کبھی
تیرے ہونے کا یقیں تجھ کو دلایا تھا کبھی
میں نے اے شخص تجھے جینا سکھایا تھا کبھی
آخر اک روز مجھے تجھ سے نکلنا تھا کہ میں
وہم کی طرح ترے ذہن میں آیا تھا کبھی
مہ جبیں یاد دلایا تری پیشانی نے
میں نے بھی ایک چراغ اپنا جلایا تھا کبھی
تجھ سے تعبیر نہیں مانگی مگر یاد تو کر
تو نے ان آنکھوں کو اک خواب دکھایا تھا کبھی
اب لہو تھوک رہا ہے وہ تری فرقت میں
جس نے محفل میں تری رنگ جمایا تھا کبھی
تو جنہیں کاٹ رہا ہے بڑی بے دردی سے
انہی ہاتھوں سے تجھے میں نے بنایا تھا کبھی
بس اسی جرم نے گریہ میں مجھے رکھا ندیمؔ
میں نے اک شخص کو جی بھر کے ہنسایا تھا کبھی
